میجر طفیل محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
میجر طفیل محمد
معلومات شخصیت
پیدائش 22 جون 1914  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
ہوشیارپور  ویکی ڈیٹا پر مقام پیدائش (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 17 اگست 1958 (44 سال)  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لکشمی پور ضلع  ویکی ڈیٹا پر مقام وفات (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجۂ وفات لڑائی میں مقتول  ویکی ڈیٹا پر وجۂ وفات (P509) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن بورے والا، ضلع وہاڑی  ویکی ڈیٹا پر مقام دفن (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Pakistan.svg پاکستان
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  ویکی ڈیٹا پر شہریت (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی ہندوستانی فوجی اکادمی  ویکی ڈیٹا پر تعلیم از (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فوجی افسر  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ پاک فوج  ویکی ڈیٹا پر عسکری شاخ (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ میجر  ویکی ڈیٹا پر عسکری رتبہ (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں پاک بھارت جنگ 1947  ویکی ڈیٹا پر لڑائی (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میجر طفیل محمد شہید (1914 - 7 اگست 1958) پاکستان کے صوبہ پنجاب میں ہوشیار پور میں پیدا ہوئے۔ آپ کا تعلق گجر برادری سے ہے۔ خدمات کے پیش نظر انہیں پاکستان کا اعلی ترین فوجی اعزاز نشان حیدر سے نوازا گیا۔ میجر طفیل محمد نے1943 میں16 پنجاب رجمنٹ میں کمیشن حاصل کیا۔ اپنی بٹالین کے علاوہ شہری مسلح فورسز میں مختلف کمانڈ اور تدریسی تقرریوں پر مشتمل ایک امتیازی کیرئیر کے بعد انہیں 1958ء میں کمپنی کمانڈر کی حیثیت سے مشرقی پاکستان رائفلز میں تعینات کر دیا گیا۔

اگست 1958 کی ابتدا میں انہیں چند بھارتی دستوں کا صفایا کرنے کا مشن سونپا گیا جو لکشمی پور میں مورچہ بند تھے۔ انہوں نے رات کے وقت ایک بے خطا مارچ مکمل کیا اور7 اگست کو بھارتی چوکی کو گھیرے میں لے لیا۔ اپنے ساتھیوں کی قیادت کرتے ہوئے دشمن سے 15 گز کے فاصلے پر پہنچ کر انہوں نے عقب سے حملہ آور پارٹی کی قیادت کی۔ جب بھارتیوں نے مشین گن سے فائر شروع کیے تو میجر طفیل اس کا نشانہ بننے والے پہلے سپاہی تھے۔ بے تحاشہ خون بہنے کی حالت میں انہوں نے ایک گرینیڈ پھینک کر دشمن کی مشین گن کو خاموش کر دیا۔ ان کی زندگی کا چراغ رفتہ رفتہ دھیما پڑ رہا تھا مگر انہوں نے آپریشن کی ہدایات دینا جاری رکھا۔ جب دشمن کی دوسری مشین گن نے فائرنگ شروع کی تو میجر طفیل کے سیکنڈ ان کمانڈ اس کا نشانہ بن گئے میجر طفیل نے ایک نہایت پختہ نشانے کے حامل گرینیڈ کے ذریعے اس گن کو بھی تباہ کر دیا۔ دوبدو ہاتھاپائی کے دوران میجر طفیل نے دیکھا کہ بھارتی چوکی کا کمانڈر خاموشی سے ان کے ایک جوان پر حملہ آور ہونے والا تھا باوجود شدید زخمی ہونے کے میجر طفیل رینگتے ہوئے دشمن کمانڈر کے پاس پہنچ گئے اور اپنی ایک ٹانگ پھیلا دی جیسے ہی دشمن ٹھوکر کھا کر گرا میجر طفیل نے اپنے اسٹیل ہیلمٹ سے اس کے چہرے پر ضربیں لگا کر اپنے جوان کو بچالیا۔ میجر طفیل نے اپنے دستے کی قیادت جاری رکھی یہاں تک کہ بھارتی اپنے پیچھے چار لاشیں اور تین قیدی چھوڑکر فرار ہو گئے۔ اردلی اور حوالدار انہیں سٹریچر پر اٹھا کر خیمے میں لے گئے، خصوصی ریل کے ذریعے سی ایم ایچ کومیلا می‌ پیٹ کا آپریشن کر کے 4 گولیاں برآمد کی گئیں، گولیاں نکالنے کے بعد ٹانکے لگانے کے دوران شہید ہو گئے اور انہیں پاکستان کا اعلیٰ ترین فوجی اعزاز نشان حیدر عطا کیا گیا۔[1] میجر طفیل کے نام کی مناسبت سے گگو منڈی کے قریب ایک گاؤں کا نام طفیل آباد رکھا گیا۔ ان کی تدفین چک 253 ای بی میں کی گئی،

مزید[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]