مہاویر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(مہا ویر سے رجوع مکرر)
:چھلانگ بطرف رہنمائی، تلاش


مہاویر
مہاویر کا مجسمہ
پیدائش 599 قبل مسیح
وفات 527 قبل مسیح
وجہِ شہرت چوبیسویں تیرتھانکر
پیشرو Parshva
جانشین کوئی نہیں

وردھمان مہاویر : اصلی نام وردھمان اور مہاویر لوگوں سے دیا گیا لقب۔ مہاویر یعنی (مہا=عظیم، ویر=سورما) عظیم سورما کے نام سے جانا حاتا ہے۔ جین مت کے پیروکار انہیں ایک دیوتا مانتے ہیں۔ وردھمان 599 قبل مسیح میں پیدا ہوئے۔[1]۔ وردھمان اور گوتم بدھ کی زندگی میں کافی مماثلتیں پائی جاتی ہیں۔ اتفاقاً یہ دونوں ایک ہی دور کے اور ایک ہی علاقے کے ہیں۔ وردھمان ایک شاہی گھرانے سے تعلق رکھتے تھے۔ 30 سال کی عمر میں بیوی۔ بیٹی اور گھر بار چھوڑ کر تارک الدنیا ہو گيے اور ایک ہی لباس سے گھر نکل گئے۔ فقیرانہ زندگی گذاری، کوئی سر و سامان ساتھ نہیں رکھا۔ ایک ہی لباس میں رہتے رہے اور کسی قسم کا کوئی سامان پاس نہیں رکھا، حتی کہ پانی کا پیالہ تک نہیں۔ بعد میں لباس پھٹ جانے پر برہنہ رہنے لگے۔ 43 سال کی عمر میں اپنے نظریات کو عوام کے سامنے رکھا اور اپنے نظریا کی تبلیغ شروع کی۔ 527 قبل مسیح وفات پائی۔ اس وفات پانے کو جین مت میں “نروانا“ کہتے ہیں۔ آخری عمر تک بہت سے نوجوانوں کو تعلیم دیتے رہے۔ اہنسا (عدم تشدد) کا فلسفہ پیش کیا جو جین مت کا بنیادی اُصول ہے۔

جین مت کے 24 ویں تيرتھانكر (گروؤں کا سلسلہ) مہاویر عدم تشدد کا ایک بہترین نمونہ تھے۔ ان کی زندگی قربانی اور تپسیا (مراقبہ) سے لبریز تھی۔ انہوں نے اپنے ساتھ ایک لنگوٹی تک کا زاد نہیں رکھا۔ ان کے دور میں لوگوں میں تشدد عام تھا، لوگوں میں افراتفری، بد ترتیبی، غیر مذہبیت، جہالت، لاقانونیت عام تھی۔ ذات پات کے جھگڑے، اونچ نیچ کا رسم عام تھا۔ اس دور میں وردھمان پیدا ہوئے۔ سماج کی ان برائیوں کو دیکھ دہل گئے، گھر بار چھوڑ کر راہبانہ زندگی اختیار کرلی اور جنگل جنگل ہوگئے۔ انہوں نے دنیا کو سچائی، عدم تشدد کا سبق دیا۔ اور گھومتے گھومتے اپنی تعلیمات کی تبلیغ کرنے لگے۔

انہوں نے دنیا کو پنچ شیل (شیل=نیک) کے اصول بتائے. اس کے مطابق؛

  1. ستیہ = سچائی، صداقت
  2. اہمسا = عدم تشدد،
  3. آستییہ = چوری نہ کرنا، یا پرہیزگاری کے بھی معنی لی جا سکتی ہے۔
  4. برہم چریہ = رحبانیت، مجرد، سنیاس زندگی
  5. اپری گرہ = جتنی ضرورت ہے اتنا ہی رکھو (قناعت پسندی)

ان تعلیمات (پراوچن) کی تبلیغ کرتے رہے اور لوگوں کو راغب کرتے رہے۔ اس تشدد اور ظلم والے دور میں ان کی تعلیمات کا اثر خوب رہا۔ ہندو دھرم سے بیزار عوام ان کے پیروکار بن نے لگے۔

پیدائش[ترمیم]

وردھمان بچپن کا نام تھا، بعد میں مہاویر پکارا جانے لگا۔ ان کی پیدائش 599 قبل مسیح کو ہوئی۔ پیدائشی مقام کے تعلق سے کئی روایتیں ہیں۔ مورخین مختلف رائے رکھتے ہیں۔ مورخین کی تجاویز کے مطابق تین گاؤں ہیں جو ان کی پیدائشی مقام ہوسکتے ہیں۔ پہلا، موجودہ ریاست بہار کے قدیم ضلع ویشالی کا کُنڈی گرام، دوسرا، جموئی ضلع کا لچھووار گاؤں، تیسرا نالندا ضلع کا کُنڈلپور گاؤں۔ ان کے والد سدھارتھ اور والدہ تریشالا، ایک شاہی خاندان کے تھے۔ مہاویر کا نچپن اور جوانی بڑے ہی عیش و عشرت میں گذری۔

