مین شیس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مین شیس
(چینی میں: 孟子 ویکی ڈیٹا پر مقامی زبان میں نام (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
Mencius.jpg 

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (چینی میں: 孟轲 ویکی ڈیٹا پر پیدائشی نام (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش سنہ 372 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ پیدائش (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات سنہ 289 ق م  ویکی ڈیٹا پر تاریخ وفات (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ فلسفی[1]، مصنف  ویکی ڈیٹا پر پیشہ (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان قدیم چینی  ویکی ڈیٹا پر زبانیں (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فلسفہ  ویکی ڈیٹا پر شعبۂ عمل (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں

مین شیس یا مینگزی ایک چینی فلسفی تھا۔ وہ کنفیوشس کا سب سے اہم جانشین تھا۔ اس کے افکار جن کا اظہار کتاب مین شیس میں ملتا ہے صدیوں تک چین میں نہایت تکریم کے ساتھ پڑھے جاتے رہے۔ اسے دانائے ثانی (کنفیوشس کے بعد دانش و بینش میں اعلیٰ ترین منصب پر فائز ہونا) بھی کہا جاتا ہے۔

سوانح[ترمیم]

مین شیس کی پیدائش 371 قبل مسیح میں موجودہ چین کے صوبہ شان تنگ کی چھوٹی سی ریاست تسو میں ہوئی۔ جس دور میں مین شیس پیدا ہوا وہ چاؤ خاندان کے ایام آخر تھے۔ اس دور کو چینی پیکار کشت و خون ریاستوں کا دور پکارتے ہیں۔ اس دور میں چین سیاسی طور پر عدم اتحاد کا شکار تھا۔ مین شیس اگرچہ کنفیوشس روایت کا پروردہ تھا اور ہمیشہ اس کے افکار کا زبردست حامی رہا لیکن اس نے خود اپنے افکار کے ذریعے اپنے لیے علاحدہ جگہ بنائی۔ مین شیس نے اپنی جوانی کا بیشتر حصہ چین میں سفر کرتے ہوئے گزارا۔ دوران میں سفر اس نے مختلف بادشاہوں کو اپنے مفید مشوروں سے مستفید کیا۔ بادشاہ اس کے دفاع کو وقعت کی نگاہ سے دیکھتے۔ کچھ عرصہ وہ چئی ریاست میں سرکاری ملازم بھی رہا لیکن وہ بہت سے حکومتی پالیسی ساز عہدے کو قبول کرنے سے انکار کر دیتا۔ 312 قبل مسیح میں وہ اپنے گھر ریاست تسو میں واپس آ گیا تھا۔ اس نے موت تک اپنی زندگی اپنے گھر میں ہی گزاری۔ اس کی موت کا سن حتمی طور پر معلوم نہیں لیکن زیادہ مشہور 289 قبل مسیح ہے۔

کتاب مین شیس[ترمیم]

مین شیس کے متعدد شاگرد تھے لیکن جتنے اثرات اس کی کتاب کتاب مین شیس نے ڈالے اتنے شاگرد کامیاب نہیں رہے۔ اگرچہ اس کتاب میں اس کے مریدوں نے رد و بدل کر دی لیکن اس میں موجود بنیادی خیالات اس کے موجود رہے۔ اس کتاب کا اسلوب تصوراتی اور رجائیت پسندانہ ہے۔ اس کے مطابق انسان فطرتی طور پر خیر پر مبنی ہے۔

بنیادی افکار[ترمیم]

کتاب مین شیس میں موجود افکار میں سے چند درج ذیل ہیں

  1. بادشاہ کو طاقت کی بجائے حسن اخلاق سے حکمرانی کرنی چاہیے۔
  2. خدا ویسے ہی دیکھتا ہے جس طرح لوگ دیکھتے ہیں، خدا وہی سنتا ہے جو لوگ سنتے ہیں۔
  3. ریاست کا اہم جزو عوام ہے نہ کہ اس کا حکمران۔ یہ حکمران کا فرض ہے کہ وہ عوام کی فلاح کے لیے کوشاں رہے۔ خاص طور پر اسے ان کی اخلاقی رہنمائی کرنی چاہیے اور ان کے معیار زندگی کو بلند کرنا چاہیے۔
  4. بادشاہ کے اختیارات الہامی ہوتے ہیں لیکن جو بادشاہ عوام کی فلاح کے فرض سے غافل ہوتا ہے اسے الہامی سر پرستی حاصل نہیں رہتی اور جلد ہی تخت سے برخاست کر دیا جاتا ہے۔

فلاحی ریاست کا نظریہ[ترمیم]

کتاب مین شیس کے مطابق ایک فلاحی ریاست میں درج ذیل خوبیاں موجود ہونی چاہیے۔

  • جس ریاست میں آزاد معیشت ہو۔ لوگوں پر محصولات کی تعداد کم سے کم ہو۔ قدرتی وسائل کی حفاظت کے لیے نظام ہو۔ ایسا نظام حکومت ہو جس میں دولت کی مساوی تقسیم ہو۔ ناکارہ اور عمر رسیدہ افراد کی فلاح کے لیے حکومت کی دلچسپی موجود ہو۔

مقبولیت[ترمیم]

مین شیس اپنے بنیادی افکار اور فلاحی ریاست کے متعلق نظریہ کی وجہ سے حکمرانوں کی نسبت عوام میں زیادہ مقبول تھے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کے نظریات نے کنفیوشس کے پیروکاروں اور چینی عوام میں قبول خاص و عام کی سند حاصل کر لی۔ گیارہویں اور بارہویں صدی میں نیو کنفیوشس مت کے فروغ کے باعث مین شیس کی وقعت میں مزید اضافہ ہوا۔ مین شیس اپنے طور پر ایک متاثر کن ادیب تھا۔ قریباً بائیس سو سال تک چین میں اس کے افکار کو بغور پڑھا اور سمجھا جاتا رہا۔ [2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فصل: 10 — مصنف: Immanuel C.Y. Hsü — عنوان : The Rise of Modern China — اشاعت ششم — صفحہ: 222 — ناشر: اوکسفرڈ یونیورسٹی پریسISBN 978-0-19-512504-7
  2. سو عظیم آدمی مولف مائیکل ہارٹ اردو مترجم محمد عاصم بٹ صفحہ 455 تا 458