میر محمد معصوم بکھری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

سید میر محمد معصوم بکھری عرف نظام الدین "نامی" تخلص (پیدائش: 944ھ/1537ء - وفات: 1014ھ/1605ء) سولہویں صدی میں سندھ کے نامور مورخ، قادر الکلام شاعر، طبیب، کتبہ نویس اور بکھر کے سلطان محمود خان کوکلتاش اور مغل شہنشاہ جلال الدین اکبر کے اُمراء میں شامل تھے۔

حالات زندگی[ترمیم]

میر محمد معصوم بکھری کی پیدائش 944ھ/ 1537ء میں بکھر (موجودہ سکھر پاکستان) میں ہوئی۔ ان کے والد سید صفائی حسینی (متوفی 991ھ) بکھر کے شیخ الاسلام اور بڑے عالم و فاضل شخص تھے۔۔[1]984ھ میں میر محمد معصوم، مغل سالار امیر آصف خان کی سرداری میں ایدر کے راجا کو شکست دینے میں شریک تھے۔ مرزا عبدالرحیم خان خاناں کے ہاتھوں گجرات کی مکمل فتح تک میر محمد معصوم مغلوں کی تمام جنگی مہموں میں شریک رہے[2] انہوں نے عبدالرحیم خان خاناں کے ساتھ مغربی سندھ فتح کیا۔ 1005ھ سے 1007ھ تک قندھار میں رہے۔ 1012ھ میں سفیر بن کر ایران گئے۔ اگر میر محمد معصوم کے تمام کتبے مختلف جگہوں سے نقل کر کے سامنے رکھیں تو ان کے سفر کا مفصل خاکہ مرتب ہو جائے گا۔[3]

آثار[ترمیم]

میر محمد معصوم جامع صفات شخصیت تھے۔ ان کو عمارت سازی سے بیحد دلچسپی تھی۔ سکھر اور روہڑی میں بہت سی عمارتیں تعمیر کرائیں، مساجد اور مذہبی عمارتیں تعمیر کرانا ان کا مشغلہ تھا۔ عمارتوں میں جو پتھر استعمال ہوتے تھے انہیں اپنی نقاشی کے نمونے پر بنواتے تھے۔ تاریخ نکالنے کے فن اور کتبہ بنوانے میں بھی مہارت حاصل تھی، اس کے سوا خوشخطی کے بھی ماہر تھے۔ ایک دفعہ مغل بادشاہ اکبر کی طرف سے ایران کی سفارت کے ساتھ بھی گئے اور ہندوستان سے تبریز اور اصفہان تک، اپنے سفر کے حالات مسجدوں اور خاص عمارتوں پہ نقش کرتے گئے۔ قلعہ آگرہ کے دروازے، فتح پور سیکری کی جامع مسجد اور دوسری مساجد پر ان کے کتبے لگے ہوئے ہیں۔[4]

روہڑی کی عیدگاہ[ترمیم]

بکھر (موجودہ سکھر) میں جو آثار یا عمارتیں سید معصوم کی بنوائی ہوئی ہیں ان میں قدامت کے لحاظ سے روہڑی والی عید گاہ سب سے نمایاں ہے۔ روہڑی شہر کے جنوب مغربی حصے کی طرف پہاڑی پر عید گاہ واقع ہے۔ دو ایکڑ مربع پر چار دیواری بنی ہوئی ہے جس کے دونوں طرف اور درمیان میں گنبد بنے ہوئے ہیں یہ گنبد فقط مغربی دیوار کی جانب واقع ہیں۔ درمیانی گنبد کے نیچے محراب ہے جس کے اوپر باہر کی جانب سفید پتھر کا کتبہ لگا ہوا ہے جس پر تعمیر کی تاریخ 1002ھ واضح ہے۔[5]

مینارہ معصوم[ترمیم]

