رنجیت سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مہاراجہ رنجیت سنگھ سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مہاراجہ پنجاب
رنجیت سنگھ
(پنجابی میں: ਮਹਾਰਾਜਾ ਰਣਜੀਤ ਸਿੰਘخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
رنجیت سنگھ

مہاراجہ پنجاب
دور حکومت اپریل 1792ء11 اپریل 1801ء
(بحیثیت سربراہ سکرچکیہ مثل)
(9 سال)
12 اپریل 1801ء27 جون 1839ء
(بحیثیت مہاراجہ سکھ سلطنت)
(38 سال 2 ماہ 15 دن)
تاج پوشی 12 اپریل 1801ء
خطاب شیر پنجاب
مہاراجہ لاہور
سرکار خالصہ جی
مالک پنج دریا،سرکار بہادر
معلومات شخصیت
پیدائش 13 نومبر 1780[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
گوجرانوالہ[2]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 جون 1839 (59 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
لاہور[3]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
مدفن لاہور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام دفن (P119) ویکی ڈیٹا پر
مذہب سکھ مت
اولاد دلیپ سنگھ،شیر سنگھ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں اولاد (P40) ویکی ڈیٹا پر
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان[4]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

مہاراجہ رنجیت سنگھ (پیدائش: 13 نومبر 1780ء– وفات: 27 جون 1839ء) پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا۔ تقریباً چالیس سالہ دورِ حکومت میں اُس کی فتوحات کے سبب سکھ سلطنت کشمیر سے موجودہ خیبر پختونخوا اور جنوب میں سندھ کی حدود سے مل چکی تھیں۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

گوجرانوالہ کے مقام پر 1780ء میں پیدا ہوا۔ بچپن ہی میں اس کی بائیں آنکھ چیچک سے ضائع ہو گئی تھی۔سکرچکیہ مثل کے سردار مہان سنگھ کا بیٹا تھا۔ بارہ برس کا تھا کہ اس کا باپ مر گیا اور وہ مثل کا سردار بنا۔ سولہ برس کی عمر میں اس کی شادی کھنیا مثل میں ہوئی اور ان دو مثلوں کے ملاپ سے رنجیت سنگھ کی طاقت اور بھی مضبوط ہو گئی۔ اس کی ساس سدا کور ایک قابل اور مقتدر عورت تھی۔ اس نے رنجیت سنگھ کی فتوحات میں بڑی مدد کی۔

سیاسی حالات[ترمیم]

پنجاب پر درانی قبیلہ کی حکومت تھی، مگر یہ صوبہ سکھوں کی بغاوتوں کی وجہ سے درانی حکمرانوں کے اثر سے باہر تھا۔ شاہ زماں والیٔ کابل نے پنجاب پر حملہ کیا، مگر سکھ باغی اسے دیکھ کر اپنی پنا ہ گاہوں میں جا چھپے۔ شاہ زمان نے انہیں ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی، کیونکہ وہ جنگلوں، پہاڑوں اور اپنے مضبوط قلعوں میں چھپ چکے تھے۔ شاہ زمان کو کابل واپس جانا پڑا کیونکہ اس کی عدم موجودگی کے باعث دار الحکومت میں بغاوت کے آثار نمایاں ہوچکے تھے۔ اس نے لاہور اور پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

لاہور شہر سکھ لٹیروں کے قبضہ میں تھا، جن کی لوٹ مارسے عوام (ہندو، مسلم، سکھ) سبھی تنگ اور پریشان تھے۔ تب اہالیان لاہور کو رنجیت سنگھ کی شکل میں ایک وسیلہ نظر آیا، چنانچہ معززین لاہور نے رنجیت سنگھ کو خطوط لکھے کہ لاہور آکر حکومت سنبھالے۔ یہ حکم اسے شاہ زمان والیٔ کابل بھی دے چکا تھا۔

تخت نشینی[ترمیم]

رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں مئی 1799ء میں لاہور پر قبضہ کرکے اسے اپنی راجدھانی بنایا۔ لاہور پر قبضہ کے بعد اس نے اہالیان لاہور سے بہترین سلوک کیا اور اپنی سپاہ کو لوٹ مار کرنے سے منع کیا، جس سے وہ لاہوریوں میں مقبول ہو گیا۔

فتوحات[ترمیم]

تین سال بعد 1802ء میں امرتسر فتح کیا۔ وہاں سے بھنگیوں کی مشہور توپ اور کئی اورتوپیں ہاتھ آئیں۔ چند برسوں میں اس نے تمام وسطی پنجاب پر ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ 1809ء میں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد اس نے اٹک، ملتان، کشمیر، ہزارہ، بنوں، ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لیے۔

گوجرانوالہ میں رنجیت سنگھ کی جائے پیدائش
رنجیت سنگھ کا شجرہ نسب

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ 1.0 1.1 دائرۃ المعارف بریطانیکا آن لائن آئی ڈی: https://www.britannica.com/biography/Ranjit-Singh-Sikh-maharaja — بنام: Ranjit Singh — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017 — عنوان : Encyclopædia Britannica
  2. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  3. اجازت نامہ: سی سی زیرو
  4. اجازت نامہ: سی سی زیرو
ماقبل 
چڑت سنگھ
سربراہ سکرچکیہ مثل
اپریل 1792ء11 اپریل 1801ء
مابعد 
عہدہ ختم
ماقبل 
عہدہ ختم
مہاراجہ سکھ سلطنت
12 اپریل 1801ء27 جون 1839ء
مابعد 
کھڑک سنگھ