میانمار کی سیاست
میانمار کی سیاسی تاریخ پیچیدہ اور متنازع رہی ہے۔ ملک نے 1948 میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی اور جمہوری حکومت قائم ہوئی۔ 1962 میں فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں فوجی حکومت قائم ہوئی جو 2011 تک قائم رہی۔ اس طویل فوجی دور میں ملک کی سیاست پر فوج کا غلبہ رہا۔[1]
2011 میں نیم سویلین حکومت قائم ہوئی اور 2015 میں آنگ سان سو چی کی جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی نے تاریخی انتخابات جیتے۔ تاہم 2021 میں فوج نے دوبارہ اقتدار پر قبضہ کر لیا اور ملک میں سیاسی بحران پیدا ہو گیا۔[2]
موجودہ سیاسی صورت حال
[ترمیم]2021 کے فوجی بغاوت کے بعد میانمار میں سیاسی صورت حال شدید تناؤ کا شکار ہے۔ فوج نے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور حکومت کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔ اس عمل پر بین الاقوامی برادری کی طرف سے شدید تنقید کی گئی ہے۔[3]
مخالف سیاسی قوتیں قومی یکجہتی حکومت کے نام سے متبادل حکومت قائم کر چکی ہیں جو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔
سیاسی نظام
[ترمیم]آئینی ڈھانچہ
[ترمیم]2008 کے آئین کے تحت میانمار ایک پارلیمانی جمہوریہ تھا جس میں صدر ریاست کا سربراہ اور وزیر اعظم حکومت کا سربراہ ہوتا تھا۔ تاہم 2021 کے بعد آئین معطل ہے اور فوجی حکومت قائم ہے۔[4]
حکومتی ڈھانچہ
[ترمیم]فوجی حکومت کے تحت حکومتی ڈھانچہ درج ذیل ہے:
- ریاستی انتظامی کونسل: فوجی حکومت کا اعلیٰ ترین ادارہ
- وزیر اعظم: فوجی حکومت کا سربراہ
- وزرا: فوجی افسران پر مشتمل[5]
انتخابی نظام
[ترمیم]2020 کے انتخابات میانمار میں ہونے والے آخری عام انتخابات تھے جن میں آنگ سان سو چی کی جماعت نے کامیابی حاصل کی تھی۔ انتخابات میں متناسب نمائندگی کا نظام استعمال ہوتا تھا۔[6]
فوجی حکومت نے انتخابات معطل کر دیے ہیں اور نئے انتخابات کا کوئی شیڈول طے نہیں کیا گیا۔
سیاسی جماعتیں
[ترمیم]میانمار کی اہم سیاسی جماعتیں درج ذیل ہیں:
- نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (این ایل ڈی)
- یونین سولیڈیریٹی اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (یو ایس ڈی پی)
- شن نیشنلٹی فار ڈیموکریسی پارٹی
- اراکانی نیشنل پارٹی[7]
فوج کا کردار
[ترمیم]میانمار کی فوج (تاتماڈاو) ملک کی سیاست میں مرکزی کردار ادا کرتی ہے۔ آئین کے تحت فوج کو پارلیمنٹ میں 25 فیصد نشستیں مختص ہیں۔ فوج دفاع، داخلہ اور سرحدی امور کی وزارتوں پر قابض ہے۔[8]
نسلی تنازعات
[ترمیم]میانمار میں نسلی تنازعات طویل عرصے سے جاری ہیں۔ مختلف نسلی گروہوں کے درمیان مسلح تصادم ہوتا رہتا ہے۔ اہم نسلی گروہوں میں شامل ہیں:
- کاچین
- شن
• کرین
- راکھائن[9]
انسانی حقوق کے مسائل
[ترمیم]میانمار میں انسانی حقوق کی صورت حال تشویشناک ہے۔ بین الاقوامی تنظیموں کی رپورٹس کے مطابق ملک میں شہریوں کے بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔[10]
بین الاقوامی رد عمل
[ترمیم]میانمار کی موجودہ سیاسی صورت حال پر بین الاقوامی برادری نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ متعدد ممالک نے فوجی حکومت کے خلاف پابندیاں عائد کی ہیں۔[11]
آسیان نے میانمار میں امن کے عمل کو بحال کرنے کے لیے پانچ نکاتی روڈ میپ پیش کیا ہے۔
معاشی اثرات
