میکسیکی انقلاب
| میکسیکی انقلاب | |||||||
|---|---|---|---|---|---|---|---|
| سلسلہ بنانا جنگیں اور پہلی جنگ عظیم کے پراکسی تنازعات | |||||||
اوپر سے نیچے اور بائیں سے دائیں: صدر فرانسسکو ماڈیرو کے خلاف بغاوت کرنے والے ہویرٹسٹا فوجی (1913)؛ سیوداد خوارز میں گولیوں سے چھلنی مکان (1910)؛ صدر ماڈیرو کی میکسیکو سٹی آمد؛ ایک دس سالہ بچہ سپاہی (انتونیو گومیز ڈیلگاڈو)؛ میکسیکو سٹی کے جنوب میں باغی فوجی اپنی بیویوں کے ہمراہ۔ | |||||||
| |||||||
| مُحارِب | |||||||
|
حامیِ حکومت: 1910–1911:
|
مخالفِ حکومت: 1910–1911: | ||||||
| 1911–1913: |
1911–1913:
| ||||||
1913–1914:
|
1913–1914:
| ||||||
| 1914–1915: |
1914–1915:
| ||||||
| 1915–1920: |
1915–1920
حمایت یافتہ بذریعہ:
| ||||||
| کمان دار اور رہنما | |||||||
1910–1911:
| |||||||
| طاقت | |||||||
|
حامیِ حکومت: 250,000–300,000 |
مخالفِ حکومت: 255,000–290,000 | ||||||
| ہلاکتیں اور نقصانات | |||||||
| 500 امریکی ہلاک ہوئے | |||||||
| |||||||
میکسیکی انقلاب (ہسپانوی: Revolución mexicana) 20 نومبر 1910ء سے 1 دسمبر 1920ء تک میکسیکو میں ہونے والے علاقائی مسلح تنازعات کا ایک طویل سلسلہ تھا۔ اسے "جدید میکسیکن تاریخ کا تعین کرنے والا واقعہ" قرار دیا گیا ہے۔ اس انقلاب کے نتیجے میں وفاقی فوج کا خاتمہ ہوا، جس کی جگہ ایک انقلابی فوج نے لی اور میکسیکن ثقافت و حکومت میں بڑی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ میدانِ جنگ میں شمالی آئینی پرست (Constitutionalist) دھڑا غالب رہا اور اس نے میکسیکو کا موجودہ آئین مرتب کیا، جس کا مقصد ایک مضبوط مرکزی حکومت کا قیام تھا۔ 1920ء سے 1940ء تک اقتدار انقلابی جرنیلوں کے ہاتھ میں رہا۔ اگرچہ یہ تنازع بنیادی طور پر ایک خانہ جنگی تھی، لیکن میکسیکو میں اہم معاشی اور اسٹریٹجک مفادات رکھنے والی غیر ملکی طاقتیں بھی اقتدار کی اس کشمکش کے نتائج پر اثر انداز ہوئیں؛ امریکی مداخلت خاص طور پر بہت زیادہ تھی۔ اس تنازع کے نتیجے میں تقریباً دس لاکھ افراد ہلاک ہوئے، جن میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔
انقلاب کے اسباب اور آغاز (1910)
[ترمیم]اس انقلاب کا بنیادی سبب پورفیریو ڈیاز (Porfirio Díaz) کی 30 سالہ طویل آمریت تھی۔ ڈیاز کے دور میں ملک نے معاشی ترقی تو کی، لیکن دولت صرف چند امیر خاندانوں اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے ہاتھوں میں سمٹ کر رہ گئی۔ کسانوں سے ان کی زمینیں چھین لی گئیں اور عوام بنیادی حقوق سے محروم ہو گئے۔ 1910 میں جب فرانسسکو ماڈیرو نے ڈیاز کے خلاف آواز اٹھائی، تو ملک بھر میں بغاوت کی آگ بھڑک اٹھی۔
انقلابی رہنما اور مسلح جدوجہد
[ترمیم]انقلاب کے دوران کئی مقامی رہنما ابھر کر سامنے آئے جن کے مقاصد مختلف تھے۔ جنوب میں ایمیلیانو زاپاتا (Emiliano Zapata) کسانوں کی زمینوں کی واپسی کے لیے لڑ رہے تھے، جبکہ شمال میں پینچو ویلا (Pancho Villa) نے اپنی ایک طاقتور فوج بنائی تھی۔ ان رہنماؤں نے ڈیاز کی حکومت کو گرانے میں اہم کردار ادا کیا، لیکن ڈیاز کے استعفے کے بعد انقلابی گروہوں کے درمیان اقتدار کی جنگ شروع ہو گئی جو تقریباً ایک دہائی تک جاری رہی۔
1917 کا آئین اور اصلاحات
[ترمیم]انقلاب کا سب سے اہم نتیجہ 1917 کا آئین تھا، جو آج بھی میکسیکو میں نافذ ہے۔ اس آئین نے پہلی بار مزدوروں کے حقوق، تعلیم کی مفت فراہمی اور زمینوں کی دوبارہ تقسیم (Land Reforms) کی ضمانت دی۔ اس نے چرچ اور ریاست کو الگ کیا اور صدر کی مدتِ ملازمت کو محدود کر دیا تاکہ دوبارہ کبھی کوئی ڈیاز جیسا آمر پیدا نہ ہو سکے۔
انقلاب کے اثرات اور اختتام
[ترمیم]مؤرخین کے مطابق یہ انقلاب 1920 کے قریب ختم ہوا، لیکن اس کے اثرات دہائیوں تک محسوس کیے گئے۔ اس جنگ میں تقریباً 10 سے 20 لاکھ افراد ہلاک ہوئے، لیکن اس نے میکسیکو کو ایک نئی پہچان دی۔ اسی انقلاب کے نتیجے میں PRI نامی سیاسی جماعت وجود میں آئی جس نے کئی دہائیوں تک ملک پر حکومت کی۔ آج بھی زاپاتا اور پینچو ویلا میکسیکو کے عوامی ہیروز مانے جاتے ہیں۔