نواز شریف

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(میاں محمد نواز شریف سے رجوع مکرر)
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
نواز شریف
PrimeMinisterNawazSharif.jpg
بارہویں، چودہویں اور بیسویں وزیر اعظم پاکستان
عہدہ سنبھالا
5 جون 2013 – 28 جولائی 2017
صدر آصف علی زرداری
ممنون حسین
پیشرو میر ہزار خان کھوسو
جانشین شاہد خاقان عباسی
عہدہ سنبھالا
17 فروری 1997 – 12 اکتوبر 1999
صدر فاروق احمد خان لغاری
وسیم سجاد
رفیق تارڑ
پیشرو معراج خالد
جانشین پرویز مشرف (بطور چیف ایگزیکٹیو)
ظفر اللہ خان جمالی (بطور وزیراعظم)
عہدہ سنبھالا
6 نومبر 1990 – 18 جولائی 1993
صدر غلام اسحاق خان
پیشرو غلام مصطفیٰ جتوئی
جانشین معین الدین احمد قریشی
قائد حزب اختلاف
عہدہ سنبھالا
19 اکتوبر 1993 – 5 نومبر 1996
پیشرو بینظیر بھٹو
جانشین بینظیر بھٹو
وزیر اعلیٰ پنجاب
عہدہ سنبھالا
9 اپریل 1985 – 13 اگست 1990
گورنر غلام جیلانی خان
مخدوم سجاد حسین قریشی
ٹکا خان
پیشرو صادق حسین قریشی
جانشین غلام حیدر وائیں
رہنما پاکستان مسلم لیگ (ن)
عہدہ سنبھالا
27 جولائی 2011 – 28 جولائی 2017ء
پیشرو مخدوم جاوید ہاشمی
عہدہ سنبھالا
6 اکتوبر 1993 – 12 اکتوبر 1999
پیشرو آغاز
جانشین کلثوم نواز شریف
ذاتی تفصیلات
پیدائش محمد نواز شریف
25 دسمبر 1949 (1949-12-25) ‏(67)
لاہور، پنجاب، پاکستان
سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) (1993-تاحال)
دیگر سیاسی
وابستگیاں
اسلامی جمہوری اتحاد (1988–1993)
پاکستان مسلم لیگ (1988 کے بعد سے)
شریک حیات کلثوم نواز شریف (شادی۔ 1970)
تعلقات دیکھیے شریف خاندان
اولاد مریم نواز
حسن
حسین
والدین میاں محمد شریف
شمیم شریف
رہائش رائے ونڈ محل، رائے ونڈ
مادر علمی پنجاب یونیورسٹی لا کالج
گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور
ویب سائٹ pmln.org

میاں محمد نواز شریف (ولادت: 25 دسمبر، 1949ء، لاہور) پاکستان کے سابقہ وزیر اعظم اور پاکستان کی دوسری بڑی سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سربراہ۔ نواز شریف تین بار 1990ء تا 1993ء، 1997ء تا 1999ء اور آخری بار ء2013 تا 2017ء وزیر اعظم پاکستان پر رہے۔ اس سے پہلے 1985 تا 1990 وزیر اعلیٰ پنجاب رہے۔

نواز شریف ایک درمیانی امیر گھرانے شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ اتفاق گروپ اور شریف گروپ کے بانی میاں محمد شریف ان کے والد اور تین بار وزیر اعلیٰ پنجاب رہنے والے شہباز شریف ان کے بھائی ہیں۔ نواز شریف نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور سے تجارت کی تعلیم اور 1970ء کی دہائی کے آخر میں سیاست میں داخل ہونے سے پہلے پنجاب یونیورسٹی لا کالج سے قانون کی تعلیم حاصل کی۔ 1981ء میں محمد ضیاء الحق کی فوجی حکومت کے دوران میں پنجاب کے وزیر خزانہ بنے۔ کچھ حمایتیوں کے سبب، نواز شریف ضیا دور ہی میں، وزیر اعلیٰ پنجاب منتخب ہوئے، جس پر دوبارہ مارشل لا کے بعد 1988ء میں منتخب ہوئے۔ 1990ء میں اسلامی جمہوری اتحاد کی سربراہی کی، جس پر فتح ملی اور وزیراعظم بنے۔ بعد میں یہ الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستان کی انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی نے نواز شریف کے حق میں انتخابی عمل میں لاکھوں روپے کی رشوت سیاست دانوں میں تقسیم کی۔

