میکس نورڈاؤ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
مکس س- نورڈاؤ
Portrait of Max Nordau.jpg

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (مجارستانی میں: Südfeld Maximilian Simon ویکی ڈیٹا پر (P1477) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیدائش 29 جولائی 1849(1849-07-29)
پسٹ, مملکت ہنگری (now بوداپست, ہنگری)
وفات جنوری 23، 1923(1923-10-23) (عمر  73 سال)
پیرس, فرانس
مدفن مونٹ پرناسی قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of Hungary.svg ہنگری  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ طبیب, مصنف, and [سماجی نقاد
پیشہ ورانہ زبان جرمن[1]  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وجہ شہرت شریک بانی عالمی صہیونی تنظیم
کارہائے نمایاں Degeneration
دستخط
Signature of Max Nordau.jpg
 

میکس سائمن نورڈاؤ (پیدائشی نام: سائمن میکس میلین سڈفیلڈ 29 جولائی 1849ء - 23 جنوری 1923ء) ایک صیہونی رہنما ، طبیب ، مصنف اور سماجی نقاد تھے۔ [2]

وہ تھیوڈور ہرتزل کے ساتھ مل کر عالمی صہیونی تنظیم کے شریک بانی اور متعدد صہیونی کانگریسوں کے صدر یا نائب صدر رہے۔

ایک معاشرتی نقاد کی حیثیت سے ، انہوں نے ہماری تہذیب کے روایتی جھوٹ (1883) ، انحطاط (ڈیجنریشن)(1892) اور پیراڈوکس(تخالف) (1896) لکھا۔ اگرچہ دوران زندگی انحطاط (ڈیجنریشن) سب سے زیادہ مقبول یا کامیاب کتاب نہیں رہی ، لیکن یہ وہ کتاب ہے جسے آج کل اکثر یاد کیا جاتا ہے اور حوالہ دیا جاتا ہے۔

صیہونیت[ترمیم]

افرایم موسیٰ لیلین کا بنایا گیا میکس نورڈو کا مورتی خاکہ۔

ڈریفس معاملہ[ترمیم]

نورڈو کا اختیارِ صہیونیت متعدد طریقوں سے مغربی یورپی یہود کے صہیونیت کے عروج کی علامت ہے۔ ڈریفس معاملہ تھیوڈور ہرتزل کے صہیونیت کے ناگزیریت کے اعتقاد میں مرکزی حیثیت رکھتا تھا۔ ہرتزل کی یہ سوچ ان کے فرانس میں اس وقت میں پروان چڑھی جہاں انہوں نے سام دشمنی کی عالمگیریت کو تسلیم کیا تھا۔ ڈریفس معاملہ نے یہود کے انضمام کی ناکامی پر ان کے اعتقاد کا مضبوط کیا۔ نورڈاؤ نے بھی "عسکری درسگاہ" کے باہر پیرس کے ہجوم کا "یہود مردہ باد"کے نعرے لگانے کا مشاہدہ کیا۔

ہرتزل سے دوستی اور مشیر کے کردار کا آغاز پیرس سے ہوا، جب وہ ویانا کے نئے آزاد صحافت کے نمائندے کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔ یہ مقدمہ انصاف کی غلط فہمی سے بالاتر ہے اور ہرتزل کے الفاظ میں "فرانس کی اکثریت کی خواہش پر ایک یہودی کو مجرم قرار دیا گیا، ایک یہودی یعنی تمام یہودی"۔ اظہارِ عداوت سے قطع نظر ڈریفس معاملے کے دوران فرانس میں ، یہ فرانسیسیوں کی اکثریت تھی یا محض ایک بہت ہی بلا تکلف بولنے والی اقلیت اس پر اب بھی مباحثہ ہوسکتا ہے۔ تاہم فرانس میں اس طرح کے جذبات کا ظہور ہونا خاصی اہمیت کا حامل تھا۔ یہ وہ ملک تھا جسے اکثر جدید روشن خیال دور کے ماڈل کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس نے یورپ کو عظیم انقلاب اور یہودی آزادی کا آغاز دیا تھا۔

  1. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb121134208 — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — مصنف: Bibliothèque nationale de France — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  2. Social Science and the Politics of Modern Jewish Identity, Mitchell Bryan Hart