ناانصافی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ناانصافی (انگریزی: Grievance) کوئی غلط کار روائی یا سختی کی کیفیت ہے جو جھیلی گئی ہے، فی الواقع موجود رہی ہو یا وہ ایک مفروضہ نوعیت کی ہو سکتی ہے، جو کسی شکایت کے لیے بنیاد بن سکتی ہے۔ سابق میں یہ کسی سختی کے لزوم یا کسی سخت کار روائی کے سبب کو کہا جاتا تھا۔[1]


عام شکایت کسی کو کسی سے بھی ہو سکتی ہے۔ مثلًا بیٹے کو باپ سے، بیوی کو شوہر سے، بہن کو بھائی سے اور اسی طرح کسی ایک دوست کو اپنے دوست یا کسی ملاقاتی سے۔ مگر یہ شکایتیں غیر رسمی نوعیت کی ہوتی ہیں۔ ان میں عمومًا یا تو دو لوگ یا محدود دائرے اور حلقے کے لوگ دخل دیتے ہیں۔ اس میں تاوقتیکہ سنگین گھریلو تشدد یا قتل جیسا کوئی قانونی پکڑ کا معاملہ نہ ہو قانونی ایجنسیوں اور غیر متعلقہ لوگوں کے دخل کا امکان نہیں ہوتا۔ شکایت کی ایک اور قسم رسمی نوعیت کی ہو سکتی ہے۔ ایک طالب علم جو کسی جامعے کے اہلیتی امتحان میں درکار نمبروں سے پاس ہوتا ہے، اگر اسے داخلہ نہ دیا جائے تو وہ نہ صرف جامعے کے ارباب مجاز سے رجوع ہو سکتا ہے، بلکہ وہ عدالت کا بھی رخ کر سکتا ہے۔ اسی طرح سے سرکاری محکموں کی کار کردگی کو لے کر بھی لوگوں کی شکایتیں ہوتی ہیں۔ یہ رسمی شکایتیں ہوتی ہیں، جنہیں ناانصافی کہا جاتا ہے اور جنہیں دور کرنے پر حکومتیں اور ادارہ جات کوششیں کرتی ہیں۔

سرکاری محکموں سے ناانصافی کی شکایتوں کی مثالیں[ترمیم]

  • 2014ء میں دہلی میں عام آدمی پارٹی کے دوبارہ بر سر اقتدار آنے کے بعد وزیر اعلٰی اروند کیجریوال نے اس کے ایک سال کے اندر رشوت کے خلاف زور دار مہم شروع کی۔ 2015ء میں یہ حال دیکھا گیا کہ دہلی کے ہر ایف ایم اسٹیشن پر کیجریوال کا دہلی کو ’بدعنوانی سے پاک پانچ شہروں‘ میں شامل کرنے کا وعدہ دن میں 50 بار سنایا جا رہا تھا۔ لوگوں کو رشوت کا مطالبہ کرنے والوں کے خلاف ثبوت جٹاکر ایک مخصوص نمبر پر کال کرنے کے لیے بار بار کہا جا رہا تھا۔ تاہم عوام میں ناانصافی کہ عام شکایت یہ دیکھی گئی کہ اندراج شدہ معاملوں میں سے بہت ہی کم پر کار روائی ہوئی۔جہاں شروع سال میں 26 ہزار شکایتیں وصول ہوئیں، ان میں سے صرف 100 پر کارروائی ممکن ہو سکی، باقی ماندہ میں انتظامی عزم کی کمی یا ثبوت کی کمی کے سبب کار روائی نہیں ہوئی[2]، جس سے عوام میں ناانصافی کا احساس پر زور پکڑنے لگا۔
  • بھارت میں صارفین امور کے محکمہ کی سکریٹری لینا نندن نے مارچ 2021ء میں بتایا کہ نیشنل کنزیومر (قومی صارفین) ہیلپ لائن پر ہر ماہ اوسطاً 70 ہزار عوامی ناانصافی کی شکایتیں درج کی جاتی ہیں۔ کُل شکایتوں میں سے تقریباً 22 فیصدی شکایتیں ای کامرس شعبے سے متعلق ہوتی ہیں۔ زیادہ شکایتوں کے معاملے میں دوسرے اہم شعبوں میں بینک کاری (8.6 فیصد) اور ٹیلی مواصلات (7.7 فیصد) شامل ہیں۔این سی ایچ پلیٹ فارم پر کنورزنس کمپنیوں کی تعداد سال 18-2017 میں 403 سے بڑھ کر موجودہ وقت میں 647 پر پہنچ گئی ہے۔ اپریل –دسمبر 2020ء کے دوران تقریبًاً 98.5 فیصد ناانصافی کی شکایتوں کو نمٹایا گیا۔[3]

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. "Definition of 'grievance'". کالنز انگریزی لغت. اخذ شدہ بتاریخ 21 جنوری 2019. 
  2. 26 ہزار شکایتیں، صرف 100 پر کارروائی ممکن
  3. سنٹرل کنزیومر پروٹیکشن اتھارٹی (سی سی پی اے) نے گمراہ کن اشتہار اور کاروبار کے غیر قانونی طریقوں اور پیکجڈ کموڈیٹی قوانین کے تحت جاری اعلانات کی خلاف ورزی کو لے کر اکتوبر2020 سے ابتک 172 نوٹس جاری کیے : سکریٹری، محکمہ صارفین امور