میاں طفیل محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

میاں طفیل محمد کی وجہ شہرت ان کا جماعت اسلامی میں گرانقدر خدمات کا سر انجام دینا ہے۔ آپ 1944ء سے جماعت اسلامی کے سیکرٹری جنرل،1966 ء سے1971ء تک مغربی پاکستان کے امیر اور مرکزی نائب امیر اور پھر نومبر 1972ء سےاکتوبر 1987ء تک امیر جماعت اسلامی پاکستان رہے[1]۔

ابتدائی حالات زندگی[ترمیم]

میاں طفیل محمد نومبر1913ء میں مشرقی پنجاب کی ریاست کپورتھلہ کے ایک گاؤں صفدر پور ارائیاں کے ایک کاشت کار مذہبی رجحان رکھنے والے گھرانے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اسکول میں معلم ہونے کے ساتھ کاشت کاری بھی کیا کرتے تھے۔ میاں صاحب اپنے بہن بھائیوں میں بڑے ہیں۔ پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے اسکول سے، مڈل قصبہ نڈالہ کے اسکول سے کیا۔ میٹرک کا امتحان کپور تھلہ کے رندھیر ہائی اسکول اور ایف ایس سی(پری انجینئرنگ) رندھیر انٹر کالج' کپور تھلہ امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا۔ لاہور کے گورنمنٹ کالج سے ریاضی اور فزکس کے ساتھ بی ایس سی آنرز کیا۔ پنجاب یونیورسٹی لا کالج،لاہور سے ایل ایل بی1937ء میں دوسری پوزیشن حاصل کی۔ سابق چیف جسٹس آف پاکستان محمد منیر آپ کے اساتذہ میں سے ہیں۔ایل ایل بی کرنے کے بعد آپ نے جالندھر میں شیخ محمد شریف(بعد ازاں سپریم کورٹ آف پاکستان کے جج) کے ہمراہ وکالت شروع کی۔ ایک سال تک ان کے ساتھ کام کرنے کے بعد آپ نے کپورتھلہ منتقل ہو کر وہاں اپنی آزاد وکالت کا آغاز کردیا۔ آپ ریاست کپورتھلہ کے پہلے مسلمان(ایل ایل بی) وکیل تھے۔

جماعت میں شمولیت[ترمیم]

سید ابو الاعلیٰ مودودی کے جاری کردہ رسالے ترجمان القرآن کے مستقل قاری تھے۔ جب جماعت اسلامی کا تاسیسی اجتماع مقرر ہوا تو آپ نے اجتماع میں شرکت کی اور اپنی خدمات جماعت کے لیے وقف کر دیں۔ جماعتی ضروریات کے پیش نظر 21 جنوری1942ء کو آپ نے وکالت ترک کردی۔ تجارت کو ذریعہ معاش بنایا۔ بقول میاں صاحب کے یہ عرصہ معاشی سختی مگر روحانی سکون سے گزرا۔ اس وقت کے امیر جماعت اسلامی لاہور ملک نصر اللہ خان کی تجویز آپ کو قیم مقرر کردیا گیا اورآپ نے17 اپریل1944ء کو دارالاسلام پہنچ کر جماعت کے کام کا چارج سنبھال لیا۔ قیم جماعت بننے کے بعد آپ نے تنظیمی امور کی طرف خاص توجہ دی، ارکان جماعت کو فعال کیا۔ اور ارکان و کارکنان سے رابطے اور دعوت و تنظیم کے سلسلے میں ان کی رہنمائی کے لیے ہندوستان بھر میں دورے کیے۔ اس دوران آپ مذہبی و سیاسی رہنماؤں سے ملاقاتیں کرکے ان تک جماعت کی دعوت پہنچاتے۔
جماعت اسلامی میں نمایاں مقام رکھنے کے سبسب متعدد بار پابند سلاسل ہوئے مگر پہلی گرفتاری اسلامی نظام کے نفاذ کی تحریک میں بھرپور حصہ لینے کے باعث 4 اکتوبر1948ء کو آپ کو گرفتار کر کے قصور جیل منتقل کردیا گیا۔ جبکہ14 اکتوبر کو آپ کو قصور سے ملتان جیل بھیج دیا گیا۔ اپریل1950ء میں نظربندی کی مدت میں توسیع ہوئی لیکن اس دوران لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں قرار دیا کہ"پنجاب پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت کسی شخص کو اٹھارہ ماہ سے زیادہ قید نہیں رکھا جا سکتا"۔ چنانچہ28مئی کو آپ کو مولانا مودودی کے ہمراہ ملتان سے رہا کردیا گیا۔ جیل میں قید کے دوران آپ نے سید مودودی سے سورہ یوسف سے سورہ الناس تک قرآن مجید سبقاً پڑھا۔ حدیث کی مشہور کتاب مؤطا امام مالک مع متن سبقاً مولانا امین احسن اصلاحی صاحب سے پڑھی اور انہی سے اس دوران عربی زبان سیکھی۔[2]

