عبد الواحد بلگرامی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ دسویں صدی ہجری کے ایک عظیم علمی و روحانی اور صاحب کشف و کرامات صوفی بزرگ ہیں آپ کو دسویں صدی ہجری کے مجددین میں بھی شمار کیا گیا ہے، آپ کا تعلق زیدی سادات سے ہے، آپ کی سب سے زیادہ مشہور کتاب سبع سنابل شریف ہے ۔

ولادت با سعادت

میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ کی ولادت 912ھ یا 915ھ کو ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے ضلع ہردوئی قصبہ سانڈی میں ہوئی کیونکہ آپ کا خاندان آپ کے جد اعلی ہی سے قصبہ باڑی و سانڈی(بلگرام سے پندرہ کلومیٹر کی دور پر ہے) میں مقیم تھا۔

نسب نامہ

حضرت سید شاہ عبد الواحد ابن حضرت سید شاہ ابراہیم ابن حضرت سید شاہ قطب الدین ابن حضرت سید شاہ ماہرو ابن حضرت سید شاہ بڈہ ابن حضرت سید کمال ابن حضرت سید قاسم ابن حضرت سید حسن ابن حضرت سید نصیر ابن حضرت سید حسین ابن حضرت سید عمر ابن حضرت سید محمد صغری جد قبائل سادات بلگرام ابن حضرت سید علی ابن حضرت سید حسین ابن حضرت سید ابوالفرح واسطی جد اعلی جماعت سادات زیدیہ بلگرام و بارہا وغیرہما ابن حضرت سید داؤد ابن حضرت سید حسین ابن حضرت سید یحي ابن حضرت سید زید سوم ابن حضرت سید عمر ابن حضرت سید زید دوم ابن حضرت سید علی عراقی ابن حضرت سید حسین ابن حضرت سید علی ابن حضرت سید محمد ابن حضرت سید عیسی المعروف بموتم الاشبال ابن حضرت سید زید شہید رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین ابن امام ہمام سید السادات زین العابدین الملقب بسجاد ابن سید الشہدا امام حسین ابن حضرت امیر المومنین مولی مرتضی علی زوج سیدة النساء فاطمہ زہرا بنت حضرت سید الانبیا حضرت احمد مجتبی محمد مصطفے صلی اللہ تعالی علیہ وآلہ واصحابہ وبارک وسلم علیہ و علیہم و علینا معہم ولہم اجمعین۔ (تاریخ خاندان برکات، 9)

بیعت و خلافت

آپ سب سنابل شریف میں خود فرماتے ہیں:

"یہ فقیر شیخ صفی کا مرید ہے اور شیخ مخدوم سے خلافت یافتہ۔ مخدوم شیخ حسین کو اس فقیر کے والد کے ساتھ کامل الفت و محبت و مودت تھی اور دونوں حضرات کے مابین کامل خلوص تھا، فقیر کے والد بھی مخدوم شیخ صفی کے خلیفہ تھے اس وجہ سے فقیر نے شیخ حسین کی طرف رجوع کیا"۔ (سبع سنابل شریف بحوالہ مآثر الکرام، مترجم، ص:57)

مقام و مرتبہ

  • خاندان میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ کے مؤرخ تاج العلما سید محمد میاں قادری برکاتی مارہروی علیہ الرحمہ آپ کے فضائل مناقب یوں بیان فرماتے ہیں:

"علوم و صوری و معنوی میں فائق انام، مظہر اسرار الہی، منبع انوار نا متناہی، عالم، فاضل، صاحب آیات ظاہرہ و کمالات باہرہ، خدا وند مجاہدہ صوری و مشاہدۂ معنوی، مدارج عرفان و محبت و مراتب عشق و مودت میں کامل العیار اطوار مشیخت و بزرگی میں صاحب اعتبار، علوم ظاہر و باطن میں یگانۂ روزگار"۔ (اصح التواریخ، ج:1، ص:201)

  • مشہور مؤرخ ملا عبد القادر بدایونی تحریر فرما تے ہیں:

"میر طبع بلند دارد"۔ (منتخب التواریخ، ص:300)

  • تذکرۂ میر عبد الجلیل میں یوں مرقوم ہے:

"سید عبد الواحد بلگرامی جو فاضل عصر اور مادر زاد ولی تھے، خط نہایت شیریں لکھتے تھے، بہت سے نسخے کلام اللہ المجید کے اور بے کاپیاں کتابیں اپنے قلم سے لکھ ڈالی تھیں"۔ (تذکرۂ میر عبد الجلیل، ح:1، ص:171)

