مہاراجہ رنجیت سنگھ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش
مہاراجہ رنجیت سنگھ
Maharaja Ranjit Singh
ਰਣਜੀਤ ਸਿੰਘ
مہاراجہ پنجاب
Maharaj Ranjit Singh.jpg
مہاراجہ رنجیت سنگھ
دور حکومت 12 اپریل 1801 – 27 جون 1839
تاجپوشی 12 اپریل 1801
جانشین کھڑک سنگھ
مکمل نام
رنجیت سنگھ
والد مہان سنگھ
والدہ مائی ملوائن
پیدائش 13 نومبر 1780[1]
گوجرانوالہ, سکرچاکیہ مسل (موجودہ پاکستان)
وفات 27 جون 1839
لاہور، پنجاب، سکھ سلطنت (موجودہ پاکستان)
تدفین سمادھ مہاراجہ رنجیت سنگھ لاہور، پنجاب، پاکستان
مذہب سکھ مت
لاہور میں مہاراجہ رنجیت سنگھ کی سمادھی

پیدائش: 1780ء

انتقال: 1839ء

مہاراجہ رنجیت سنگھ پنجاب میں سکھ سلطنت کا بانی تھا۔ گوجرانوالہ کے مقام پر 1780ء میں پیدا ہوا۔ بچپن ہی میں اس کی بائیں آنکھ چیچک سے ضائع ہوگئی تھی۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

سکرچکیہ مثل کے سردار مہان سنگھ کا بیٹا تھا۔ بارہ برس کا تھا کہ اس کا باپ مر گیا اور وہ مثل کا سردار بنا۔ سولہ برس کی عمر میں اس کی شادی کھنیا مثل میں ہوئی اور ان دو مثلوں کے ملاپ سے رنجیت سنگھ کی طاقت او ربھی مضبوط ہو گئی ۔ اس کی ساس سدا کور ایک قابل اور مقتدر عورت تھی۔ اس نے رنجیت سنگھ کی فتوحات میں بڑی مدد کی۔

سیاسی حالات[ترمیم]

پنجاب پر درانی قبیلہ کی حکومت تھی، مگر یہ صوبہ سکھوں کی بغاوتوں کی وجہ سے درانی حکمرانوں کے اثر سے باہر تھا۔ شاہ زماں والیٔ کابل نے پنجاب پر حملہ کیا، مگر سکھ باغی اسے دیکھ کر اپنی پنا ہ گاہوں میں جا چھپے۔ شاہ زمان نے انہیں ڈھونڈنے کی سرتوڑ کوشش کی، مگر ناکامی ہوئی، کیونکہ وہ جنگلوں، پہاڑوں اور اپنے مضبوط قلعوں میں چھپ چکے تھے۔ شاہ زمان کو کابل واپس جانا پڑا کیونکہ اس کی عدم موجودگی کے باعث دارالحکومت میں بغاوت کے آثار نمایاں ہوچکے تھے۔ اس نے لاہور اور پنجاب کو اس کے حال پر چھوڑ دیا۔

لاہور شہر سکھ لٹیروں کے قبضہ میں تھا، جن کی لوٹ مارسے عوام (ہندو، مسلم، سکھ) سبھی تنگ اور پریشان تھے۔ اہالیان لاہور کو رنجیت سنگھ کی شکل میں ایک وسیلہ نظر آیا، چنانچہ معززین لاہور نے رنجیت سنگھ کو خطوط لکھے کہ لاہور آکر حکومت سنبھالے۔ یہ حکم اسے شاہ زمان والیٔ کابل بھی دے چکا تھا۔

تخت نشینی[ترمیم]

رنجیت سنگھ نے انیس برس کی عمر میں 1799ء میں لاہور پر قبضہ کرکے اسے اپنی راجدھانی بنایا۔ لاہور پر قبضہ کے بعد اس نے اہالیان لاہور سے بہترین سلوک کیا اور اپنی سپاہ کو لوٹ مار کرنے سے منع کیا، جس سے وہ لاہوریوں میں مقبول ہوگیا۔

فتوحات[ترمیم]

تین سال بعد 1802ء میں امرتسر فتح کیا۔ وہاں سے بھنگیوں کی مشہور توپ اور کئی اورتوپیں ہاتھ آئیں۔ چند برسوں میں اس نے تمام وسطی پنجاب پر ستلج تک قبضہ کر لیا۔ پھر دریائے ستلج کو پار کرکے لدھیانہ پر بھی قبضہ کر لیا۔ لارڈ منٹو رنجیت سنگھ کی اس پیش قدمی کو انگریزی مفاد کے خلاف سمجھتا تھا۔ چنانچہ 1809ء میں عہد نامہ امرتسر کی رو سے دریائے ستلج رنجیت سنگھ کی سلطنت کی جنوبی حد قرار پایا۔ اب اس کا رخ شمال مغرب کی طرف ہوا اور لگاتار لڑائیوں کے بعد اس نے اٹک، ملتان، کشمیر، ہزارہ، بنوں، ڈیرہ جات اور پشاور فتح کرکے اپنی سلطنت میں شامل کر لئے۔

  1. ^ S.R. Bakshi, Rashmi Pathak (2007). "1-Political Condition". in S.R. Bakshi, Rashmi Pathak. Studies in Contemporary Indian History – Punjab Through the Ages Volume 2. Sarup & Sons, New Delhi. p. 2. ISBN 81-7625-738-9. http://books.google.co.in/books?id=kxtEFA5qqR8C&lpg=PA162&dq=ranjith%20singh&pg=PA2#v=onepage&q&f=false۔ اخذ کردہ بتاریخ 24 ഡിസംബർ 2010.