مکروہ تحریمی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
بسم اللہ الرحمن الرحیم
Allah-green.svg

بسلسلہ شرعی علوم
علم فقہ

شریعت اسلامی کی اصطلاح میں مکروہ تحریمی وہ فعل ہے جس سے لازمی طور پر رک جانے کا مطالبہ ہو اور وہ مطالبہ دلیل ظنی سے ثابت ہو۔

اسلامی فقہ میں مکروہ تحریمی کی اصطلاح واجب کے بالعکس ہے۔ اس کو اپنانے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے، مثلاً نماز عشاء کے بعد وتر کا چھوڑنا، (نماز وتر چونکہ واجب ہے اور حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زندگی میں اس کو کبھی ترک نہ فرمایا اور اس کے چھوڑنے پر وعید سنائی ہے یہ واجب کے بالمقابل ہے اس کا منکر فاسق اور بلا عذر کرنے والا گنہگار ہے ۔[1]) مکروہ تحریمی :جس کی ممانعت دلیل ظنی سے لزوماً ثابت ہو،یہ واجب کا مقابل ہے۔[2]

مکروہ تحریمی : جس کا ترک کرنا ضروری ہو اور اس کام کو کرنا لازماً ممنوع ہو اور اس کے کرنے پر عذاب کی وعید ہو اور اس کی ممانعت کے ثبوت یا لزوم پر دلالت دونوں میں سے ایک ظنی ہو اور اس کا انکار کفر نہ ہو اور اس کام کرنے والا عذاب اور ملامت کا مستحق ہو خواہ دائماً ترک کرے یا احیاناً تاہم اس کا ارتکاب گناہ صغیرہ ہے۔[3]
اگر سنت مئوکدہ قویہ ہو (قریب بہ وجوب جیسے نماز فجر کی سنتیں) تو اس کا ترک مکروہ تحریمی ہے اور اگر سنت غیر مؤکدہ ہو تو اس کا ترک مکروہ تنزیہی ہے۔[4]
فقہا جب مکروہ کا ذکر کریں تو اس کی دلیل میں غور کرنا ضروری ہے اگر اس کی دلیل ظنی ممانعت ہو اور ممانعت کے خلاف پر کوئی قرینہ نہ ہو (مثلاً حضور کا اس کام کو کرنا) تو وہ مکروہ تحریمی ہے اور اگر کراہت کی دلیل میں کوئی ممانعت نہ ہو بلکہ وہ دلیل اس فعل کو ترک کرنے کی مفید ہو تو وہ مکروہ تنزیہی ہے۔[5] اس کی مثال ہے جیسے بغیر عذر کے باجماعت نماز کو ترک کرنا یا سونے چاندی کے برتنوں کو استعمال کرنا یا چاندی کے زیورات پہنا، کیونکہ ان چیزوں کی ممانعت احادیث میں آئی ہے اور اخبار احادہیں اور ظنی ہیں : ام المؤمنین ام سلمہ بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جو شخص چاندی کے برتنوں میں پانی پیتا ہے، اس کے پیٹ میں جہنم کی آگ گڑگڑاتی رہے گی۔[6]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. زبدۃ الفقہ جلد اول صفحہ 73 سید زوار حسین زوار اکیڈمی پبلیکیشنز
  2. (رکن دین ،ص4،وبہارشریعت حصہ2، ص 5
  3. ردالمحتارج 2 ص 130 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت
  4. ردالمحتارج 2 ص 367 مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت
  5. البحر الرائق ج 2 ص 19مطبوعہ کوئٹہ
  6. صحیح البخاری حدیث نمبر، 5634