ناؤم چومسکی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
یہاں جائیں: رہنمائی، تلاش کریں
ناؤم چومسکی
(انگریزی میں: Noam Chomskyخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقامی زبان میں نام (P1559) ویکی ڈیٹا پر
ناؤم چومسکی 2004 میں وینکوور، برٹش کولمبیا کے دورے پر
ناؤم چومسکی 2004 میں وینکوور، برٹش کولمبیا کے دورے پر

معلومات شخصیت
پیدائشی نام (انگریزی میں: Avram Noam Chomskyخاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیدائشی نام (P1477) ویکی ڈیٹا پر
پیدائش 7 دسمبر 1928 (89 سال)[1][2][3][4][5]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
رہائش لیکسنگٹن، میساچوسٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رہائش (P551) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of the United States.svg ریاستہائے متحدہ امریکا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
دیگر نام اَورام ناؤم چومسکی
مذہب دہریت[6][7]
رکن امریکن فلوسوفیکل سوسائٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں رکن در (P463) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
مادر علمی جامعہ پنسلوانیا (BA 1949, MA 1951, PhD 1955)
تخصص تعلیم لسانيات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
تعلیمی اسناد فاضل الفنیات،ماسٹر آف آرٹس  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تعلیم در (P69) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ فلسفی،ماہرِ لسانیات،سیاسی مصنف،استاد جامعہ،مصنف[8]،صحافی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
مادری زبان انگریزی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مادری زبان (P103) ویکی ڈیٹا پر
تصنیفی زبان انگریزی[9]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں بولی، لکھی اور دستخط کی گئیں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر
آجر Massachusetts Institute of Technology  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں نوکری (P108) ویکی ڈیٹا پر
کارہائے نمایاں نحوی اجزاء (کتاب)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں کارہائے نمایاں (P800) ویکی ڈیٹا پر
تحریک دہریت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تحریک (P135) ویکی ڈیٹا پر
اعزازات
تمغا بنجمن فرینکلن (1999)
ہیلمولٹز میڈل (1996)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں وصول کردہ اعزازات (P166) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Noam Chomsky signature.svg 
ویب سائٹ
ویب سائٹ باضابطہ ویب سائٹ (انگریزی)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں باضابطہ ویب سائٹ (P856) ویکی ڈیٹا پر
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی  بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

اَورام ناؤم چومسکی (عبرانی: אברם נועם חומסקי) (پیدائش 7 دسمبر 1928) ایک یہودی امریکی ماہر لسانیات ، فلسفی ، مؤرخ ، سیاسی مصنف، اور لیکچرر ہیں۔ ان کے نام کا اولین حصہ اَورام دراصل ابراہیم کا عبرانی متبادل ہے۔ وہ مشہور زمانہ میساچوسٹس انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی شعبہ لسانیات میں پروفیسر ہیں اور اس ادارے میں پچھلے 50 سالوں سے کام کر رہے ہیں۔ چومسکی کو لسانیات میں جینیریٹو گرامر  کے اصول اور بیسویں صدی کے لسانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ ان کے کام سے کمپیوٹر سائنس ، ریاضی اور نفسیات کے شعبے میں ترقی ہوئی۔ چومسکی کی خاص وجہ شہرت ان کی امریکی خارجہ پالیسی اور سرمایہ دارانہ نظام پر تنقید رہی ہے۔وہ 100 سے زیادہ کتابوں کے خالق ہیں۔ دنیا بھر میں انہیں لیکچر دینے کے لیے مدعو کیا جاتا ہے۔ انکی ایک کتاب دنیا کس طرح کام کرتی ہے نے بڑی شہرت پائی۔

1967ء میں انہوں نے نفسیات کے شہرت یافتہ سائنسی کتاب بی ایف سكينر کی وربل بی هیوير کی تنقید لکھی جس نے 1950 کی دہائی میں وسیع قبولیت حاصل ہوئی نظریہ کردار Behaviorism کے اصولوں کو چیلنج کیا ، تو اس سے كاگنيٹو نفسیات میں ایک طرح کے انقلاب کا آغاز ہوا، جس سے نہ صرف نفسیات کا مطالعہ اور تحقیق متاثر ہوئی۔ بلکہ لسانیات، سوشیالوجی، انسانی نفسیات جیسے کئی شعبوں میں تبدیلی آئی۔

آرٹس اینڈ هيومنٹج ساٹیشن انڈیکس کے مطابق 1980-92 کے دوران جتنے محققین اور علماء کرام نے چامسكي کو حوالہ دیا ہے اتنا شاید ہی کسی زندہ مصنف کیا گیا ہو۔ اور اتنا ہی نہیں، وہ کسی بھی مدت میں آٹھویں سب سے بڑے حوالہ کئے جانے والے مصنف ہیں۔ [10] انسٹی ٹیوٹ فار سائنٹیفک انفارمیشن کے ایک حالیہ سروے کے مطابق تعلیمی کتب، تحقیق خطوط وغیرہ میں مارکس، لینن، شیکسپیئر، ارسطو، بائبل، افلاطون، اور فرائیڈ وغیرہ کے بعد چامسكی سب سے زیادہ حوالہ کئے جانے والے عالم ہیں جو ہیگل اور سسرو وغیرہ کو بھی شکست دیتے ہیں۔

