میاں شاہ دین

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میاں شاہ دین
معلومات شخصیت
پیدائش 2 اپریل 1868  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 2 جولا‎ئی 1918 (50 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
جماعت پاکستان مسلم لیگ  ویکی ڈیٹا پر (P102) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ منصف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میاں شاہ دین (پیدائش: 2 اپریل 1868ء– وفات: 2 جولائی 1918ء[1]) پنجاب سے تعلق رکھنے والے سیاستدان اور جسٹس چیف کورٹ، لاہور تھے۔

سوانح[ترمیم]

جسٹس میاں شاہدین

میاں شاہ دین کا تعلق باغبانپورہ کے میاں خاندان سے تھا جو ایک نامور آرائیں خاندان تھا۔ اس خاندان کو میاں کا خطاب مغلیہ سلطنت سے ملا۔ والد میاں نظام الدین فاضل بزرگ تھے جبکہ دادا میاں قادر بخش نادر جدید علوم کے علاوہ فارسی اور عربی کے جید عالم تھے۔ مہاراجہ رنجیت سنگھ نے علمی اور عملی قابلیت سے متاثر ہوتے ہوئے نا صرف میاں قادر بخش کو اعلی اعہدوں پر فائز کیا بلکہ شاہی خاندان کے بچوں کی اتالیقی پر مامور کیا۔ طبیعت شعر و سخن پر مائل تھی اور تخلص نادر تھا۔ میاں شاہ دین کی پیدائش 2 اپریل 1868ء کو باغبانپورہ، لاہور میں ہوئی۔ نام شاہ دین اور تخلص ہمایوں تھا۔ برٹش دور کے پہلے مسلمان چیف جسٹس تھے،

حلیہ[ترمیم]

میاں شاہ دین کا قد پست، بدن بھاری، چہرہ کتابی شہابی، پیشانی فراخ، آنکھیں قدرتی طور پر خمار آلود، ناک بلند، ابرو گھنے، ہونٹ پتلے پتلے، بال پیچھے کی طرف کو مڑے ہوئے، داڑھی سیاہ بھری بھری اقر مقطع شکل کی، شکل سے بزرگی کے آثار معلوم ہوتے تھے۔[2] غالباً یہ حلیہ 1890ء کے بعد کا ہے۔

تعلیم[ترمیم]

میاں شاہ دین کی ابتدائی تعلیم باغبانپورہ میں ہوئی۔ 1874ء میں 6 سال کی عمر میں ناظرہ قرآن ختم کیا۔ مڈل کے امتحان میں اول درجہ حاصل کیا۔ انٹر کے امتحانات میں پنجاب بھر میں انگریزی میں اول آئے۔ بی اے کا امتحان امتیازی حیثیت سے پاس کیا اور 1887ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے بی اے کا امتحان پاس کرنے کے بعد مزید تعلیم کے لیے انگلستان چلے گئے۔ 1890ء میں بیرسٹر بن کر واپس لاہور آئے۔ انگریزی خطابات اور اردو تقاریر میں اپنی علمیت اور جودتِ طبع کی ایسی دھاک بٹھائی کہ جامعہ پنجاب، لاہور کی مجلس انتظامیہ کے رکن مقرر کردیے گئے۔[3] وہ پہلے مسلم طالب علم تھے جو قانون کی اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے پنجاب سے انگلستان روانہ ہوئے تھے۔10 نومبر 1889ء کو لندن میں جب انجمن اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی تو میاں شاہ دین اِس انجمن میں شامل ہو گئے۔ یہ پہلی مسلم انجمن تھی جو لندن میں تشکیل پائی۔ میاں شاہ دین اِس انجمن کے نائب صدر منتخب کیے گئے۔

بحیثیت جج[ترمیم]

اکتوبر 1908ء میں میاں شاہ دین کو چیف کورٹ آف لاہور کا جج مقرر کر دیا گیا، وہ اِس عہدے پر فائز ہونے والے پہلے مسلمان تھے۔

اقبال اور ہمایوں[ترمیم]

علامہ اقبال کے آپ سے گہرے مراسم تھے۔ 10نومبر 1889ء کو جب لندن میں انجمنِ اسلامیہ کی بنیاد رکھی گئی تو آپ اس میں شامل ہو گئے۔ یہ پہلی مسلم انجمن تھی جس کی بنیاد لندن میں رکھی گئی تھی۔ آپ اس انجمن کے نائب صدر منتخب کیے گئے۔ آپ کے فرزند میاں بشیر احمد نے بعد ازاں آپ کی یاد میں 1923ء میں ہمایوں نامی جریدے کا اجرا کیا۔ اس میں علامہ اقبال کا کلام بھی شائع ہوتا تھا۔ علامہ اقبال نے آپ کی وفات پر ایک نظم لکھی‘ جو بانگِ درا میں ’ہمایوں‘ کے عنوان سے موجود ہے جبکہ آپ کی وفات پر علامہ اقبال نے دو قطعاتِ تاریخ بھی نکالے۔[4]

وفات[ترمیم]

میاں شاہ دین کا انتقال 2 جولائی 1918ء کو 50 سال 3 ماہ کی عمر میں لاہور میں ہوا۔ تدفین اُن کے آبائی میاں قبرستان، واقع باغبانپورہ، لاہور میں کی گئی۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبال نے تاریخ وفات یوں کہی:

در گلستانِ دہر ہمایونِ نکتہ سنج

آمد مثالِ شبنم و چوں بوئے گل دمید

می جست عندلیب خوش ہنگ سال فوت

"علامہ فصیح" زہر چار سو شنید

1336ھ

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرہ ماہ و سال، صفحہ 414۔ مطبوعہ دہلی، 2011ء
  2. محمد عبد اللہ قریشی: معاصرین اقبال کی نظر میں، صفحہ 78، مطبوعہ لاہور 2010ء
  3. محمد عبد اللہ قریشی: معاصرین اقبال کی نظر میں، صفحہ 77، مطبوعہ لاہور 2010ء
  4. (تحریر و تحقیق: میاں ساجد علی‘ علامہ اقبال سٹمپ سوسائٹی)