میر صادق

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

میر صادق، ریاست حیدرآباد دکن کے ایک شہری تھے۔ یہ حیدر علی کا معتمد خاص تھا حیدر آباد دکن کے میر عالم کا بھائی تھا مذہبا شیعہ اور عجمی النسل تھا میر صادق متحدہ ہندوستان میں میسور کے سلطان ٹیپو سلطان کے دربار میں وزیر کے عہدے پر فائز تھے۔ سلطان حیدر علی نے ایک مرتبہ اسے معزول کر دیا اگرچہ پھر بحال بھی کر دیا لیکن میر صادق نے یہ بات دل میں رکھی اوراپنی توہین کے انتقام پر تلا ہوا تھا تیسری میسور کی جنگ کے بعد ٹیپو سلطان نے اصلاحات کیں ایک مجلس قائم کی جس کا نام ’’زمرہ غم نباشد‘‘ رکھا اس مجلس کے قیام کی وجہ یہ تھی کہ عوام میں سلطنت کی ذمہ داری کا احساس پیدا ہو میر صادق نے اسے ناکام بنا دیا میر صادق کے اثر ورسوخ کا یہ عالم تھا کہ وہ سلطان تک کوئی خبر ہی نہ پہنچنے دیتا اسی وجہ سے تیسری اورچوتھی انگلو میسور جنگ میں ٹیپو سلطان نے شکست کھائی میر صادق کے بارے میں یہ مصدقہ اطلاعات ہیں کہ اس نے ٹیپو سلطان سے غداری کی اور سلطنت برطانیہ کا ساتھ دیا سرنگا پٹم کے محاصرے کے دوران آخری دن 4 مئی 1899ءکو انگریزوں کی آمد کی خبر سن کر جب ٹیپو سلطان ڈگی دروازے سے باہر نکلا تو میر صادق نے دروازہ اند ر سے بند کرا دیا اس غدار کو خوف تھا کہ سلطان واپس آکر انگریزوں سے صلح نہ کر لےدروازے بند کر دینے کے بعد اس نے فصیل قلعہ پر سلطان کی موجودگی کی اطلاع انگریزون کو دی جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ انگریز فوج نے تین طرف سے سمٹ کر فصیل قلعہ پر گولیاں برسائیں جس کی وجہ سے میسور میں اس جنگ کے دوران ٹیپو سلطان کو شہید کر دیا گیا اس شکست سے اسلامی ریاست میسور ختم ہو گئی۔[1] [2] میر صادق کو 1799ء میں سرنگاپٹم کی جھڑپ کے دوران قتل کر دیا گیا تھا۔ علامہ اقبال نے کہا تھا

  • جعفر از بنگال و صدق از دکن
  • ننگ آدم ننگ دین ننگ وطن

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ سلطنت خدادا میسور: محمود خان محمود بنگلوری صفحہ 380
  2. 1799ء میں میسور کے حکمران اور حکام