جین دھرم یا مت کے مطابق جین مت کے بانی “وراشبھ ناتھ“ تھے، جنہیں پہلا تیرتھانکر (گرو) مانا جاتا ہے۔ یہ گروؤں کا سلسلہ چلتا رہا اور آخری تیرتھانکر (گرو) وردھمان مہاویر تھے۔

جین مت کے پیروکاروں کا ماننا ہے کہ ایشور کے حکم کے مطابق مہاویر 24 ویں اور آخری تیرتھانکر تھے۔ ان کے بعد کوئی تیرتھانکر یا گرو نہیں آیا۔

جیسے ہی گھر بار ترک کیے جنگل کی راہ لی، جنگل میں تپسیا (مراقبے) کرتے رہے۔ لوگوں کو تعلیم بھی دیتے رہے۔ لوگوں کو نجات کا راستہ دکھاتے رہے۔

عوامی فلاح کے لئے انہوں نے اپنے شاگردوں کے چار گروہ بنائے، سادھو (مرد)، سادھوی (خاتون)، شراوك (خادم)، شراوكا (خادمہ). ان کے پیروکاروں میں کوئی ذات پات، اونچ نیچ کا فرق نہیں رہا کرتا تھا۔ سب کو ایک مانا جاتا اور اسی نظریہ اور نظر سے دیکھا جاتا تھا۔

اُس دور کے عوام میں آزادی کم اور غلامی زیادہ تھی، غلامی کے ساتھ ساتھ غلامانہ خیالات تھے۔ توہم پرستی، بت پرستی، غلط رسم و رواج کا انبار تھا۔ ایسے دور میں سیدھے سادے روایات کی تبلیغ ممکن بھی نہیں تھی، اور سماج کے مختلف گروہوں سے انہیں ٹکراؤ بھی ہوا۔ لیکن سادھو (قلندر، فقیر) ہونے کی وجہ سے لوگ ان کی عزت بھی کرتے تھے اور اپنے پرانے مذہب کے لیے خطرہ بھی نہیں سمجھتے تھے۔

جین مت کے پیروکاروں کا عقیدہ ہے کہ مہاویر نے انسانوں کو غلامی سے آزاد کروایا، توہم پرستی کی غلامی سے، اونچ نیچ ذات پات کی غلامی سے۔

موجودہ دور میں[ترمیم]

موجودہ شورش زدہ، دہشت گرد، بدعنوان اور تشدد کے ماحول میں مہاویر کی عدم تشدد ہی امن فراہم کر سکتی ہے. مہاویر کی عدم تشدد صرف براہ راست ذبح کو ہی تشدد نہیں مانتی ہے، بلکہ دل میں کسی کے فی برا خیال بھی تشدد ہے. جب انسان کا دل ہی صاف نہیں ہوگا تو عدم تشدد کو جگہ ہی کہاں؟

موجودہ دور میں مقبول نعرہ 'سوشلزم' تب تک بامعنی نہیں ہو گا جب تک اقتصادی حیثیتیں نہیں رہے گی. ایک جانب بے انتہا دولت اور پیسہ، دوسری طرف فقدان ہے. اس عدم مساوات کی خلیج کو صرف مہاویر کی 'اپراگره' کا اصول ہی بھر سکتا ہے. اپراگره کا اصول کم وسائل میں قناعت پسندی کو زور دیتا ہے. جین مت کے مطابق آدمی دولت کو ضرورت سے زیادہ رکھنے کی اجازت نہیں ہے.

جب ایسی چیزوں کو جمع کرے گا جن کی چوری نہیں ہوسکتی تو وہ بے خوف رہ سکتا ہے، کوئی روح کو چرا نہیں سکتا، روحانی تعلیم کو بھی چرا نہیں سکتا، اس لیے تبلیغ ہی کرنی ہو تو روح کی تبلیغ کرو۔ تمام دنیا میں ذہنی اور اقتصادی امن قائم ہو گا. کردار اور اخلاق کی گراوٹ سے بچو۔ ایسی تعلیمات سے لوگوں کو آراستہ کیا۔

تعلیم[ترمیم]

وردھمان مہاویر نے “یوگ“ کے اُصولوں کو اپنایا۔ جوسہاجایوگا کے بھی اُصول مانے جاتے ہیں۔ انہیں میں سے ان کی تعلیمات کے اہم پانچ اُصول شامل ہیں۔ ان اصولوں کے علاوہ انہوں نے، موکش یا نِروانا (مغفرت)، کشاما (معاف کردینا)، جیسے اُصولوں کو بھی اپنی تعلیمات میں شامل کرلیا۔

