مندرجات کا رخ کریں

میجر عطا الغنی عثمانی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
میجر عطا الغنی عثمانی
(بنگالی میں: মুহাম্মদ আতাউল গনি ওসমানী)، (بنگالی میں: মহম্মদ আতাউল গণি ওসমানী)  ویکی ڈیٹا پر  (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
پیدائش 1 ستمبر 1918ء   ویکی ڈیٹا پر  (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
سلہٹ   ویکی ڈیٹا پر  (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 16 فروری 1984ء (66 سال)  ویکی ڈیٹا پر  (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لندن   ویکی ڈیٹا پر  (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت عوامی جمہوریہ بنگلہ دیش
برطانوی ہند
پاکستان   ویکی ڈیٹا پر  (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
مادر علمی علی گڑھ مسلم یونیورسٹی
کمانڈ اینڈ اسٹاف کالج
ہندوستانی فوجی اکادمی   ویکی ڈیٹا پر  (P69) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ سیاست دان ،  فوجی افسر   ویکی ڈیٹا پر  (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مادری زبان سلہٹی   ویکی ڈیٹا پر  (P103) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان بنگلہ ،  انگریزی ،  اردو ،  سلہٹی ،  ہندی   ویکی ڈیٹا پر  (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عسکری خدمات
شاخ برطانوی ہندی فوج   ویکی ڈیٹا پر  (P241) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عہدہ جرنیل   ویکی ڈیٹا پر  (P410) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لڑائیاں اور جنگیں جنگ آزادی بنگلہ دیش   ویکی ڈیٹا پر  (P607) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
اعزاز یوم آزادی (1985)[1]  ویکی ڈیٹا پر  (P166) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

میجر عطا الغنی عثمانی (پیدائش 1918ء، سلہٹ) دوسری جنگ عظیم میں ایک برطانوی مکینیکل ٹرانسپورٹ بٹالین کا حصہ تھا۔ تقسیم کے بعد وہ پاکستانی فوج میں شامل ہو گیا۔ 1947 میں وہ کشمیر کے محاذ پر ہندوستانی افواج کے خلاف لڑا۔ 1965ء کی جنگ میں اپنی اعلیٰ عسکری کارکردگی کے باعث ستارہ جرات اور تمغا جرات سمیت 17 تمغے حاصل کیے۔

سقوط ڈھالہ میں کردار

[ترمیم]

جب مشرقی پاکستان میں حالات خراب ہوئے اس نے اپنی ہمدردیاں بدل لی اور فوج سے منحرف ہو گیا۔ اس نے ایک باغی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا نام آگے چل کر " مکتی باہنی " پڑا۔ 16 دسمبر 1971 کو ڈھاکہ کے " راما ریس کورس میدان " میں سرنڈر کی دستاویزات پر دستخط کے موقعے پرمطالبہ پیش کر دیا کہ سرنڈر کرنے والے تمام پاکستانی فوجیوں اور مشرقی پاکستان میں تب تک مقیم ان ن کے خاندانوں کو غیر مشروط طور پر مکتی باہنی کے حوالے کر دیا جائے۔ لیکن جنرل اروڑہ نے یہ مطالبہ ماننے سے صاف انکار کر دیا۔ کیونکہ وہ عثمانی کے روح فرسا جنگی جرائم سے بخوبی واقف تھے۔میجر عثمانی نے جنگ کے خاتمے کی خوشی کچھ یوں منائی تھی کہ مغربی پاکستان کی فیملیز سے 50 کے قریب بچوں کو گرفتار کروا کر ایک میدان میں لیجایا گیا۔ایک لمبے رسے کے سرے سے ایک تیز دھار سوا باندھ کر باری باری ان بچوں کے پیٹ کے آر پار کیا گیا اور رسے میں پروے اذیت سے تڑپتے، دم توڑتے ان بچوں سے رسے کی مدد سے پاکستان کے جھنڈے کا ستارہ بنایا گیا۔[2] پاکستانی فوجیوں کو مکتی باہنی کے حوالے نہ کرنے پر میجر عثمانی نے اسے طعنہ دیا کہ " اروڑہ سالا اپنے پنجابی بھائیوں کو بچا کر لے جا رہا ہے۔ "

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ https://cabinet.gov.bd/site/view/all_independence_awardees — اخذ شدہ بتاریخ: 22 اگست 2023
  2. ↑ " جانباز " از ابو شجاع وقار