م حسن لطیفی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
م حسن لطیفی
معلومات شخصیت
پیدائش 11 دسمبر 1905  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لدھیانہ  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات 23 مئی 1959 (54 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
لاہور  ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدفن میانی صاحب قبرستان  ویکی ڈیٹا پر (P119) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of Pakistan.svg پاکستان  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ صحافی،  شاعر  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان اردو  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
P literature.svg باب ادب

م حسن لطیفی (پیدائش: 11 دسمبر، 1905ء - وفات: 23 مئی، 1959ء) پاکستان سے تعلق رکھنے والے جدید اردو نظم کے نامور شاعر، ادیب اور دانشور تھے۔

حالات زندگی و ادبی خدمات[ترمیم]

م حسن لطیفی 11 دسمبر، 1905ء میں لدھیانہ، صوبہ پنجاب (برطانوی ہند) میں پیدا ہوئے تھے۔[1][2]۔ ان کا پورا نام محمد حسن لطیفی تھا۔ ان کی تصانیف میں لطیفیات (تین حصے)، عظمت آدم، دختران ہند اور نظریہ مہدی اور The Legend of Heer Ranjha کے نام شامل ہیں۔[2]

علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے انگریزی ادبیات میں ایم ، اے کیا اور آکسفرڈ سے جرنلزم میں ڈپلومہ کی ڈگری حاصل کی۔ لطیفی اردو ، فارسی، پنجابی اور انگریزی کے علاوہ کئی اور غیر ملکی زبانوں میں مہارت رکھتے تھے۔ متعدد زبانوں سے ان کی اس واقفیت نے ان کے شعری اظہار کو بھی متأثر کیا اور شاعری میں نئے موضوعات کی آمد کا ذریعہ بھی بنی۔ لطیفی نے زیادہ تر نظمیں کہیں ان کی کئی نظمیں تواس قدر طویل ہیں کہ ان کی اشاعت کتابچوں کی شکل میں ہوئی۔ لطیفی نے اپنی نظموں کے ذریعے آزاد نظم کے تجربے کو تخلیقی سطح پر مستحکم کرنے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔ م ۔حسن لطیفی نے شاعری کے ساتھ نثر میں بھی مخلتف موضوعات پرکثرت سے لکھا۔ ان کا نام ان ابتدائی لوگوں میں لیا جاتا ہے جنہوں نے اردو میں تنہا نگاری (Solo Journalism) کی بنیاد ڈالی۔ وہ ایک ہفتہ وار جریدہ ’مطالعہ‘ کے نام سے نکالتے تھے جو اردو اور انگریزی میں ان کے ذاتی پریس *’شاطور‘* سے شائع ہوتا تھا۔ اس کے علاوہ دوسری کئی زبانوں کے رسالوں اور اخبارات سے بھی ان کی وابستگی تھی۔

نمونہ کلام[ترمیم]

  • غیروں کا تو کہنا کیا محرم سے نہیں کہتا
  • میں عالمِ غم اپنا عالم سے نہیں کہتا
  • پڑھ لیتی ہیں کیفیت کچھ تڑپی ہوئی نظریں
  • دکھ اپنے میں ہر چشم پر نم سے نہیں کہتا
  • رہ گیر ہوں میں ایسا ہر غم سے گزرتا ہے
  • دعوت پہ جو رندانِ خرم سے نہیں کہتا
  • موسم ہمہ گردش ہے پس ماندۂ گردش ہے
  • لب تشنہ کوئی یہ شے کیوں جم سے نہیں کہتا
  • کسب متحرک سے پابستہ نسب طغرے
  • یہ کیا ہے کوئی اہلِ خاتم سے نہیں کہتا
  • آ داغِ محبت کے سانچے میں تجھے ڈھالوں
  • خاتم سے میں کہتا ہوں درہم سے نہیں کہتا
  • کچھ بات تھی کہنے کی کچھ بھول گیا اب میں
  • فطرت سے نہیں کہتا آدم سے نہیں کہتا
  • کہتے تو نہیں باور نا کہئے تو کافر تر
  • کہنے کی قسم مجھ کو میں دم سے نہیں کہتا
  • کہلانے میں خود ان کا کچھ تکملہ نارس ہے
  • الٹے انہیں شکوے ہیں کیوں ہم سے نہیں کہتا
  • ہاں میری یہ الجھن تو ہر دل میں کھٹکتی ہے
  • کچھ مڑ کے کوئی زلف برہم سے نہیں کہتا
  • کیوں ہو نہ جنوں کم گو جب ہوتا ہے یہ زیرک
  • دہرائی ہوئی باتیں محرم سے نہیں کہتا
  • کہنے سے ہوا گہرا کچھ اور غم پنہاں
  • میں سائے سے کہتا ہوں ہمدم سے نہیں کہتا
  • جس لمحے سے دیکھا ہے اک شعر سراپا کو
  • دانستہ کوئی مصرع اس دم سے نہیں کہتا
  • دیتے ہیں وہ محفل میں یوں داد لطیفیؔ کو
  • اشعار یہ کیا اکثر مبہم سے نہیں کہتا
=[ترمیم]
  • حشر مرا بخیر ہو مجھ کو بنا رہے ہو تم
  • خاک میں جان ڈال کر خاک اڑا رہے ہو تم
  • عبرتِ ذوق زہر خندۂ ذوق زبونی دو چند
  • شوق بڑھا کے پے بہ پے شمعیں بجھا رہے ہو تم
  • میرے عدم میں بھی بہم تھا ستمِ ازل کا غم
  • پہلے ہی میں نزار تھا اور ستا رہے ہو تم
  • سوز تو سوز ہے مگر ساز بھی سوز ہو نہ جائے
  • ساز کو آج سوز کے سامنے لا رہے ہو تم
  • درخور سجدہ ہے ابھی اور ابھی ننگ زندگی
  • عشقِ وفا سرشت کو خوب رلا رہے ہو تم
  • تہمتِ ہست بھی روا حاصل نیست بھی بجا
  • ہاں مری سر نوشت کے داغ مٹا رہے ہو تم
  • خندۂ زیر لب بھی ہے گریۂ بے سبب بھی ہے
  • بے ہمہ و بہر ادا رنگ جما رہے ہو تم

___________

  • وابستہ میری یاد سے کچھ تلخیاں بھی تھیں
  • اچھا کیا جو مجھ کو فراموش کر دیا

تصانیف[ترمیم]

  • دختران ہند
  • لطیفیات (تین حصے)
  • عظمت آدم
  • نظریہ مہدی
  • The Legend of Heer Ranjha

وفات[ترمیم]

م حسن لطیفی 23 مئی، 1959ء کو لاہور، پاکستان میں وفات پاگئے۔ وہ میانی صاحب قبرستان میں آسودۂ خاک ہیں۔[1][2]

حوالہ جات[ترمیم]