مکالمہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

مکالمہ (انگریزی: Dialogue یا dialog) تحریر یا گفتگو کے دوران ایسی بات چیت کو کہتے ہیں، جو دو افراد کے درمیاں ہو یا کسی ادبی تصنیف یا ڈرامے کے صورت میں اسٹیج پر پیش کیا جائے۔ بیانیہ یا فلسفانہ گفتگو کی شروعات مغربی ادب اور روایات کے مطابق سقراط کے مکالموں سے ہوئی جن کی ترویج افلاطوں نے کی، لیکن اس سے پہلے ہندوستانی ادب میں بھی مکالمہ موجود تھے۔[1]

بیسویں صدی میں میخائیل باختں، پائلو فریری، مارٹن بوبر اور ڈیوڈ بوھم جیسے دانشوروں نے مکالمہ کو فلاسافیکل صنف مانا شروع کیا۔ مکالمہ کے مختلف خصوصیات پر بات کرتے انہوں نے مکالمہ کو مجموعی تصور کا ایسا عمل کہا، جو کثیر جہتی، متحرک اور سیاق و سباق پر مبنی ہو اور جس سے مفہوم واضع ہو۔[2] تعلیمداں فریری اور راموں فلیچا نے تعلیم کے میداں میں اسے نظریے اور طریقکار واضع کیے، جن کی مدد سے مساواتی مکالمہ کو ایک تدریسی اوزار یا طریقکار کے طور پر استعمال کیا جائے۔[3]

اشتقاقیات[ترمیم]

مکالمہ لاطینی زبان کے لفظ διάλογος سے لیا گیا، جس کا انگريزی تلفظ Dialogos ہے اور اردو مفہوم: بات چیت۔ جو دو لاطنیی الفاظ (διά انگریزی: dia مفہوم: کے ذریعے اور λόγος انگریزی logos مفہوم: بات چیت یا سبب) کا مرکب ہے۔ مکالمہ کا لفظ سب سے پہلے افلاطون نے استعال کیا۔[4]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Hajime Nakamura۔ The Ways of Thinking of Eastern Peoples۔ صفحہ 189۔ آئی ایس بی این 0824800788۔
  2. Louise Phillips۔ The Promise of Dialogue: The dialogic turn in the production and communication of knowledge۔ صفحات 25–26۔ آئی ایس بی این 9789027210296۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔
  3. Ramón Flecha۔ Sharing Words: Theory and Practice of Dialogic Learning۔ Lanham, MD: Rowman and Littlefield۔
  4. Jazdzewska، K. (1 June 2015). "From Dialogos to Dialogue: The Use of the Term from Plato to the Second Century CE". Greek, Roman and Byzantine Studies 54.1 (2014), p. 17-36. http://grbs.library.duke.edu/article/view/14987/6295. 

بیرونی روابط[ترمیم]

خیالات کی منتقلی
اپنے آپ سے بات کرنا، دماغی بغیر جواب دیئے اپنے آپ یا کیسی اور سے بات کرنا، زبانی دو سے زیادہ افراد کی بات چیت، زبانی
فکرہ مونولاگ مکالمہ