مچھلی خور بلی
| مچھلی خور بلی | |
|---|---|
| اوہائیو کے ایک چڑیا گھر میں | |
| بقا کی صورت حال | |
| سائنسی درجہ بندی | |
| اقلیم: | حیوانات |
| قوم: | حبلیات |
| فصیلہ: | گوشت خور |
| خاندان: | گربہ خو |
| جنس: | Prionailurus |
| نوع: | P. viverrinus
|
| دہرا نام | |
| Prionailurus viverrinus (Bennett، 1833)
| |
| 2016ء تک مچھلی خور بلی کا پھیلاؤ[1] | |
مچھلی خور بلی (Prionailurus viverrinus) جنوب اور جنوب مشرقی ایشیا کی ایک درمیانے قد کی جنگلی بلی ہے۔ اس کا سمور گہرا زرد مائل سرمئی اور سیاہ لکیروں اور دھبوں والا ہوتا ہے۔ بالغ بلی کی لمبائی سر سے جسم تک 57 سے 78 سینٹی میٹر (22 سے 31 انچ) اور دم کی لمبائی 20 سے 30 سینٹی میٹر (8 سے 12 انچ) ہوتی ہے۔ نر بلی مادہ کے مقابلے میں بڑی ہوتی ہے وزن 8 سے 17 کلوگرام (18 سے 37 پاؤنڈ) تک ہوتا ہے جبکہ مادہ کا اوسط وزن 5 سے 9 کلوگرام (11 سے 20 پاؤنڈ) ہے۔ یہ زیادہ تر مرطوب زمینوں، ندیوں، آب جوؤں، کمانی دار جھیلوں، دلدلوں اور چمرنگوں کے قریب رہتی ہے جہاں یہ بنیادی طور پر مچھلی پر گزارا کرتی ہے۔ اس کے شکار میں دیگر پرندے، کیڑے، چھوٹے کترنے والے جانور، نرم گھونگے، رینگنے والے جانور بشمول سانپ، جل تھلیے اور گائے کے لاشے بھی شامل ہیں۔ مچھلی خور بلی عموماً رات کے وقت سرگرم رہتی ہے۔ یہ ماہر تیراک ہوتی ہے اور لمبی دوری تک تیرتی ہے حتیٰ کہ پانی کے اندر بھی تیر سکتی ہے۔
مچھلی خور بلی کو 2016ء سے عالمی انجمن برائے بقائے ماحول کی سرخ فہرست میں غیر محفوظ (vulnerable) قرار دیا گیا ہے کیونکہ عالمی آبادی میں گذشتہ تین نسلوں (2010ء–2015ء) کے دوران تقریباً 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ دلدلی علاقوں کا خاتمہ اور مقامی لوگوں کی جانب سے شکار اس کے لیے سب سے بڑے خطرات ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ^ ا ب پ Mukherjee, S.; Appel, A.; Adhya, T.; Aziz, M.A.; Borah, J.; Chakraborty, S.; Dey, A.; Herranz Muñoz, V.; Kantimahanti, M.; Kittle, A.; Mahar, J.A.; Mishra, R.; Naing Lin; Ngoprasert, D.; Phosri, K.; Qureshi, Q.; Rana, D.; Ratnayaka, A.; Tantipisanuh, N.; Watson, A.C. (2025). "Prionailurus viverrinus". IUCN Red List of Threatened Species (بزبان انگریزی). 2025 e.T18150A268618387.