مکاتبات امام غزالی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مکاتبات امام غزالی محمد غزالی کی خط کتابت پر مبنی اک کتاب ہے جس کی ترتیب و تدوین ان کے بھائی احمد غزالی نے کی۔ اس کتاب میں انھوں نے اپنے وقت کی مقتدر اور اہم شخصیات خطوط ارسال کئےجو پند و نصیحت اور حکمت و موعظت کا نادر شاہکارہیں۔ ان خطوط میں امام غزالی کی سیاسی بصیرت و دانائی بخوبی محسوس ہوتی ہے۔

امام محمد غزالی 1058 میں طوس میں پیدا ہوئے ۔ امام الحرمین عبدالملک جوینی کے قابل فخر شاگرد رہے۔ نظام الملک طوسی نے بغداد کے مدرسہ نظامیہ کی صدارت آپ کو دی۔

اس کتاب کی تدوین جدید امجد عزیز نے کی ہے اور تقدیم و نظر ثانی پروفیسر محمد نصر اللہ معینی نے کی جو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کے صدر شعبہ عربی ہیں۔ پاکستان میں اشاعت اول سال 2002 میں ہے۔ کتاب زاویہ فاؤنڈیشن کی طرف سے پیش کی گئی ہے۔[1]

کتاب کے اہم عنوانات[ترمیم]

کتاب کے آغاز میں محمد نصراللہ معینی نے امام غزالی کی زندگی کا مختصر جائزہ لیا ہے جس میں ان کی حق گوئی و بیباکی، خدمت خلق اور جاہ و منصب سے گریز کو اجاگر کیا ہے۔

امام احمد غزالی[ترمیم]

امام غزالی کے مکاتبات ان کے برادر خورد احمد غزالی کے مرتب کردہ ہیں جو اپنے بھائی کے ہم مکتب بھی رہے اور کمال علم کے ساتھی بھی۔ امام احمد غزالی تصوف کا ذوق رکھتے تھے، تصوف کے ساتھ ساتھ وعظ و ارشاد میں بھی مصروف رہتے تھے۔ صاعد بن فارس نے احمد غزالی کے مواعظ کو باقاعدہ قلمبند کیا ہے اور آپ کے تفسیری نکات اور رموز تصوف بیان کیے ہیں۔احمد غزالی اپنے بڑے بھائی محمد غزالی کی صدر نشینی اور تدریس کو ترک کردینے کے بعد جامعہ نظامیہ میں طلبہ کو پڑھاتے رہے۔ احیائے علوم کی ایک شرح لباب الاحیاء ان کی تصنیف ہے اس کے علاوہ الذخیرۃ فی علم البصیرۃ بھی آپ کی علمی کاوش ہے۔ نفحات الانس میں مولانا جامی نے بتایا ہے کہ فخرالدین عراقی کی "لمعات" کتاب احمد غزالی کی فارسی کتاب "سوانح" پر مبنی ہے۔  آپ کا وصال 517 ہجری میں ہوا اور مزار قزوین میں ہے۔

کتاب کے ابواب[ترمیم]

کتاب کو پانچ ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔

  • باب اول میں سلاطین کے مکتوبات امام غزالی کے نام اور امام غزالی کے مکتوبات سلاطین کے نام
  • باب دوم میں امام غزالی کے خطوط وزرا کے نام
  • باب سوم میں عمائدین سلطنت اور امرا کے نام خطوط
  • باب چہارم میں امام غزالی کے مکتوبات فقہا اور ائمہ کے نام
  • باب پنجم میں مختلف لوگوں کی طرف پند و نصائح پر مشتمل خطوط

المکتبہ جدیدیہ پر امام غزالی کے خطوط انگریزی ، فارسی اور بنگالی زبان میں ترجمہ کرکے پیش کیے گئے ہیں۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مکاتبات امام غزالی ، امجد عزیز ، زاویہ فاؤنڈیشن  
  2. امام غزالی کے خطوط، مکتبہ جدیدیہ