میرمعصوم شاہ کا مینار سکھر

عید گاہ کی تعمیر کے دوسرے سال یعنی 1003ھ کو میر صاحب نے سکھر والے معصومی مینارہ کی تعمیر کا کام شروع کرایا جسے میر صاحب کے انتقال کے بعد ان کے فرزند میر بزرگ نے 1027ھ میں مکمل کرایا۔ یہ مینارہ پہاڑی پر واقع ہے اس مینارہ میں پکی اینٹیں اور چونے کا پتھر استعمال ہوا ہے۔ یہ مینارہ بنیاد سے 84 فٹ چوڑا ہے، لمبائی بھی 84 فٹ ہے اور گولائی میں سیڑھی کے قدموں کی تعداد بھی 84 ہے۔ مینارہ کی چوٹی گنبد نما ہے۔[6]

آرامگاہ یا فیض محل[ترمیم]

1004ھ میں مینارہ معصوم کے قریب آٹھ نو فٹ کے فاصلہ پر ایک ہشت پہلو گنبد سے عمارت تعمیر ہوئی جس کا اصل نام "فیض محل" ہے مگر عوام اسے آرامگاہ کہتے ہیں۔ یہ عمارت برج کے نمونے پر 50 فٹ اونچی ہے اور اندر سے چوڑائی 17 فٹ ہے۔ چار دروازے ہیں اورسطح زمین سے 14 فٹ اونچائی پر اندرونی طرف ایک گیلری ہے جسے چار کھڑکیاں آر پار ہیں۔ چاروں کھڑکیاں دروازوں کے اوپر واقع ہیں۔ عمارت پکی اینٹوں کی ہے اورخوبصورتی کے لیے کاشی کی اینٹوں کا کثرت سے استعمال ہوا ہے۔[7]

ادبی و علمی خدمات[ترمیم]

میر معصوم بیک وقت شاعر، مورخ، کتبہ نویس اور طبیب تھے۔ ان کا سب سے بڑا ادبی کارنامہ سندھ کی تاریخ بنام تاریخ معصومی ہے جسے انہوں نے فارسی زبان میں تحریر کیا ہے، اسے چچ نامہ کے بعد سندھ کی تاریخ کا سب سے اہم مآخذ مانا جاتا ہے، اس کتاب کو انہوں نے 1009ھ میں تصنیف کیا۔ اس کے علاوہ طب کے موضوع پر فارسی زبان میں طب نامی لکھی۔[8] شاعری میں دیوان نامی (فارسی) اور مثنویوں میں معدن الافکار، حسن وناز، اکبر نامہ اور پری صورت شامل ہیں[9]

تصانیف[ترمیم]

تاریخ[ترمیم]

طب[ترمیم]

  • طب نامی

شاعری[ترمیم]

  • دیوان نامی
  • عدن الافکار
  • حسن وناز
  • اکبر نامہ
  • پری صورت

وفات[ترمیم]

میر محمد معصوم بکھری کی وفات 1014ھ/1605ء میں بکھر (سکھر پاکستان) میں ہوئی[10] اور سکھر میں میر معصوم شاہ کے مینارے کے پہلو میں مدفون ہیں۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تاریخ معصومی، میرمحمد معصوم بکھری، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو،2006ء، ص 9
  2. تاریخ معصومی، میر محمد معصوم بکھری، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو،2006ء، ص 10
  3. تاریخ سکھر، رحیمداد خان مولائی شیدائی، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو، 2005ء، ص109
  4. تاریخ سکھر، رحیمداد خان مولائی شیدائی، سندھی ادبی بورڈ،جامشورو،2005ء، ص106
  5. تاریخ سکھر، رحیمداد خان مولائی شیدائی، سندھی ادبی بورڈ،جامشورو،2005ء، ص108
  6. تاریخ سکھر، رحیمداد خان مولائی شیدائی، سندھی ادبی بورڈ،جامشورو،2005ء، ص108-109
  7. تاریخ سکھر، رحیمداد خان مولائی شیدائی، سندھی ادبی بورڈ،جامشورو،2005ء، ص110
  8. میر علی شیر قانع ٹھٹوی، تحفۃ الکرام، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو،1957ء، ص 319
  9. میرمحمد معصوم بکھری، تاریخ معصومی، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو، 2006ء، ص 16
  10. تاریخ معصومی، میر محمد معصوم بکھری، سندھی ادبی بورڈ، جامشورو، 2006ء، ص 28