مندرجات کا رخ کریں

مین فریم کمپیوٹر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ایک سنگل فریم IBM z15 مین فریم۔ زیادہ گنجائش والے ماڈلز میں کل چار فریمز تک ہو سکتے ہیں۔

مین فریم کمپیوٹر (Mainframe Computers) بہت ہی طاقتور اور بڑے کمپیوٹرز ہوتے ہیں جو سائز میں ایک عام فریج یا الماری جتنے بڑے ہو سکتے ہیں۔ یہ عام کمپیوٹرز یا لیپ ٹاپ سے بالکل مختلف ہوتے ہیں کیونکہ انھیں ایک وقت میں ہزاروں لوگ استعمال کر سکتے ہیں۔ ان کا بنیادی مقصد بہت ہی بڑے پیمانے پر ڈیٹا کو سنبھالنا اور اسے تیزی سے پروسیس کرنا ہوتا ہے۔

مین فریم کمپیوٹر (mainframe computer)، جسے غیر رسمی طور پر مین فریم، میکسی کمپیوٹر یا بگ آئرن (big iron) بھی کہا جاتا ہے، ایک ایسا کمپیوٹر ہے جو بنیادی طور پر بڑے ادارے اپنے اہم کاموں کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ ان کاموں میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا پروسیسنگ شامل ہے، جیسے کہ مردم شماری، صنعتی اور صارفین کے اعداد و شمار، انٹرپرائز ریسورس پلاننگ (ERP) اور بڑے پیمانے پر لین دین کی کارروائی (transaction processing)۔[1]

دو آئی بی ایم مین فریم کمپیوٹر

یہ کمپیوٹرز زیادہ تر بڑے ادارے جیسے کہ بینک، انشورنس کمپنیاں اور سرکاری محکمے استعمال کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر، جب آپ اے ٹی ایم (ATM) سے پیسے نکالتے ہیں یا آن لائن بینکنگ استعمال کرتے ہیں، تو پس منظر میں ایک مین فریم کمپیوٹر ہی آپ کی ٹرانزیکشن کو مکمل کر رہا ہوتا ہے۔ یہ اتنے مضبوط ہوتے ہیں کہ کئی سالوں تک بغیر بند ہوئے لگاتار چل سکتے ہیں۔

مین فریم کمپیوٹر کی سب سے بڑی خوبی اس کی کام کرنے کی رفتار اور بھروسا مندی ہے۔ یہ ایک ہی سیکنڈ میں لاکھوں کروڑوں حساب کتاب کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ، اس کی سیکیورٹی بہت سخت ہوتی ہے، جس کی وجہ سے بینکوں کا ڈیٹا محفوظ رہتا ہے۔ اگرچہ یہ بہت مہنگے ہوتے ہیں، لیکن بڑی کمپنیوں کے لیے یہ ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں۔

مین فریم کمپیوٹر سائز میں بڑا ہوتا ہے لیکن یہ سپر کمپیوٹر جتنا بڑا نہیں ہوتا، البتہ اس کی پروسیسنگ کی طاقت کمپیوٹر کی دیگر اقسام جیسے کہ منی کمپیوٹر، ورک اسٹیشن اور پرسنل کمپیوٹر سے زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر بڑے کمپیوٹر سسٹمز کا فن تعمیر (architecture) 1960ء کی دہائی میں وضع کیا گیا تھا، لیکن اس میں وقت کے ساتھ ساتھ بہتری آتی رہی ہے۔ مین فریم کمپیوٹرز اکثر سرورز کے طور پر بھی استعمال ہوتے ہیں۔

عام ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ سے فرق

[ترمیم]
آئی بی ایم 701 کے لیے آپریٹر کا کنسول

مین فریم کمپیوٹرز کا طریقہ کار ہمارے عام ڈیسک ٹاپ یا لیپ ٹاپ سے کافی مختلف ہوتا ہے۔ ان کمپیوٹرز کے ساتھ براہِ راست کوئی مانیٹر یا کی بورڈ جڑا ہوا نہیں ہوتا جیسا کہ آپ کے گھر کے پی سی (PC) میں ہوتا ہے۔

پرانے وقتوں میں، مین فریم کے ساتھ کام کرنے کے لیے ٹرمینلز استعمال کیے جاتے تھے۔ یہ ایک مانیٹر اور کی بورڈ پر مشتمل ایک سادہ سی مشین ہوتی تھی جس میں اپنا کوئی سی پی یو (CPU) نہیں ہوتا تھا۔ یہ صرف مین فریم سے جڑی ہوتی تھی تاکہ کمانڈز بھیجی جا سکیں اور رزلٹ دیکھا جا سکے۔

آج کل کے دور میں، مین فریم کمپیوٹرز کسی بڑے ڈیٹا سینٹر کے ایک ٹھنڈے کمرے میں رکھے ہوتے ہیں۔ ان کو چلانے کے لیے انجینئرز اپنے عام لیپ ٹاپ یا پی سی کا استعمال کرتے ہیں۔ وہ ایک خاص سافٹ ویئر (جسے ٹرمینل ایمولیٹر کہتے ہیں) کے ذریعے نیٹ ورک پر مین فریم سے جڑ جاتے ہیں۔ یعنی آپ اپنے عام کمپیوٹر پر بیٹھ کر میلوں دور رکھے ہوئے مین فریم کو کمانڈز دے سکتے ہیں۔ مین فریم کے ڈھانچے پر چھوٹے ڈسپلے یا بٹن ضرور ہو سکتے ہیں جو صرف اس کی "صحت" یا بجلی کی صورت حال بتاتے ہیں، لیکن باقاعدہ کام کرنے کے لیے ہمیشہ بیرونی کمپیوٹرز یا ٹرمینلز کا سہارا لیا جاتا ہے۔ چونکہ یہ ایک وقت میں ہزاروں کام کر رہا ہوتا ہے، اس لیے اسے ایک کی بورڈ سے چلانا ناممکن ہوتا ہے۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. "IBM Preps Big Iron Fiesta"۔ The Register۔ 20 جولائی 2005