[ترمیم]سیاسی عدم استحکام کے باعث میانمار کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے۔ کرنسی کی قدر میں کمی، مہنگائی میں اضافہ اور بیرونی سرمایہ کاری میں کمی واقع ہوئی ہے۔[12]
مستقبل کے امکانات
[ترمیم]میانمار کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال موجود ہے۔ امن کے عمل کی بحالی، جمہوری اداروں کی بحالی اور نسلی تنازعات کے حل کے بغیر ملک کی ترقی ممکن نظر نہیں آتی۔[13]
صدور اور نائب صدور
[ترمیم]| عہدہ | نام | مدتِ خدمت | ||
|---|---|---|---|---|
| عہدہ سنبھالا | عہدہ چھوڑا | دن | ||
| نگراں صدر | مائنٹ سوی | 1 فروری2021 | 22 جولائی2024 | 1267 |
| مین آنگ ہلاینگ | 22 جولائی2024 | خالی | 600 | |
| First نائب صدر | مائنٹ سوی | 30 March 2016 | 7 August 2025 | 3417 |
| Second Vice President | ہینری وان تھیو | 22 اپریل 2024 | 2945 | |
| چیئرمین ریاستی انتظامی کونسل | مین آنگ ہلاینگ | 2 فروری2021 | Incumbent | 1866 |
| وزیر اعظم | مین اینگ یہونگ | 1 اگست2021 | 31 جولائی 2025 | 1460 |
| نیو ساو | 31 جولائی 2025 | Incumbent | 226 | |
| نائب چیئرمین ریاستی انتظامی کونسل | سوئی وین | 2 فروری 2021 | 1866 | |
| معاون وزیر اعظم | 1 August 2021 | 1686 | ||
| میا تون او | 1 فروری 2023 | 1137 | ||
| تن انگ سین | ||||
| سیو یٹوٹ | ||||
| ون شین | ||||
مقننہ
[ترمیم]دفتر
[ترمیم]| دفتر | نام | جماعت | از |
|---|---|---|---|
| چیئرمین نگراں صدر |
مین آنگ ہلاینگ | تاتماڈو | 2 February 2021 |
| نائب چیئرمین | Soe Win | تاتماڈو | 2 February 2021 |
| وزیر اعظم | Nyo Saw | تاتماڈو | 31 July 2025 |
بین الاقوامی تعلقات
[ترمیم]- ایشیائی ترقیاتی بینک
- تنظیم برائے جنوب مشرقی ایشیائی اقوام
- چٹاگانگ سٹی کارپوریشن (CCC)
- وسطی صوبے
- اقوام متحدہ اقتصادی و سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحر الکاہل
- ادارہ برائے خوراک و زراعت
- گروپ 77
- عالمی ادارہ برائے جوہری توانائی
- بین الاقوامی بنک برائے تعمیر و ترقی
- بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم
- بین الاقوامی انجمن صلیب احمر و ہلال احمر
- بین الاقوامی انجمن برائے ترقی
- آئی ایف اے ڈی
- ایراوڈی فلوٹیلا کمپنی (IFC)
- عالمی اتحاد برائے اجتماع صلیب احمر و ہلال احمر
- بین الاقوامی مالیاتی فنڈ
- Intelsat (nonsignatory user [توضیح درکار])
- انٹرپول
- بین الاقوامی اولمپک کمیٹی
- عالمی ٹیلی مواصلاتی اتحاد
- غیر وابستہ ممالک کی تحریک
- تنظیم برائے ممانعت کیمیائی ہتھیار
- اقوام متحدہ
- اقوام متحدہ کانفرنس برائے تجارت و ترقی
- اقوام متحدہ ترقیاتی پروگرام
- یونیسکو
- یونائیڈو
- عالمی ڈاک اتحاد
- عالمی ادارہ صحت
- عالمی موسمیاتی تنظیم
- عالمی سیاحت تنظیم
- عالمی تجارتی ادارہ
- گلوبل جسٹس سینٹر (GJC)
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "تاریخ سیاست"، وزارت داخلہ
- ↑ "سیاسی منتقلی"، آسیان
- ↑ "موجودہ صورت حال"، اقوام متحدہ
- ↑ "آئین میانمار"، وزارت داخلہ
- ↑ "حکومتی ڈھانچہ"، وزارت داخلہ
- ↑ "انتخابی نظام" آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ uec.gov.mm (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل)، انتخابی کمیشن
- ↑ "سیاسی جماعتیں"، وزارت داخلہ
- ↑ "فوج کا کردار"، بحران گروپ
- ↑ "نسلی تنازعات"، ہیومن رائٹس واچ
- ↑ "انسانی حقوق"، اقوام متحدہ
- ↑ "بین الاقوامی رد عمل"، آسیان
- ↑ "معاشی اثرات"، عالمی بینک
- ↑ "مستقبل کے امکانات"، بحران گروپ