پہلی شریف انتظامیہ کو غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کے الزام میں برطرف کر دیا، جس پر نواز شریف نے عدالت عظمیٰ پاکستان سے رجوع کیا۔ 15 جون 1993ء کو منصف اعلیٰ نسیم حسن شاہ نے نواز شریف کو بحال کر دیا۔ نواز شریف نے جولائی 1993ء میں ایک معاہدے کے تحت استعفا دے دیا جس کے باعث صدر کو بھی اپنا عہدا چھوڑنا پڑا۔ نواز شریف فروری 1997ء میں بھاری اکثریت سے دوبارہ اس عہدے پر فائز ہوئے۔[1][2] انہیں اکتوبر 1999ء میں جنرل (ریٹائرڈ) پرویز مشرف کی فوجی بغاوت میں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔[3][4]

ذاتی زندگی اور تعلیم

نواز شریف 25 دسمبر 1949ء[5][6] کو پنجاب، لاہور میں کشمیری[6] شریف خاندان میں پیدا ہوئے۔ نواز شریف کی والدہ کا تعلق پلوامہ سے تھا۔[7] ان کے والد میاں محمد شریف ایک کشمیری صنعت کار و تاجر تھے جن کا تعلق کشمیر کے ضلع اننت ناگ سے تھا، وہاں سے ہجرت کر کے وہ جاتی عمرہ، امرتسر میں چلے گئے، اور وہاں کاروبار شروع کیا، محمد علی جناح کی قیادت میں تحریک پاکستان جاری تھی، جس کے نتیجے میں 1947ء میں پاکستان آزاد ہو کيا تو، وہ امرتسر سے لاہور منتقل ہو گئے۔ میاں محمد شریف شروع میں ڈاکٹر طاہر القادری سے متاثر تھے، بعد ازاں وہ عدم تقلید کی طرف مائل ہو گئے۔ نواز شریف نے ابتدائی تعليم سينٹ اينتھنيز ہائیاسکول، لاہور سے حاصل کی۔ گورنمنٹ کالج لاہور سے گريجويشن کرنے کے بعد پنجاب یونیورسٹی سے قانون (وکالت) کی ڈگری حاصل کی۔

سیاسی تاریخ

نوازشریف کی سیاسی تربیت پاکستان کے فوجی آمر جنرل محمد ضیاءالحق کے زیر سایہ ہوئی۔ ضیاء دور میں وہ لمبے عرصے تک پنجاب حکومت میں شامل رہے۔ وہ کچھ عرصہ پنجاب کی صوبائی کونسل کا حصہ رہنے کے بعد 1981ء ميں پنجاب کی صوبائی کابينہ ميں بطور وزيرِخزانہ شامل ہو گئے۔ وہ صوبے کے سالانہ ترقياتی پروگرام ميں ديہی ترقی کے حصے کو 70% تک لانے ميں کامياب ہوۓ۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ کھيلوں کے وزير بھی رہے اور صوبے میں کھيلوں کی سرگرميوں کی نۓ سرے سے تنظيم کی۔

آمریت کے زیرِ سایہ 1985ء میں ہونے والے غیر جماعتی انتخابات ميں مياں نواز شریف قومی اور صوبایی اسمبليوں کی سيٹوں پہ بھاری اکثريت سے کامياب ہوئے۔ 9 اپريل ،1985ء کو انھوں نے پنجاب کے وزيرِاعلٰی کی حيثيت سے حلف اٹھايا۔ 31 مئی 1988ء کو جنرل ضياءالحق نے جونیجو حکومت کو برطرف کردیا تاہم مياں نواز شريف کو نگران وزیراعلٰی پنجاب کی حیثیت سے برقرار رکھا گیا۔ [8] یہ امر نوازشریف کے جنرل ضیاء سے قریبی مراسم کی نشاندہی کرتا ہے۔ جنرل ضیاء نے ایک بار نوازشریف کو اپنی عمر لگ جانے کی بھی دعا دی۔

