میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی
پیشہ اردو شاعر, ماہر تعلیم، ٹیچر
قومیت پاکستانی
نسل علوی اعوان
تعلیم مڈل، ادیب فاضل
مادر علمی سرکل بکوٹ کے مختلف سکولوں میں 40سال تک تعلیم و تدریس
دور 1935-1963
صنف غزلنظم، قصیدہ اور نعت
مضمون حُب الوطنی, فلسفہ
ادبی تحریک تحریک پاکستان,تحریک آزادی کشمیر
نمایاں کام نغمہ جہاد (تحریک آزادی کشمیر اورآزادی سے قبل سیاسی تحریکوں کے پس منظر میں لکھی جانیوالی نظمیں اور ترانے)
شریک حیات مریم یعقوب علوی (وفات 1981)
اولاد خورشید عالم علوی، مسعود عالم علوی (پی ٹی آئی گورنمنٹ ہائر سیکنڈری سکول بیروٹ) شاہد اسلام علوی کے علاوہ دو شادی شدہ بیٹیاں (تمام کی وفات ہو چکی ہے)
رشتہ دار عدنان عالم علوی، شکیب عالم علوی (پوتے) محمد عبیداللہ علوی (صحافی) فہیم احمد علوی (ماہر تعلیم، ٹیچر) (بھتیجے))
ویب سائٹ
http://alviawanbirote.blogspot.com/ علوی اعوان نیک محمد آل قبیلہ (بیروٹ)

مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی خطہ کوہسار سرکل بکوٹ کے پہلے اردو، فارسی اور عربی کے اعلی پائے کے شاعر ، ایک عالم دین اور ماہر تعلیم تھے، ان کی شاعری اس لحاظ سے ابدی اور آفاقی ہے کہ وہ ایرانی شاعر حافظ کا رنگ، مولانا روم کا آہنگ، عمر خیام کی گیرائی و گہرائی اور سعدی شیرازی کی با معنی سادگی لئے ہوئے ہیں جبکہ ان کا ہر شعر موسیقیت کی لے میں بھی ڈوبا ہوا ہے، معانی اور مفاہیم زیادہ تر قرآن حکیم سے اخذ کردہ ہیں، اگر یہ کہا جائے کہ ان کی نظم کا ایک ایک شعر عشق رسول میں ڈوبا ہوا ہے تو بے جا نہ ہو گا،2005 کے زلزلہ میں اگرچہ ان کی کتاب سرقہ کرنے والوں کے ہاتھ لگ کر اس وقت موجود نہیں تاہم سرکل بکوٹ کی 1935 سے 1984تک کی اکثر قبروں کے کتبے آپ کی دعائیہ اور المیہ شاعری سے آراستہ ہیں، انہوں نے زیادہ تر نظمیں اسلامی تشخص، ملی درد اور جہاد کشمیر کے پس منظر میں لکھی ہیں، انہوں نے آخری سانس تک بھرپور زندگی بسر کی، ان کا ایک بڑا وسیع حلقہ ارادت بھی تھا تاہم انہیں اپنے چھوٹے بھائی اور فاضل دیوبند مولانا میاں محمد عبداللہ علوی اور جواں سال شادی شدہ بیٹے خورشید عالم علوی کی وفات نے بے بس کر کے فالج زدہ کر دیا اور اسی حالت میں انہوں نے جاں جان آفریں کے سپرد کی۔

خاندانی پس منظر[ترمیم]

مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی قطب شاہی علوی اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں، آپ کے مورث اعلی حضرت مولانا میاں قاضی نیک محمد علوی بیروٹ کے کاملال (ڈھونڈ عباسی) قبیلہ کے بزرگوں کی دعوت پر قومی کوٹ (مظفرآباد) کشمیر سے یہاں منتقل ہوئے جہاں ان کو با سہولت رہائش، تحفظ جان و مال و آبرو کی ضمانت کے ساتھ ساتھ 35کنال زرعی اراضی بھی ہبہ کی گئی ، انہوں نے بیروٹ پہنچ کر سب سے پہلے مقامی سرداروں کی کمیٹی بنا کرکھوہاس کے مقام پر بیروٹ کی دوسری مسجد اور ایک مکتب کا سنگ بنیاد رکھا اور نماز پنجگانہ اور بچے، بچیوں کی دینی اور مروجہ دنیاوی تعلیم کا آغازکیا، اس سے جہاں دینی شعائر کا ایک بار پھر احیا ہوا وہاں ہی تعلیم کے غلغلے نے شعور کے دروازے بھی کھولے، انہی مذکورہ سرداروں نےیہاں پر ایک مہمان خانہ بھی تعمیر کیا جہاں مہمانوں کی تواضع کی جانے لگی، یہ مسجد و مکتب اور مہمان خانہ اس قدر شہرت یافتہ ہوئے کے نصف صدی بعد سرکل بکوٹ کے ایک بڑے مصلح اور دینی و روحانی شخصیت میاں پیر فقیراللہ بکوٹی نہ صرف یہاں فروکش ہوئے ،انہوں نے بیروٹ کے علوی اعوان (نیک محمد آل) خاندان میں شادی کی بلکہ کھوہاس، بیروٹ کی اس مسجد میں ایک عشرے تک امامت بھی کی، میاں قاضی نیک محمد علوی کے یہاں چار فرزند ہوئے جن میں سےسب سے بڑے صاحبزادے میاں قاضی عبدالعزیز علوی کی اولاد سے مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی ہیں۔

مولانا علوی بیروٹوی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ایک نا مکمل قصیدہ، یہ غالباً 1983سے پہلے انہوں نے لکھا تھا کیونکہ اسی سال ان پر فالج کا حملہ ہوا تھا اور وہ صرف اس کے بعد لکھواتے تھے، لکھ نہیں سکتے تھے۔، ان کا یہ مخطوطہ ان کے داماد کلیم الرحمٰن اعوان نے اپنی وفات سے چھے ماہ پہلے راقم الحروف کو دیا تھا۔(عبیداللہ علوی)

تعلیم و تربیت[ترمیم]

مولانا علوی بیروٹوی 19 ستمبر 1907ء کو بیروٹ کے عالم دین میا ں میر جی علوی کے گھر پیدا ہوئے، ان کے دو بڑے بھائی مولانا میا ں اسحاق علوی اورمو لانا میا ں محمد اسماعیل علوی بھی تھے سب سے بڑے بھائی 1915 کی طاعون کی وبا کے دوران میانوالی میں زیر تعلیم تھے اور وہاں ہی انتقال کیا، اور اپنے استاد کے پہلو میں دفن ہوئے، ان کی یاد میں ان کا نام میا ں محمد اسماعیل علوی کے بڑے صاحبزادے کا رکھا گیا، میا ں محمد اسماعیل علوی ان کے دوسرے بڑے بھائی تھے جو بعد میں بیروٹ کے پہلےا سکول کے اول مدرس مقرر ہوئے، مولانا علوی بیروٹوی کے والد اپنے خسر کی فرمائش پر ان کی ولادت کے بعد بڈالہ (یونین کونسل نمبل) منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے قرآنی اور ابتدائی تعلیم اپنے والد سے حاصل کی اور مزید تعلیم کیلئے بیروٹ آ گئے جہاں انہوں نے سرکل بکوٹ کے پہلے استاذالاستاد سید معصوم علی شاہ کے کہو شرقی میں موبائل جدید مدرسہ میں داخلہ لیا اور بعد میں ورنیکلر اسکول بیروٹ سے پرائمری کا امتحان وظیفہ کے ساتھ پاس کیا، بیروٹ میں مولانا علوی بیروٹوی سرکاری وظیفہ(Scholarship) حاصل کرنے والے سرکل بکوٹ کے پہلے طالب علم تھے، انہوں نے بعد میں مڈل کا امتحان بھی پنجاب یونیورسٹی سے 1932 میں پاس کیا، اسی عرصہ میں ان کے والد دوبارہ بیروٹ منتقل ہوئے یوں انہیں بیروٹ میں مستقل قیام کے بعد شاعری کو مزید جلا ملی ، ان کی اولین شاعری کا ایک نمونہ ان کے رشتہ دار مولانا عبدالروٖ ف علوی کی بیروٹ میں موجود قبر پر لکھا ہوا ہے جس کا مطلع اس طرح سے ہے.........