ستیہ[ترمیم]

حقیات پسندی کو ایک اہم مقام دیا گیا۔ حق کو سنسکرت زبان میں ست یا ستیہ کہتے ہیں۔ مہاوری نے تعلیم دی کہ لوگو، تم سچ ہی کو سچا عنصر سمجھو. جب ذہن و دل پر سچائی کی حکومت ہوتی ہے، وہ کسی تیرگی سے نہیں ڈرتا، وہی زندہ جاوداں ہوسکتا ہے جو سچائی کو مرتے دم تک تھامے رہتا ہے۔

اہمسا[ترمیم]

اہمسا یعنی عدم تشدد، یہاں پر مہاویر نے اہمسا کو زیادہ ترجیع دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چھوٹے چھوٹے جانوروں کو مارنا بھی تشدد ہے۔ اگر آپ کے پیروں تلے چیونٹی بھی آجاتی ہے تو وہ تشدد ہے، ایسے تشدد کو روکو۔ جانوروں کو مار کر ان کو غذا کی شکل میں استعمال کرنا جین مت میں ممنوع ہے۔ مخلوق کے تئیں رحیمیت سے پیش آنا، اور خدا ترسی کو زیادہ اہمیت دی گئی ہے۔

آستییہ[ترمیم]

آستییہ کا مطلب ہے چوری نہ کرنا۔ چوری بہت بڑا پاپ (گناہ) ہے۔ چوری شدہ چیز کسی کی امانت ہوتی ہے۔ اس کی چوری گویا کے امانت میں قیانت کے برابر ہے۔

برہم چریہ[ترمیم]

برہم چریہ “مجرد“ زندگی کو کہتے ہیں۔ مہاویر کے مطابق برہمچریہ ایک بہترین تپسیا (عبادت) ہے۔ عباد ہی نہیں بلکہ قواعد، علم، فلسفہ، ضبط نفس اور ادب و احترام کی جڑ ہے. تپسیا (عبادت) یا مراقبہ میں برہم چریہ بہترین تپسیا ہے. جو مرد عورتوں سے تعلق نہیں رکھتے، وہ نجات کے راستے کی طرف بڑھتے ہیں.

اپری گرہ[ترمیم]

اپری گرہ کا مطلب ہے، ہوس سے دور رہنا۔ قناعت پسندی بھی ہوسکتا ہے۔ دنیا کی دولت کی چاہ انسان کو دیوانہ بنادیتی ہے، یہاں تک کہ خود کو غم کے گڈھے میں ڈھکیل لیتا ہے۔ جمع خوری ایک لعنت ہے، اور سارے دکھ درد کی وجہ حرص و ہوس ہی ہے۔ اس سے دور رہنا گویا کہ دکھوں سے دور رہنا۔

معذرت[ترمیم]

معذرت کے بارے میں مہاویر کہتے ہیں - "میں سب جراثیم سے معذرت چاہتا ہوں. دنیا کے تمام جراثیم سے میرا دوستانہ رویہ ہے، میرا کسی سے بیر نہیں ہے. میں سچے دل سے دین میں مستحکم ہوا ہوں. سب جراثیم سے میں سارے جرائم کی معذرت خواہ ہوں. سب جاندار جن کو مجھ سے تکلیف ہوئی ہے میں ان سے معافی اور معذرت چاہتا ہوں۔

وہ یہ بھی کہتے ہیں 'میں نے اپنے دل میں جن جن گناہوں کا تصور بھی کیا ہے، جو گناہ زبان سے کیا ہے میں ان سب گناہوں سے معذرت چاہتا ہوں۔

مذہب[ترمیم]

مذہب سب سے بہترین راستہ. عدم تشدد، صبر استقلال، عبادات (تپ یا تپسیا) ہی مذہب ہے. مہاویر کہتے ہیں جو حق پسند روح رکھنے والا (دھرماتما) ہے، جس کے دل میں ہمیشہ مذہب رہتا ہے، اسے دیوتا بھی سلام کرتے ہیں.

مہاویر نے اپنے تعلیمات (پروچنوں) میں مذہب، حقیقت، عدم تشدد، مجرد زندگی، اور قناعت پسندی، معذرت پسندی پر سب سے زیادہ زور دیا. قربانی اور صبر، محبت اور ہمدردی، تقوی اور نیکی ہی ان تعلیمات کا نچوڑ تھا. مہاویر نے چہار طریقہ (چتروِدھ) حلقے قائم کیے. ملک کے مختلف حصوں میں گھوم کر اپنا مقدس پیغام پھیلایا. مہاویر نے 72 سال کی عمر میں 527 ق م میں پاواپوری میں کارتک کرشن اماوسيا کو نروان (نجات، مغفرت یا وفات) حاصل کیا.

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]