میلاد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں

میلاد یا مولد کا معنی پیدائیش یا ولادت کا وقت ہے۔ قرآن مجید میں یحییٰ بن زکریا اور عیسیٰ ابن مریم کی ولادت کا ذکر ہے۔

یحییٰ[ترمیم]

یحییٰ بن زکریا کے لیے قرآن میں آیت ہے۔ Ra bracket.png وَسَلَامٌ عَلَيْهِ يَوْمَ وُلِدَ وَيَوْمَ يَمُوتُ وَيَوْمَ يُبْعَثُ حَيًّا Aya-15.png La bracket.png
"اور سلامتی ہے اس پر جس دن پیدا ہوا اور جس دن مرے گا اور جس دن مردہ اٹھایا جائے گا"

عیسیٰ[ترمیم]

عیسیٰ ابن مریم کے میلاد کا ذکر قرآن میں یوں ہے۔ Ra bracket.png وَالسَّلَامُ عَلَيَّ يَوْمَ وُلِدتُّ وَيَوْمَ أَمُوتُ وَيَوْمَ أُبْعَثُ حَيًّا Aya-33.png La bracket.png
"اور وہی سلامتی مجھ پر جس دن میں پیدا ہوا اور جس دن مروں اور جس دن زندہ اٹھایا جاؤں" اور مسیحیت میں عید ولادت مسیح بھی اسی معنی میں استعمال ہوتا ہے۔

محمد[ترمیم]

مسلمانوں میں میلاد یا مولد سے مراد سید الانبیاء محمد بن عبد اللہ کی ولادت ہے۔ یعنی میلاد النبی(عربی: مَوْلِدُ آلنَبِيِّ‎) کو کہا جاتا ہے۔ ‏ اسلامی کیلینڈر کے مطابق ہرسال 12 ربیع الاول کو بریلوی مکتبہ فکر کے لوگ مذہبی جوش و جذبے اور عقیدت و احترام سے مناتے ہیں (البتہ عالم اسلام کے اکثر علماء اس تاریخ پرمتفق نہیں جس کی وجہ یہ ہے کہ یہ تاریخ کسی بھی صحیح سند سے ثابت نہیں ہے بلکہ محمد بن عبد اللہ کی پیدائش مبارکہ کی تاریخ کا کوئی بھی ثبوت حدیث محمد بن عبد اللہ سے یا صحابہ کرام کی کسی روایت سے ثابت نہیں ہے) آمحمد بن عبد اللہ کی پیدائش کا جشن ، عید یا کوئی مخصوص انداز سے منانے کی کوئی دلیل محمد بن عبد اللہ یا آپ کے صحابہ کرام یا تابعین یا تابع تابعین کے کسی بھی دور سے نہیں ملتی ہے جبکہ پیدائش مبارکہ کے بارے میں محمد بن عبد اللہ کی یہ صحیح حدیث ہماری راہنمائی کرتی ہے کہ {آپ سے سوموار کا روزہ رکھنے کے بارے میں سوال کیاگیا ۔ محمد بن عبد اللہ نے فرمایا : " یہ دن ہے جب میں پیدا ہوا اور جس دن مجھے (رسول بنا کر) بھیجا گیا ۔ یا مجھ پر ( قرآن ) نازل کیا گیا ۔"[1] اور محمد بن عبد اللہ کی وفات 12 ربیع الاول کو ہوئی اور اس دن بھی سوموار ہی تھا جس کی راہنمائی ہمیں صحیح مسلم کی اس حدیث سے ملتی ہے۔ صالح نے ابن شہاب سے روایت کی ، انہوں نے کہا : انس بن مالک نے مجھے خبر دی کہ محمد بن عبد اللہ کی بیماری دوران میں ، جس میں آپ نے وفات پائی ، ابو بکر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ لوگوں کو نماز پڑھاتے تھے حتیٰ کہ جب سوموار کا دن آیا اور صحابہ کرام ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ ‌ نماز میں صف بستہ تھے تو محمد بن عبد اللہ نے حجرے کا پردہ اٹھایا اور ہماری طرف دیکھا ، اس وقت آپ کھڑے ہوئے تھے ، ایسا لگتا تھا کہ آپ کا رخ انور مصحف کا ایک ورق ہے ، پھر آپ نے ہنستے ہوئے تبسم فرمایا ۔ انس کہتے ہیں کہ ہم نماز ہی میں اس خوشی کے سبب جو رسول اللہ محمد بن عبد اللہ کے باہر آنے سے ہوئی تھی مبھوت ہو کر رہ گئے ۔ ابو بکر الٹے پاؤں لوٹے تالکہ صف میں مل جائیں ، انہوں نے سمجھا کہ محمد بن عبد اللہ نماز کے لیے باہر تشریف لا رہے ہیں ۔ رسول اللہ نے اپنے ہاتھ سے اشارہ فرمایا کہ اپنی نماز مکمل کرو ، پھر آپ واپس حجرے میں داخل ہو گئے اور پردہ لٹکا دیا ۔ اسی دن رسول اللہ وفات پا گئے۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. صحیح مسلم حدیث نمبر 2747
  2. صحیح مسلم حدیث نمبر 944
  3. حوالہ