وائے شد عبدالرؤف ابن میاں دفتر شہید

1935 میں انہیں اپنی مادر علمی ورنیکلر اسکول بیروٹ میں جونئر ٹیچر کی پوسٹ پر فائز کیا گیا جس سے ان کی علمی اور شاعرانہ صلاحیتوں میں مزید اضافہ ہوا اور انہیں روات مری میں انجمن اصلاح قوم ڈھونڈ کے زیر اہتمام مشاعروں میں بھی مدعو کیا جانے لگا جہاں اس وقت ہندوستان کے چوٹی کے شعراء اپنا کلام سنا کر داد حاصل کرتے اور راجہ کالا خان اور راجہ سرور خان کی مہمانداری کا لطف اٹھاتے تھے، مولانا علوی بیروٹوی نے صحافی اور مورخ محمد عبیداللہ علوی کو بتایا تھا کہ ان مشاعروں سے پہلے میں " کار شاعری کو کار بے کاراں تصور کرتا تھا مگر روات کے مشاعروں میں مولانا ظفر علی خان، مولانا عبدالمجید سالک، مولانا غلام رسول مہر اور اس طرح کی دیگر ادبی ہستیوں کو دیکھا اور انہوں نے مجھے داد بھی دی تو مجھے اپنی اہمیت اور حیثیت کا احساس بھی ہوا ، میں نے پھر عربی، فارسی اور کلاسیکل اردو اساتذہ کی شاعری کا باقاعدہ مطالعہ شروع کیا، علامہ اقبال کی شاعری سے میں 1950 کے بعد متعارف ہوا، قیام پاکستان سے قبل حفیظ جالندھری جب بھی مری آئے میں نے ان کو اپنا کلام دکھایا اور اصلاح بھی لی"انہوں نے مزید بتایا "لوگوں کی طرف سے بھی مجھے بڑی شخصیات کے کتبوں کیلئے کلام کی فرمائش کی جانے لگی اور میں ہر شخصیت کے قد کاٹھ اور اس کی قدر و قیمت کے مطابق ہر بار ایک نئی المیہ اور توصیفی نظم تخلیق کرتا"مولانا علوی بیروٹوی کی اس عرصہ میں شہرت دور دور تک پھیل گئی اور جب قائد اعظم محمد علی جناح کشمیر سے براستہ کوہالہ سرکل بکوٹ میں داخل ہوئے تو احرار تحریک کے سرگرم رکن ہونے کے باوجود مولانا پیر عتیق اللہ بکوٹی (صدر مسلم لیگ ایبٹ آباد) کی فہمائش پر قائد اعظم کا قصیدہ لکھا اور اسے قائد کی موجودگی میں پڑھا بھی، انہوں نے 14اگست 1947 کو ایجنسی گراؤنڈ مری میں بھی "صبح آزادی "کے نام سے بھی ایک نظم پڑھی جسے کم و بیش 10ہزار افراد نے سنا ، اسی سال تحریک آزادی کشمیر میں بھی عملاً بھر پور حصہ لیا اور مجاہدین کو اپنی ولولہ انگیز نظموں اور ترانوں سے حرارت ایمانی کا جوش دیا۔

خطابت و امامت[ترمیم]

مولانا یعقوب علوی بیروٹوی کی بیروٹ میں نماز جنازہ پڑھاتے ہوئے ایک تصویر(1970)

