مٹھاس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
اسٹرابیری سے بننے والی ایک پیسٹری۔

مٹھاس یا شیرینی (انگریزی: Sweetness) ایک بنیادی مزہ ہے جسے ایسی غذاؤں کو کھاتے ہوئے لوگ محسوس کرتے ہیں جو شکر سے بنی ہوں۔ مٹھاس کو عام طور سے لبھاؤنا تصور کیا جاتا ہے، جب تک اسے بہت زیادہ مقدار میں نہ لیا جائے۔ کچھ لوگوں میں ذیابیطس کی شکایت ہوتی ہے، ایسے لوگ عمومًا میٹھی غذاؤں سے بچتے ہیں یا انہیں بہ قدر ضرورت لیتے ہیں۔ اس کے علاوہ جو لوگ وزن کم کرنے یا اسے متوازن کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ لوگ بھی شکر کو کم سے کم لیا کرتے ہیں۔

وہ میٹھی غذا جسے ہم اضافی مٹھاس کے طور پر کھاتے ہیں اس میں چینی، سویٹنرز، شہد اور پھلوں کے جوس شامل ہیں اسے کشید کرنے کے بعد صاف کرکے خوراک اور مشروبات میں ذائقہ بڑھانے کے لیے شامل کیا جاتا ہے۔ پرانے دور کی نسبت میٹھے کا استعمال کم صحت مند ہے اور آج یہی میٹھا لوگوں کی صحت کا اولین دشمن بنا ہوا ہے۔ پھلوں اور گنے سے حاصل ہونے والی مٹھاس فرکٹوز کی 150 گرام یومیہ مقدار پر مشتمل خوراک انسولین کی حساسیت کو کم کر دیتی ہے۔ دوسری جانب نئی تحقیق کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ غذا میں شوگر یا قدرتی مٹھاس کا بھی زیادہ استعمال قوت مدافعت کمزور بنا کر متعدد بیماریوں کا سبب بن سکتا ہے۔[1]

ایسے میں عمومًا ماہرین غذائیت یہ مشورہ دیتے ہیں کہ شکر یا اس کی آمیزش والی غذاؤں کا استعمال اعتدال سے کیا جانا چاہیے۔ اس میں بہت زیادہ لینا صحت کے لیے مضر ہے۔ اسی طرح سے کبھی کبھار لوگوں کی شکر کی سطح یک لخت کم ہو جاتی ہے۔ ایسے وقتوں میں بہ طور خاص زیادہ شکر کا استعمال مفید سمجھا جاتا ہے۔

مٹھاس کی ضد کھٹاس ہے۔ یہ کھٹے پھلوں، جیسے کہ کیری یا کھٹی سبزیوں جیسے کہ کریلا کے استعمال کے بعد محسوس ہونے والا احساس ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]