مہاراجا چندو لال

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مہاراجا چندو لال لال
Chandu Lal, Brooklyn Museum (Cropped).jpg 

معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1766[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
برہانپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 15 اپریل 1845 (78–79 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
حیدرآباد، دکن  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
قومیت ہندوستانی
عملی زندگی
پیشہ شاعر،  سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مہاراجا چندو لال (پیدائش: 1766ء— وفات: 15 اپریل 1845ء) حیدرآباد دکن کی مشہور شخصیت تھے جنہوں نے ریاست حیدرآباد کے وزیر اعظم کی حیثیت سے فرائض سر انجام دیے۔چندو لال بیک وقت فارسی اور اردو کے شاعر بھی تھے۔ اپنے عہد وزارت میں چندو لال نے بیشتر اردو شعرا کو حیدرآباد دکن بلوایا اور وہیں اُنہیں سکونت اختیار کرنے کے بہترین انتظامات کیے۔

پیدائش[ترمیم]

چندو لال کی پیدائش 1766ء میں برہانپور میں ہوئی۔ اُن کے والد کا نام رائے نارائن داس تھا جو رائے بریلی سے ہجرت کرکے حیدرآباد دکن پہنچے اور وہیں سکونت اختیار کی۔ اُن کے آباؤ اجداد ہندو تھے۔ آباؤ اجداد میں راجا ٹوڈرمل بھی شامل تھے جو مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے وزیر مالیہ تھے۔ چندو لال کے خاندان نے ریاست حیدرآباد میں نظام الملک آصف جاہ اول کے عہدِ حکومت (1724ء- 1748ء) میں وزارت مالیہ کا ادارہ قائم کیا۔ اِس خاندان میں سے آخری وزیر اعظم ریاست حیدرآباد مہاراجہ سر کشن پرشاد ہوئے۔ریاست حیدرآباد میں اِس خاندان کو مال والا خاندان کہا جاتا تھا۔

وزیر اعظم و پیشکارِ ریاست حیدرآباد[ترمیم]

نواب سکندر جاہ کے عہدِ حکومت میں چندو لال کا بطور پیشکار مالیہ ریاست حیدرآباد 11 مئی 1806ء کو تقرر کیا گیا۔1819ء میں چندو لال کو مہاراجا کا خطاب تفویض ہوا اور ایک کروڑ روپئے انعام دیا گیا۔ 1822ء میں سات ہزاری سوار کا منصب عطاء ہوا۔ ناصر الدولہ، آصف جاہ چہارم کی طرف سے راجا راجگان کا خطاب تفویض ہوا۔ 1833ء میں بطور وزیر اعظم تقرر کیا گیا جس پر 5 ستمبر 1843ء تک فائز رہے۔

شاعری[ترمیم]

چندو لال کا تخلص شاداں تھا۔ اُنہوں نے اردو اور فارسی میں بیک وقت شاعری کی۔ وہ اردو شاعری اور ادب سے بخوبی واقف تھے۔ ان کی فیاضی دربار کے اردو شعرا اور مصنفین کو اپنی طرف مائل کرتی تھی۔ انھوں نے دہلی کے ذوق اور بخش ناسخ جیسے شعرا کو ریاست حیدرآبار آنے کی دعوت دی لیکن انھوں نے کچھ مسائل کی وجہ سے آنے سے انکار کر دیا۔[حوالہ درکار] وزیر اعظم کے منصب پر فائز ہونے کے باجود وہ روزانہ مشاعرہ کا انعقاد کرتے اور اس میں حصہ لیا کرتے تھے۔[2]

وفات[ترمیم]

چندو لال کا انتقال 78 سال کی عمر میں 15 اپریل 1845ء کو ہوا۔[3]

یادگار[ترمیم]

شہر حیدرآباد میں ایک محلہ آج بھی چندو لال بارہ دری کے نام سے مشہور ہے۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جی این ڈی- آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/12262985X — اخذ شدہ بتاریخ: 12 اگست 2015 — اجازت نامہ: CC0
  2. شریف حسین قاسمی (15 دسمبر 1990)۔ "Chandu Lal Sadan: Maharaja, statesman and poet in Persian and Urdu"۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 2014-12-11۔
  3. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 211۔ مطبوعہ دہلی 2011ء۔