مینورو ہارا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مینورو ہارا
(جاپانی میں: 原實 خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
معلومات شخصیت
پیدائش 9 ستمبر 1930 (89 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
توکیو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of Japan.svg جاپان  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی ہارورڈ یونیورسٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم از (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ معلم،  مصنف  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
ملازمت جامعہ ٹوکیو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر

مینورو ہارا (جاپانی: 原實) ایک جاپانی لکھاری، ہندشناس، تاریخ لسانیات کے ماہر، سنسکرت اور بدھ ادب اور فلسفے کے عالم ہیں۔

تعلیم[ترمیم]

1953 میں ٹوکیو یونیورسٹی سے گریجویشن کی، 1974 میں ٹوکیو یونیورسٹی سے ہی ڈاکٹر آف لیٹرز۔ ہارورڈ یونیورسٹی سے 1967 میں ڈاکٹر آف فلاسفی کی ڈگری حاصل کی۔ انہوں نے سنسکرت ٹوکیو یونیورسٹی اور ہارورڈ یونیورسٹی میں پڑھی۔ 1978 میں کیمبرج یونیورسٹی، انگلینڈ سے ایم اے آرٹس میں ڈگری حاصل کی۔

تدریسی زندگی[ترمیم]

1960 سے لے کر 1964 تک وہ ٹوکیو یونیورسٹی میں سنسکرت کے لیکچرر رہے ۔ اس کے بعد 1964 میں ان کی ترقی ہو گئی اور وہ ایسوسی ایٹ پروفیسر بن گئے اور اس تعلیمی عہدے پر گیارہ برس تک براجمان رہے۔ 1975 میں وہ ٹوکیو یونیورسٹی میں پروفیسر بن گئے اور سولہ سال تک بحیثیت پروفیسر اپنے فرائض سر انجام دیتے رہے۔ 1991 میں  پروفیسر ایمرٹس بن گئے، 1996  میں انٹرنیشنل کالج  ایڈوانسڈ سٹیڈیز  ٹوکیو کے صدر بن گئے۔ کیمبرج یونیورسٹی کے سینٹ جان کالج کے سمندر پار فیلو رہے 1978 اور 1979 میں۔ سکینڈی نیون انسٹی ٹیوٹ ایشین سٹیڈیز ، کوپن ہیگن میں مہمان لیکچرر کے طور پر 1985 سے لے کر 1986 تک پڑھایا۔ 1986 سے لے کر  1987 تک وہ آکسفورڈ یونیورسٹی میں سپالڈنگ فیلو رہے۔ آسٹریا کی ویانا یونیورسٹی میں 1987 سے لے کر 1988 تک مہمان پروفیسر [1] رہے۔ 1989 سے لے کر 1990تک ہیمبرگ یونیورسٹی (فیڈرل ریپیبلک جرمنی ) میں مہمان پروفیسر رہے۔

تصانیف[ترمیم]

کیمبرج میں پروفیسر جان بروح کی کتاب "مجتمع دستاویز" جے سی رائٹ کے ساتھ مل کر تدوین کی۔

وہ ٹوکیو یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں [2]۔ ان کی تحریروں میں شامل ہیں

  • سنسکرت کے لیے محبت بھرے الفاظ
  • تپاس سمرٹی ادب میں [3]
  • پورنا کمبھا پر ایک نوٹ
  • جاپان میں ہندوستانی ادب اور فلسفے پر ایک تحقیق [4]
  • مہابھارت میں تپس

وہ جاپان اکیڈیمی کے منتخب ممبر ہیں [5]۔انٹرنیشنل کالج برائے مطالعہ بدھ مت کے صدر ، ٹوکیو یونیورسٹی میں سنسکرت زبان و ادب کے پروفیسر ہیں۔ ایک سو سے زائد مضامین انگریزی اور جاپانی میں شائع ہو چکے ہیں۔

2009 میں، ہندوستانی ادب اور تعلیم میں خدمات کے عوض، ہندوستان کی حکومت نے انہیں اپنا تیسرا بڑا سویلین ایوارڈ پدما بھوشن [6] سے نوازا ہے۔ ہارا آنندالا ھاری (پروفیسر مینورو ہارا کے اعزاز میں جلد) ایک کتاب ہے جسے Pietro Chierichetti نے مینورو کے لیے لکھا[7]۔

حوالہ جات[ترمیم]

  1. [1]
  2. "Hara Minoru"۔ Japan Academy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 6 جولائی 2016۔
  3. Minoru Hara (1979). "Tapas in the Smrithi Literature". Indologica 23 (39). http://www.indologica.com/volumes/vol23-24/vol23-24_art39_HARA.pdf. 
  4. Minoru Hara۔ Studies on Indian philosophy and literature in Japan, 1973–1983۔ Centre for East Asian Cultural Studies۔ آئی ایس بی این 978-4896563078۔ ASIN 4896563077۔
  5. "Member Japan Academy"۔ Japan Academy۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 26, 2016۔
  6. "Padma Awards" (پی‌ڈی‌ایف)۔ Ministry of Home Affairs, Government of India۔ مورخہ نومبر 15, 2014 کو اصل (پی‌ڈی‌ایف) سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جنوری 3, 2016۔
  7. "Haranandalari (Volume in Honour of Prof. Minoru Hara)"۔ Academia۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ جون 26, 2016۔