مولانا علوی بیروٹوی ایک بے مثل خطیب بھی تھے اور جب وہ کہیں بھی کسی جلسہ یا محفل میں خطاب شروع کرتے تو ایک سماں بندھ جاتا، مقامی علما انہیں سرکل بکوٹ کا عطا اللہ شاہ بخاری کہتے تھے، اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ ان کے ایک کزن مولانا سلیمان علوی جو راولپنڈی کے معروف گارڈن کالج کے طالب علم تھے اور انہوں نے 1919میں اسی کالج سے گریجویشن بھی کی تھی مگر ان کی اس علمیت اور قابلیت کو احمدی فرقہ نے کیش کروانے کیلئے انہیں اعلیٰ تعلیم کے نام پر دیار فرنگ میں بھیجنے کی کوشش کی جسے میاں پیر فقیراللہ بکوٹی نے ناکام بنا دیا، یہ کوہسار میں احمدیت کی پہلی شکست تھی جس میں اہم کردار ان کے والد حضرت مولانا میا ں میر جی علوی کا بھی تھا، اس کا سلیمان علوی کے والد، ہندوستان کے محکمہ مردم شماری کے ملازم، میاں پیر فقیراللہ بکوٹی کے برادر نسبتی اورمیا ں میر جی علوی کے سگے چوٹے بھائی میاں محمد جی علوی کو اتنا صدمہ ہوا کہ وہ فالج کے مریض بن گئے اور اسی حالت میں انتقال بھی کیا ، مولانا علوی بیروٹوی سید عطاللہ شاہ بخاری کے عقیدت مند بھی تھے اور انہوں نے اپنی خطابت میں انہی کا رنگ بھی اختیار کیا، ان کی مشہور دعااللہم جعل برکتک فی ایمانہم......................الخ، کا تو جواب ہی نہیں تھا، وہ اپنی تقاریر میں مولانا روم، سعدی، حافظ، عمر خیام اور اردو میں اپنی شاعری پڑھا کرتے تھے، اپنے والد مولانا میا ں میر جی علوی کی 1948 کی وفات کے بعد سے 1983 تک ابنی آبائی مسجد کی امامت کے فرائض انجام دیتے رہے، ان کی علالت اور وفات کے بعد اس مسجد کی امامت ان کے چھوٹے صاحبزادے شاہد اسلام علوی کے حصے میں آئی۔

مولانا علوی بیروٹوی بطور ایک شاعر[ترمیم]

مولانا میاں محمد یعقوب علوی بیروٹوی پیدائشی عالم دین ،مصور فطرت ،ایک ا دیب اور الہامی شاعر تھے، آپ نے بہت کم غزلیات کہیں مگر آپ کا میدان نظم، المیہ نگاری، منظر نگاری، دینی ترانے اور قصیدہ گوئی تھا، آپ ایک بہترین فطرت نگار بھی تھے جہاں شاعری ایک الہامی شاہکار کا سا رنگ رکھتی ہے، یہاں آمد ہی آمد ہے، آورد قسم کی کوئی چیز نظر نہیں آتی، وہ قومی، عالمی، علاقائی اور وسیع تر اسلامی تناظر میں ہر تحریک کو دیکھ کر اسے ایسے منتخب الفاظ اور اشعار میں بیان کرتے نظر آتے ہیں کہ ندرت فکر و خیال ایک ایک حرف سے جھانکتی نظر آتی ہے، صرف اگر قرآن کی اس آیت کریمہ کہ "کل نفس ذائقُۃ الموت" کی ہی ان کے الفاظ میں ترجمانی دیکھی جائے تو ان کی شاعری آفاقی معلوم ہوتی ہے جیسے:-

ہر بہار گل کو ہے دور خزاں آنے کا غم
غنچہ کو گل بننے کا اور گل کو مرجھانے کا غم
پائے عمر نوح انساں یا ہو مرگ نوجواں
دار فانی میں ہے ہر انساں کو مر جانے کا غم


حوالہ جات[ترمیم]

بیرونی روابط[ترمیم]