ناؤم چومسکی کی پہلی پہچان یہ ہے کہ وہ ماہر لسانیات ہیں۔ انہوں نے 1950ء کی دہائی میں یہ انقلابی نظریہ پیش کیا تھا کہ تمام زبانوں کی بنیاد ایک ہی ہے۔ انہیں بجا طور پر اپنے شعبے کا آئن سٹائن کہا جاتا ہے ۔ تا ہم ناؤم چومسکی کی سیاسیات کے موضوع پر تحریروں نے بھی عالمی توجہ حاصل کی۔ ناؤم چومسکی اس عالمی جدوجہد کے ایک مفکر اورایکٹوسٹ ہیں جو نہ صرف ریاستی دہشت گردی بلکہ اقتصادی دہشت گردی کے بھی مخالف ہیں۔

1960 کی دہائی کے ویت نام کی جنگ کی تنقید میں لکھی کتاب 'دی رسپانس بلٹي آف اینٹلی كچولز' (خرد مندوں کی ذمہ داری)'کے بعد چامسكی خاص طور پر بین الاقوامی سطح پر میڈیا کے ناقدین اور سیاست کے عالم کے طور پر جانے جانے لگے، بائیں بازو اور امریکہ کی سیاست میں آج وہ ایک متحرک دانشور کے طور میں جانے اور تصورکئے جاتے ہیں۔ اپنے سیاسی ایكٹوزم اور امریکہ کی خارجہ پالیسی کی تنقید کے لئے آج انہیں پوری دنیا میں جانا جاتا ہے۔

چومسکی نے اکثر موقعوں پر امریکی کی پالیسیوں کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔اسامہ بن لادن کی موت پر چومسکی کہتے ہیں

"ہمیں اپنے آپ سے پوچھنا چاہیے کہ ہم کیا محسوس کرتے اگر عراقی کمانڈوز جارج ڈبلیو بش کے احاطے میں اترتے، اسے قتل کرتے اور اسکی لاش اٹلانٹک سمندر میں پھینک دیتے۔ اس میں کوئی اختلاف رائے نہیں کہ بش کے جرائم بن لادن کے جرائم سے کہیں زیادہ ہیں۔ اور بش مشتبہ نہیں بلکہ یقینی طور پر فیصلہ کرنے والا اور وہ احکام دینے والا رہا ہے جس سے بدترین بین الاقوامی جرائم کیے گئے۔ ایسے ہی جرائم میں نازیوں کو پھانسی دی گئی تھی یعنی لاکھوں کی موت، کروڑوں کی ملک بدری، ملک کے بیشتر حصے کی تباہی، اور بد ترین فسادات۔"

مزید دیکھیئے[ترمیم]

بیرونی ربط[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اپریل 2014 — اجازت نامہ: سی سی زیرو
  2. ربط: جی این ڈی- آئی ڈی — اخذ شدہ بتاریخ: 28 ستمبر 2015 — مدیر: الیکزینڈر پروکورو — عنوان : Большая советская энциклопедия Алферов Жорес — شائع سوم — باب: Хомский Ноам — ناشر: Great Russian Entsiklopedia, JSC
  3. آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی: https://tools.wmflabs.org/wikidata-externalid-url/?p=345&url_prefix=http://www.imdb.com/&id=nm0159008 — اخذ شدہ بتاریخ: 13 اکتوبر 2015
  4. http://www.nytimes.com/2013/11/22/movies/is-the-man-who-is-tall-happy-a-michel-gondry-documentary.html
  5. ایس این اے سی آرک آئی ڈی: http://snaccooperative.org/ark:/99166/w6gb266j — بنام: Noam Chomsky — اخذ شدہ بتاریخ: 9 اکتوبر 2017
  6. The Reality Club: BEYOND BELIEF
  7. Show 219: Noam Chomsky – “Chomsky on Humanism” | Equal Time For Freethought | Tune in, Pay it Forward, and Question Everything!
  8. http://www.nytimes.com/2006/09/23/books/23chomsky.html
  9. http://data.bnf.fr/ark:/12148/cb11896756j — اخذ شدہ بتاریخ: 10 اکتوبر 2015 — اجازت نامہ: آزاد اجازت نامہ
  10. "[http: //web.mit.edu/newsoffice/1992/citation-0415.html چامسكي از ساٹےشن چےپ]". اےماٹي نیوز آفس. 1992-04-15. http: //web.mit.edu/newsoffice/1992/citation-0415.html۔ اخذ کردہ بتاریخ 2007-09-03.