جماعت میں خدمات[ترمیم]

میاں صاحب نے1965ء تک قیم جماعت کی حیثیت سے خدمات انجام دیں۔ جنوری1966ء میں نائب امیر جماعت کی ذمہ داری پر فائز ہوئے۔ اس دوران آپ جماعت اسلامی مغربی پاکستان کے امیربھی رہے، جبکہ متعد مرتبہ آپ نے سید مودودی کی جگہ قائم مقام امیر کے فرائض انجام دیے۔1965ء میں جوائنٹ اپوزیشن (سی او پی)کا قیام عمل میں آیا تو میاں صاحب اس کے مرکزی رہنماؤں میں سے تھے۔ عوام میں جمہوری شعور پیداکرنے اور ملک میں جمہوریت کے حق میں ایک مضبوط تحریک چلانے کے لیے آپ نے دیگر رہنماؤں کے ہمراہ مشرقی و مغربی پاکستان کا دورہ کیا۔ اس تحریک نے ملک میں پہلی مرتبہ ایوب خان کی ڈکٹیٹر شپ کو چیلنج کیا۔ بعد ازاں میاں صاحب نے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ(پی ڈی ایم) اور ڈیموکریٹک ایکشن کمیٹی(ڈیک) میں جماعت کی طرف سے نہایت فعال کردار اداکیا۔ انھی تحریکوں کا نتیجہ تھا کہ 1969ء میں ایوبی آمریت ختم ہوئی اور1970ء میں ملک میں پہلے عام انتخابات ہوئے۔ جولائی اگست1971ء میں جب مغربی پاکستان سے کوئی لیڈر مشرقی پاکستان جانے کے لیے تیار نہیں تھا، میاں صاحب نے مشرقی پاکستان کا تفصیلی دورہ کیا اور وہاں کے لوگوں کو اتحاد اور اسلامی بھائی چارے کا پیغام دیا۔
نومبر1972ء میں آپ نے جماعت اسلامی پاکستان کے امیر کا حلف اٹھایا۔ امیر جماعت بننے کے بعد آپ نے تربیت گاہوں کے ذریعے جماعت کے بنیادی لٹریچر سے تجدید کی مہم شروع کی۔ کارکنان کی تربیت اور قیادت سے براہ راست رابطے کے لیے مرکز میں ماہانہ دس روزہ تربیت گاہ کا اہتمام کیا۔ اسی طرح پورے ملک میں قرآنی حلقوں کا نیا سلسلہ شروع کیا، اور کم از کم تین ہزار مقامات پر یہ حلقہ ہائے درس قائم ہوئے۔
مارچ1973ء میں اپوزیشن جماعتوں پر مشتمل متحدہ جمہوری محاذ(یو ڈی ایف) کے قیام میں میاں صاحب نے بھرپور کردار ادا کیا۔ محاذ کی مسلسل جدوجہد سے قوم کو1973ء کا متفقہ آئین نصیب ہوا۔جنوری1977ء میں پاکستان قومی اتحاد(پی این اے) کے قیام میں بھی آپ نے کلیدی رول ادا کیا۔ آپ کی امارت کے دوران جب روس نے دسمبر1979ء میں افغانستان پر قبضہ کیا تو آپ نے اس کو دفاع پاکستان کی جنگ سمجھتے ہوئے افغانوں کا ساتھ دیا۔

جماعت اسلامی کی امارت سے فراغت[ترمیم]

میاں صاحب نے اکتوبر1987ء تک امیر جماعت کے فرائض انجام دیے۔ امارت سے فارغ ہونے کے بعد ادارہ معارف اسلامی، منصورہ کے چئیر مین اور عالمی مساجد کونسل کے رکن کی ذمہ داریاں ادا کررہے ہیں۔

وفات[ترمیم]

24 جون 2009 جمعرات کی شب میاں طفیل محمد لاہور میں انتقال کرگئے۔ ان کی عمر پچانوے برس تھی۔ میاں طفیل محمد کی پندرہ روز قبل دماغ کی شریان پھٹ گئی تھی جس کے بعد انہیں شیخ زید ہسپتال میں داخل کرادیا گیا تھاجہاں وہ جمعرات کی شب اپنے خالق حقیقی سے جاملے۔

تصانیف[ترمیم]

  • دعوت اسلامی اور اس کے مطالبات(شریک مصنف)
  • دعوت اسلامی اور مسلمانوں کے فرائض
  • اردوترجمہ کشف المحجوب از سید علی ہجویری
  • متعدد مقالات اور پمفلٹ

آپ نے 1959ء میں اسلامک پبلی کیشنز کی بنیاد رکھی۔ اس ادارے کا مقصد اسلامی و تعمیری لٹریچر کی تجارتی بنیادوں پر اشاعت کا اہتمام کرنا تھا۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. جماعت اسلامی کے ذاتی موقع روئےخط سے
  2. http://www.bbc.co.uk/urdu/pakistan/2009/06/090625_mian_tufail.shtml

مدونات[ترمیم]