1988ء میں پیپلز پارٹی کو شکست دینے کے لیے جب جنرل جیلانی نے خفیہ فنڈ استعمال کیا اور رقمیں تقسیم کیں تو نواز شریف صاحب نے بھی اس سے خوب فائدہ اٹھایا۔ [حوالہ درکار] انہوں نے جنرل جیلانی کے ایماء اور فراہم کردہ سرمائے سے اسلامی جمہوری اتحاد تشکیل دیا۔ اس کھلی دھاندلی کے ذریعے نواز شریف 1988ء کے انتخابات ميں دوبارہ وزيرِاعلٰی منتخِب ہوۓ۔ [حوالہ درکار] ان کی اس مدت ميں مّری اور کہُوٹہ ميں زبردست تّرقی ہوئی۔

بطور وزیر اعظم

6 نومبر 1990ء کو نواز شريف نے اس وقت بطور منتخِب وزيرِاعظم حلف اُٹھايا جب ان کی انتخابی جماعت،اسلامی جمہوری اتحاد نے اکتوبر 1990ء کے انتخابات ميں کاميابی حاصل کی۔ تاہم وہ اپنی پانچ سال کی مدت پوری نہ کر سکے اور ان کو اس وقت کے صدر نے ان کو ان کے عہدے سے فارغ کر ديا۔ اگرچہ ملک کی عدالتِ اعظمٰی نے ايک آئينی مقدمے کے بعد انھيں دوبارہ ان کے عہدے پہ بحال تو کر ديا،ليکن ان کو جولائي 1993ء ميں صدر کے ساتھ اپنے عہدے سے استعفا دينا پڑا۔ ان کے زمانۂ وزارتِ اعظمٰی کے دوران ، نجی شعبہ کے تعاون سے ملکی صنعت کو مضبوط بنانے کی کوششیں کی گئيں۔غازی بروتھا اور گوادر بندرگاہ جيسے منصوبے شروع کيے گئے- سندھ کے بےزمین ہاريوں ميں زمينيں تقسیم کی گئیں۔ وسطی ایشیائی مسلم ممالک سے تعلقات مستحکم کیے گئے۔ اقتصادی تعاون تنظیم کو ترقی دی گئی۔ افغانستان کے بحران کو حل کرانے ميں مدد دی گئي اور مختلف افغان دھڑوں نے "معاہدۂ اسلام آباد" پہ دستخط کيے۔ ان کے دورِحکومت کی اہم خوبی، پریسلر ترمیم کے تحت نافذ کی گئيں امریکی پابندیوں کے باوجود معاشی ترقی کا حصول تھی۔ اکتوبر 1999ء میں نواز شریف نے اس وقت کے فوج کے سربراہ پرویز مشرف کو ہٹا کر نئے فوجی سربراہ کے کی تعیناتی کی کوشش کی۔ فوج کا کردار قومی سیاست میں کم کرنے کی یہ دیانتدارانہ کوشش ان کے لیے آفت بن گئی اور ایک فوج بغاوت کے بعد ان کی حکومت کو ختم کر دیا گیا۔

جلاوطنی

فوج کی طرف سے ان کی حکومت ختم ہونے کے بعد ان پر مقدمہ چلا، جو "طیارہ سازش کیس" کے نام سے مشہور ہوا۔ اس میں اغوا اور قتل کے الزامات شامل تھے۔ فوج کے ساتھ ایک خفیہ معاہدے کے بعد سعودی عرب چلے گئے۔ 2006ء میں میثاق جمہوریت پر بے نظیر بھٹو سے مل کر دستخط کیے اور فوج حکومت کے خاتمے کے عزم کا اعادہ کیا۔ 23 اگست، 2007ء کو عدالت عظمٰی نے شریف خاندان کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے ان کی وطن واپسی پر حکومتی اعتراض رد کرتے ہوئے پورے خاندان کو وطن واپسی کی اجازت دے دی۔[9][10]

ایمرجنسی

تفصیلی مضمون ایمرجنسی کا نفاز 2007ء

ایمرجنسی کے نفا ذ کےبعد نواز شریف اپنے خاندان کے ہمراہ سعودی عرب کے پرویز مشرف پر دباؤ کے نتیجے میں 25 نومبر، 2007ء کو لاہور پہنچ گئے۔ [11]

انتخابات 2013ء

2013 ء کے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے واضح اکثریت حاصل کی۔اس بناء پر وہ تیسری بار وزیر اعظم پاکستان کے عہدے پر فائز ہوئے۔

