میجر عطا الغنی عثمانی
| میجر عطا الغنی عثمانی | |
|---|---|
| (بنگالی میں: মুহাম্মদ আতাউল গনি ওসমানী)، (بنگالی میں: মহম্মদ আতাউল গণি ওসমানী) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 1 ستمبر 1918ء سلہٹ |
| وفات | 16 فروری 1984ء (66 سال) لندن |
| شہریت | |
| عملی زندگی | |
| مادر علمی | علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج ہندوستانی فوجی اکادمی |
| پیشہ | سیاست دان ، فوجی افسر |
| مادری زبان | سلہٹی |
| پیشہ ورانہ زبان | بنگلہ ، انگریزی ، اردو ، سلہٹی ، ہندی |
| عسکری خدمات | |
| شاخ | برطانوی ہندی فوج |
| عہدہ | جرنیل |
| لڑائیاں اور جنگیں | جنگ آزادی بنگلہ دیش |
| اعزازات | |
اعزاز یوم آزادی (1985)[1] | |
| درستی - ترمیم | |
میجر عطا الغنی عثمانی (پیدائش 1918ء، سلہٹ) دوسری جنگ عظیم میں ایک برطانوی مکینیکل ٹرانسپورٹ بٹالین کا حصہ تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستانی فوج میں شامل ہو گیا۔ 1947 میں وہ کشمیر کے محاذ پر ہندوستانی افواج کے خلاف لڑا۔ 1965ء کی جنگ میں اپنی اعلیٰ عسکری کارکردگی کے باعث ستارہ جرات اور تمغا جرات سمیت 17 تمغے حاصل کیے۔
سقوط ڈھالہ میں کردار
[ترمیم]جب مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے اس نے اپنی ہمدردیاں بدل لی اور فوج سے منحرف ہو گیا۔ اس نے ایک باغی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام آگے چل کر " مکتی باہنی " پڑا۔ 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے " راما ریس کورس میدان " میں سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کے موقعے پرمطالبہ پیش کر دیا کہ سرنڈر کرنے والے تمام پاکستانی فوجیوں اور مشرقی پاکستان میں تب تک مقیم ان ن کے خاندانوں کو غیر مشروط طور پر مکتی باہنی کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن جنرل اروڑہ نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ عثمانی کے روح فرسا جنگی جرائم سے بخوبی واقف تھے۔میجر عثمانی نے جنگ کے خاتمے کی خوشی کچھ یوں منائی تھی کہ مغربی پاکستان کی فیملیز سے 50 کے قریب بچوں کو گرفتار کروا کر ایک میدان میں لیجایا گیا۔ایک لمبے رسے کے سرے سے ایک تیز دھار سوا باندھ کر باری باری ان بچوں کے پیٹ کے آر پار کیا گیا اور رسے میں پروے اذیت سے تڑپتے، دم توڑتے ان بچوں سے رسے کی مدد سے پاکستان کے جھنڈے کا ستارہ بنایا گیا۔[2] پاکستانی فوجیوں کو مکتی باہنی کے حوالے نہ کرنے پر میجر عثمانی نے اسے طعنہ دیا کہ " اروڑہ سالا اپنے پنجابی بھائیوں کو بچا کر لے جا رہا ہے۔ "
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://cabinet.gov.bd/site/view/all_independence_awardees — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2023
- ↑ " جانباز " از ابو شجاع وقار
- 1918ء کی پیدائشیں
- 1 ستمبر کی پیدائشیں
- 1984ء کی وفیات
- 16 فروری کی وفیات
- لندن میں وفات پانے والی شخصیات
- جامعہ علی گڑھ کے فضلا
- بیسویں صدی کی بنگالی شخصیات
- بنگلہ دیشی مسلم
- برطانوی ہندی فوج کے افسر
- پاک بھارت جنگ 1971ء کے جرنیل
- دوسری جنگ عظیم کی ہندوستانی فوجی شخصیات
- پاک بھارت جنگ 1971ء
- بنگلہ دیشی جرنیل
- عہدیداران پاک فوج
- پاکستان کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج کے سابق طلباء
- پاکستان کے عام انتخابات 1970ء کے سیاسی امیدوار
- سربراہ عسکریہ بنگلہ دیش
- بنگلہ دیشی شخصیات
- بنگلہ دیش عوامی لیگ کے سیاست دان
- بنگلہ دیشی سیاست دان
- دوسری جنگ عظیم کی عسکری شخصیات
