میسالینا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
میسالینا
(لاطینی میں: Valeria Messalinaخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
میسالینا

ملکہ رومی سلطنت
دور حکومت 24 جنوری 41 – 48
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 17  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
روم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 48 (30–31 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
وجۂ وفات قتل  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وجۂ وفات (P509) ویکی ڈیٹا پر
شہریت قدیم روم  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
شوہر کلاڈیوس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شریک حیات (P26) ویکی ڈیٹا پر
خاندان جولیو کلاڈیوی (بلحاظ ازدواج)
والیریاس (بلحاظ پیدائش)
نسل کلاڈیا اوکٹاویا، ملکہ روم
تیبیریس کلاڈیوس سیزر بریٹانیکوس
دیگر معلومات
پیشہ سیاست دان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

والیریا میسالینا جسے عمومی طور پر میسالینا (Messalina یا Messallina) کہا جاتا ہے چوتھے رومی شہنشاہ کلاڈیوس کی تیسری بیوی تھی۔ میسالینا ایک بااثر عورت تھی جس کی شہرت آزاد جنسی میل ملاپ کے لیے تھی۔ کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنے شوہر کے خلاف سازش کی تھی جس کے بے نقاب ہونے پر اسے سزائے موت دی گئی۔ اس کی بدنام زمانہ شہرت قابل بحث سیاسی تعصب کا نتیجہ ہے۔

میسالینا کی شہرت[ترمیم]

اقتدار میں اس کے اختیار سے میسالینا کی تاریخ بے رحی اور جنسی طور پر غیر تسکین پذیری کے لیے مشہور ہے۔ اس کے شوہر کلاڈیوس کو آسانی سے اس باتوں آنے والا اور اس کی بے شمار زناکاریوں سے غافل پیش کیا جاتا ہے۔ 48ء میں جب کلاڈیوس ایک مہم پر گیا تو اس کی غیر موجودگی میں ایک سینیٹر سے شادی بھی کر لی۔ سینٹ میں کئی افراد نے اس کی موت کا حکم جاری کیا، لیکن شہنشاہ اسے ایک موقع اور دینا چاہتا تھا۔ اس کو کمزوری سمجھتے ہوئے ایک سربراہ افسر نے شہنشاہ کی پیٹھ پیچھے میسالینا کی موت کا حکم جاری کر دیا۔ موت کی خبر سننے کے بعد شہنشاہ نے کسی رد عمل کا اظہار نہیں کیا اور صرف ایک پیالا شراب اور لانے کا حکم دیا۔ کثرت جنسی اعمال کے الزامات کو سیاسی دشمنی کا نتیجہ بھی کہا جاتا ہے۔[1] دو واقعات خاص طور پر اس بدنام زمانہ شہرت میں شامل ہیں۔ پہلی جس کا تذکر پلینیوس نے اپنی کتاب میں کیا ہے جس کے مطابق میسالینا نے ایک تمام رات ایک طوائف سے مقابلہ کیا۔ مقابلہ 24 گھنٹے جاری رہا جسے میسالینا نے 25 ساتھیوں کے سکور کے ساتھ جیت لیا۔[2] اسی طرح شاعر جوینال نے بیان کیا کہ کس طرح ملکہ خفیہ طور پر مونث-بھیڑیا کے نام سے قحبہ خانہ میں کام کرتی تھی۔[3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Thomas A. J. McGinn, Prostitution, Sexuality, and the Law in Ancient Rome, Oxford University 1998 p 170
  2. Online translation, X ch.83
  3. Poetry in translation, VI.114-135