ایف آئی آر

انقلاب مارچ کے دوران پاک فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف کی مداخلت سے سانحہ ماڈل ٹاؤن کے دوران شہید ہونے والے 14 افراد کے قتل اور 90 سے زائد کے شدید زخمی ہونے والوں کو انصاف دلانے کیلئے وزیراعظم پاکستان میاں محمد نواز شریف سمیت 9 افراد کے خلاف قتل کی ایف آئی آر درج ہوئی۔ [12]

نااہلی

نواز شریف پانامہ کیس کی سماعت کے بعد 28 جولائی 2017ء کو نااہل قرار پائے۔

مزید دیکھیے

حوالہ جات

  1. Cite error: حوالہ بنام Mittal کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  2. Hassan، Syed Shoaib (12 مارچ2009). "Profile: Nawaz Sharif". BBC News. http://news.bbc.co.uk/2/hi/south_asia/6959782.stm۔ اخذ کردہ بتاریخ 27 اکتوبر 2012. 
  3. Cite error: حوالہ بنام BBC-1999_coup کے لیے کوئی متن فراہم نہیں کیا گیا ().
  4. Dugger، Celia W. (14 اکتوبر 1999). "Pakistan Calm After Coup; Leading General Gives No Clue About How He Will Rule". The New York Times. اخذ کردہ بتاریخ 27 اکتوبر 2012. 
  5. "Nawaz Sharif". Encyclopædia Britannica on-line. 1 جون 2003. اخذ کردہ بتاریخ 5 ستمبر 2012. 
  6. ^ 6.0 6.1 Lieven، Anatol (2011). Pakistan: A Hard Country. PublicAffairs. صفحہ۔244. https://books.google.com/books?id=fEZt49MVZIAC&pg=PA244. 
  7. Jaleel، Muzamil (6 جون 2013). "As Nawaz Sharif becomes PM, Kashmir gets voice in Pakistan power circuit". The Indian Express. http://www.indianexpress.com/news/as-nawaz-sharif-becomes-pm-kashmir-gets-voice-in-pakistan-power-circuit/1125778/۔ اخذ کردہ بتاریخ 14 جون 2013. 
  8. نواز شریف - گلوبل سکیورٹی
  9. روزنامہ نیشن، 24 اگست 2007ء، "They can come back"
  10. روزنامہ نیشن، 24 اگست 2007ء، "Friend turned foe"
  11. روزنامہ نیشن، 26 نومبر 2007ء، "نواز شریف کی واپسی"
  12. شریف برادران کے خلاف قتل کی ایف آئی آر

مزید مطالعہ و مآخذ

بیرونی روابط

سیاسی دفاتر
پیشرو 
صادق حسین قریشی
وزیر اعلیٰ پنجاب
1985–1990
جانشین 
غلام حیدر وائیں
پیشرو 
غلام مصطفیٰ جتوئی
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1990–1993
جانشین 
بلخ شیر مزاری
قائم مقام
پیشرو 
بلخ شیر مزاری
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1993
جانشین 
معین الدین احمد قریشی
قائم مقام
پیشرو 
بینظیر بھٹو
قائد حزب اختلاف
1993–1996
جانشین 
بینظیر بھٹو
پیشرو 
معراج خالد
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
1997–1999
جانشین 
پرویز مشرف
بطور چیف ایگزیکٹیو پاکستان
پیشرو 
شاہد حامد
قائم مقام
وزیر دفاع پاکستان
1997–1999
جانشین 
پرویز مشرف
پیشرو 
سرتاج عزیز
وزیر خزانہ پاکستان
قائم مقام

1998
جانشین 
اسحاق ڈار
پیشرو 
میر ہزار خان کھوسو
قائم مقام
وزیر اعظم پاکستان
2013–2017
جانشین 
انتخاب جاری
وزیر دفاع پاکستان
7 جون 2013–26 نومبر 2013
جانشین 
خواجہ محمد آصف
سیاسی جماعتوں کے عہدے
پیشرو 
فدا محمد خان
رہنما پاکستان مسلم لیگ-نواز
1993–1999
جانشین 
کلثوم نواز شریف
پیشرو 
شہباز شریف
رہنما پاکستان مسلم لیگ-نواز
2011–2017ء
جانشین 
شہباز شریف
موجودہ