مہدی حسن (پاکستانی صحافی)

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مہدی حسن (پاکستانی صحافی)
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1937 (عمر 81–82 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنجاب  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ صحافی،  استاد جامعہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت بیکن ہاؤس نیشنل یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

پروفیسر ڈاکٹر مہدی حسن پاکستان کے نامور صحافی، مبصر، سیاسی تجزیہ کار ،ماہرِ تعلیم اور ہیومن رائٹس کمیشن کے سابق چیئرمین اور پریس کلب کے لائف ممبر ہیں ۔

ابتدائی زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر مہدی حسن 1937 میں پانی پت میں پیدا ہوئے۔ سلسلہ تعلیم کا آغاز وہیں سے ہوا تاہم پہلی چار جماعتیں پانی پت میں ہی پڑھیں۔ پھر وہ 9 سال کی عمر میں 16 نومبر 1947 کو والدین کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر آئے۔ یہاں آ کر مزید تعلیم مکمل کی۔ زمانہِ طالب علمی میں اسکاؤٹنگ، فوٹو گرافی اور کرکٹ کا بہت شوق تھا۔ نوجوانی میں ادب سے شغف تھا، فرنچ اور رشین لٹریچر کو بہت پڑھا۔ کالج میں ماؤنٹیننگ اور ہائیکنگ کلب کے سیکرٹری بھی رہے۔ زمانہ طالب علمی سے ہی صحافت کا شوق تھا، لہذا پی،پی،اے ( موجودہ اے پی پی )کے لیے بطور خبر رساں انہوں نے منٹگمری موجودہ ساہیوال میں اپنے کیرئیر کا آغاز کیا۔ انہوں نے پنجاب یونیورسٹی سے ایم اے صحافت کیا اور بعدمیں پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی حاصل کی۔ ان کے مقالہ کا عنوان ( Role of Press in Formation in Public Opinion 1857-1947 ) تھا ۔

صحافت کا آغاز[ترمیم]

بطور کالم نگار پروفیسر مہدی حسن کا پہلا آرٹیکل روزنامہ امروزمیں شائع ہوا۔ وہ ایک ماہر مبصر و محقق ہونے کے باعث بہترین صحافی رہے ہیں اور انہوں نے پاکستان کے تمام اہم اخبارات میں کالم لکھے۔ انگریزی میں روزنامہ دی نیوز انٹرنیشنل میں باقاعدہ کالم لکھے۔ جبکہ اردو کالم روزنامہ نوائے وقت کے لیے لکھتے رہے ہیں ۔

شعبہ تدریس[ترمیم]

ڈاکٹر مہدی حسن پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغیات سے تیس سال وابستہ رہے ہیں ۔[1] وہ 1967 میں یہاں استاد مقرر ہوئے تھے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف لاہور میں صحافت کی تدریس کی۔[2] اور تقریباً نصف صدی پر محیط سروس کے دوران بڑے بڑے نامور بیوروکریٹ اور سیاست دان ان کے شاگرد رہے ہیں ۔[3]

پرنٹ میڈیا اورالیکٹرانک میڈیا سے وابستگی[ترمیم]

1961 سے 1967 تک وہ پاکستان پریس انٹرنیشنل ( پی پی آئی ) کے رپورٹر اور نیوز بیورو چیف رہے۔ اور اسی دوران پاکستان فیڈریشن آف یونین آف جرنلسٹ (پی ایف یو جی )میں پانچ بار افسرِ اعلی منتخب ہوئے ۔

وہ 1962 تک ریڈیو پاکستان پر اور 1964 تک ٹیلی وژن پر مبصر اور تجزیہ کار رہے۔ اس کے علاوہ وائس آف امریکا، بی بی سی، ریڈیو جرمنی، ریوٹر اور اے پی اے کے پروگرامز میں بھی شرکت کی ۔

جون 2010 میں انہیں ایچ آر سی پی ( پاکستان کمیشن برائے انسانی حقوق )کا سربراہ مقرر کیا گیا ۔[4]

کتب اور مقالہ جات[ترمیم]

جدید ابلاغِ عام
تصویری صحافت
The Political History of Pakistan
Journalism for All, Ninth Edition 2007

by Dr. Mehdi Hasan & Dr. Abdul Salam Khurshid

ان کی کتاب The Political History of Pakistan صحافیوں اور پروڈیوسرز کی تربیت کے لیے ایک مستند حوالہ کے طور پر استعمال ہوتی ہے۔ مقتدرہ قومی زبان نے بھی ان کی دو کتب جدید ابلاغِ عام[5] اور تصویری صحافت[6] شائع کی ہیں۔ ان کے بہت سے پیپرز امریکا اور پاکستان میں شائع ہوئے ہیں۔ ڈاکٹر مہدی حسن نے اپنے شعبہ سے متعلقہ کانفرنسز کے علاوہ حالاتِ حاضرہ کے موضوعات سے متعلق لاتعداد ملکی و غیر ملکی سیمینارز بھی میں شرکت فرمائی ہے۔

موجودہ زندگی[ترمیم]

ڈاکٹر مہدی حسن اس وقت پنجاب ہیومین رائٹس کمیشن، بپنجاب برانچ کے وائس چئیر مین ہیں۔ اور بیکن ہاؤس یونیورسٹی کے اسکول آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن کے صدر ِ شعبہ ہیں ۔

حوالہ جات[ترمیم]