  • مجدد اعظم اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری محدث بریلوی قدس سرہ نے منظوم خراج عقیدت یوں پیش فرمایا:

اللہ اللہ عزّ و شان و احترام بلگرام

عبدِ واحد کے سبب جنت ہے نامِ بلگرام

روزِ عرس آوارگانِ دشتِ غربت کے لیے

منَّ و سلویٰ ہیں مگر خبز و ادامِ بلگرام

آسماں عینک لگا کر مہر و ماہ کی دیکھ لے

جلوۂ انوارِ حق ہے صبح و شامِ بلگرام

تھا ’’بما استحببت بلدہ‘‘ کا پاسخ بلگرام

مرکز دینِ مبیں ٹھہرا یہ نامِ بلگرام

یادگار اب تک ہیں اس گل کی بہارِ فیض

خندہ ہاے گل رخاں ولالہ فامِ بلگرام

لائی ہے اِس آفتابِ دین کی تحویل جلیل

ساغرِ مارہرہ میں صہباے جامِ بلگرام

تصنیفات

آپ کی تصنیفات میں جن کتابوں کے نام ملتے ہیں وہ مندرجہ ذیل ہیں:

  • دیوان
  • ساقی نامہ
  • شرح گلشن راز
  • شرح مصطلحات دیوان حافظ
  • شرح کافیہ در تصوف
  • حقائق ہندی
  • نزهة الأرواح
  • شرح غوثیہ
  • مکاتیب ثلاثہ
  • حل شبہات
  • مناظرہ انبہ و خربوزہ
  • شرح معما قصہ چار برادر
  • تفسیر مفیض المحبت
  • مجموعۂ اوراد
  • سبع سنابل شریف

وہ سلاطین جن کا آپ نے زمانہ پایا

حضرت میر عبد الواحد بلگرامی علیہ الرحمہ نے سو سال سے زائد عمر پائی، سکندر لودھی کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور جہاں گیر کے زمانہ میں وصال فرمایا اس طرح آپ نے مندرجہ ذیل بادشاہوں کا زمانہ پایا:

  • سکندر لودھی ___ 894ھ ___ 923ھ
  • ابراہیم لودھی ___ 923ھ ___ 944ھ
  • بابر ____ 932ھ ___ 937ھ
  • ہمایوں _____ 937ھ ___ 963ھ
  • اکبر _____ 963ھ ___ 1041ھ
  • جہاں گیر ___ 1014ھ ___ 1037ھ

شیر شاہ سوری نے 947ھ میں ہمایوں کو ہندوستان بدر کر دیا اور خود بادشاہ بن گیا، پندرہ سال کے بعد 962ھ میں ہمایوں نے دوبارہ تخت دہلی حاصل کر لیا اس دور میں سوری خاندان کے تین چار بادشاہ سریر آرائے حکومت رہے۔

اولاد

آپ نے یکے بعد دیگرے دو عقد کیے اور دونوں بیویوں سے صاحب اولاد بھی ہوئے۔

  • عقد اول: آپ کی زوجۂ اول قاضی شیخ عبد السامی عثمانی بلگرامی محلہ قاضی پورہ کی صاحبزادی تھیں ان سے دو اولادیں ایک بیٹا (میر عبد الجلیل) اور ایک بیٹی (مریم) تھیں۔
  • عقد ثانی: دوسری بیوی قنوج کی تھیں ان کے بطن سے تین صاحبزادے (میر سید فیروز، میر سید یحیی اور میر سید طیب) اور ایک بیٹی (بی بی شاہا) ہوئیں۔

وفات

آپ نے سو سال سے زائد عمر پائی، سکندر لودھی کے زمانہ میں پیدا ہوئے اور جہاں گیر کے زمانہ میں انتقال فرمایا آپ کا انتقال 3/رمضان المبارک 1017ھ جمعہ کی رات میں ہوا۔

مزار مبارک

آپ کا مزار مقدس ہندوستان کے صوبہ اترپردیش کے مشرقی ضلع ہردوئی کے ایک قصبہ "بلگرام" میں واقع ہے جو لکھنؤ سے تقریبا 150/کلومیٹر جانب مغرب اور بریلی شریف سے تقریبا 180/کلومیٹر جانب مشرق واقع ہے۔

خانقاہ کے موجودہ سجادہ نشین

خانقاہ عالیہ قادریہ واحدیہ زاہدیہ کے موجودہ سجادہ نشین نبیرۂ میر عبد الواحد بلگرامی شہزادۂ عارف ملت محبوب العلما حضرت میر سید محمد حسین میاں واحدی بلگرامی سربراہ اعلی جامعہ میر عبد الواحد ہیں۔