مندرجات کا رخ کریں

ناروے میں نظام صحت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
ناروے میں ابتدائی دبی خدمات کا ایک کِٹ

ناروے میں نظام صحت (انگریزی: Healthcare in Norway) دنیا کے بہترین نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جو اعلیٰ معیار کی طبی سہولیات اور صحت کی خدمات تک وسیع رسائی فراہم کرتا ہے۔ یہ نظام بنیادی طور پر ٹیکسوں کے ذریعے عوامی طور پر مالی امداد یافتہ ہے، جو تمام رہائشیوں کو یونیورسل کوریج (یعنی ہر ایک کے لیے صحت کی سہولت) مہیا کرنے کے اصول پر مبنی ہے۔

یونیورسل ہیلتھ کوریج (سب کی صحت کا احاطہ

[ترمیم]

ناروے میں صحت کی دیکھ بھال تمام رہائشیوں کے لیے دستیاب ہے، بشمول وہ افراد جو چھ ماہ یا اس سے زیادہ عرصے سے ناروے میں مقیم ہوں۔[1]

اس میں نارویجین شہری اور غیر ملکی رہائشی دونوں شامل ہوتے ہیں۔

حکومت اس نظام کو ٹیکس کے ذریعے فنڈ فراہم کرتی ہے تاکہ آمدنی سے قطع نظر ہر فرد کو لازمی صحت کی خدمات دستیاب ہوں۔

عوامی نظامِ صحت

[ترمیم]

ناروے میں زیادہ تر ہسپتال اور کلینک سرکاری ملکیت میں ہوتے ہیں اور ان کا انتظام حکومت سنبھالتی ہے۔ [2]

ایک قومی ہیلتھ انشورنس اسکیم موجود ہے، جسے نارویجین لیبر اینڈ ویلفیئر ایڈمنسٹریشن (NAV) چلاتی ہے۔

ناروے میں رجسٹرڈ ہونے کے بعد، فرد خود بخود اس نظام کا حصہ بن جاتا ہے، جو زیادہ تر طبی اخراجات کو مکمل طور پر احاطہ کرتا ہے۔

پرائمری ہیلتھ کیئر (GP خدمات)

[ترمیم]

ہر فرد کو ایک جنرل پریکٹیشنر (GP) کے ساتھ رجسٹر ہونا لازمی ہوتا ہے، جو ابتدائی طبی رابطے کا ذریعہ ہوتا ہے۔ [3]

جنرل پریکٹیشنر مریض کو ماہرین یا ہسپتالوں کی جانب ریفر کرتا ہے جب مزید علاج کی ضرورت ہو۔

جنرل پریکٹیشنر کی خدمات عام طور پر کم لاگت پر فراہم کی جاتی ہیں، لیکن اس میں ایک معمولی فیس کی ادائیگی فر کار ہوتی ہے۔

سالانہ ایک حد تک اخراجات (تقریباً NOK 2500–3000) کے بعد باقی علاج مفت ہو جاتا ہے۔

ہسپتال کی دیکھ بھال

[ترمیم]

ہسپتالوں میں فراہم کی جانے والی خصوصی طبی خدمات بھی زیادہ تر سرکاری ہیں۔[4]

ناروے میں ایک وسیع اور جدید ہسپتال نیٹ ورک موجود ہے، جو سرجری، کینسر کی دیکھ بھال، زچگی کی خدمات اور دیگر مہارتوں سے آراستہ ہے۔

عام حالات میں، ہسپتال کی خدمات حاصل کرنے کے لیے جی پی سے ریفرل ضروری ہوتا ہے، سوائے ہنگامی حالات کے۔

ہنگامی طبی خدمات

[ترمیم]

ناروے میں ہنگامی طبی امداد بھی سرکاری نظام کے تحت فراہم کی جاتی ہے۔

کسی بھی ہنگامی صورت میں 113 پر کال کر کے ایمبولینس طلب کی جا سکتی ہے۔

زیادہ تر ہنگامی علاج مفت ہوتا ہے، تاہم مخصوص حالات میں معمولی اخراجات ہو سکتے ہیں۔

دانتوں کی دیکھ بھال

[ترمیم]

ناروے میں دانتوں کا علاج وسیع پیمانے پر دستیاب ہے، لیکن یہ بالغ افراد کے لیے عمومی طور پر عوامی انشورنس میں شامل نہیں ہوتا۔[5]

18 سال سے کم عمر بچوں کو مفت دانتوں کی دیکھ بھال فراہم کی جاتی ہے۔

بالغ افراد کو یا تو خود ادائیگی کرنا ہوتی ہے یا نجی انشورنس سے مدد لینا پڑتی ہے، البتہ کم آمدنی والے افراد کے لیے کچھ حکومتی سبسڈی بھی دستیاب ہوتی ہے۔

نسخے کی ادویات

[ترمیم]

نسخے کی ادویات پر حکومت کی طرف سے سبسڈی دی جاتی ہے،

لیکن اس میں کچھ اخراجات مریض کو خود بھی برداشت کرنے پڑتے ہیں۔

اگر کسی شخص کے سالانہ طبی اخراجات ایک خاص حد سے تجاوز کر جائیں، تو وہ ریلیف اسکیم کے لیے درخواست دے سکتا ہے۔

صحت کی لاگت اور رعایتیں

[ترمیم]

اگرچہ ناروے کا نظامِ صحت عوامی طور پر مالیہ کی فراہم کردہ ہے، پھر بھی مریضوں کو ڈاکٹر سے ملاقات، ماہرین کی خدمات اور کچھ مخصوص علاج کے لیے معمولی فیس ادا کرنی پڑتی ہے۔

لیکن سالانہ ایک مقررہ حد کے بعد (تقریباً NOK 2500–3000)، وہ باقی سال کے لیے تمام صحت کی خدمات مفت حاصل کر سکتے ہیں۔

ذہنی صحت اور مشاورت

[ترمیم]

ناروے میں ذہنی صحت پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے۔ ذہنی صحت کی خدمات عوامی اور نجی دونوں شعبوں میں دستیاب ہیں، جن میں تھراپی، مشاورت اور نفسیاتی دیکھ بھال شامل ہیں۔ غیر ہنگامی خدمات کے لیے بعض اوقات انتظار کرنا پڑ سکتا ہے۔

نجی طبی خدمات

[ترمیم]

اگرچہ عوامی نظام غالب ہے، پھر بھی ناروے میں کچھ نجی صحت کی سہولیات موجود ہیں۔ نجی علاج عام طور پر وہ لوگ حاصل کرتے ہیں جو فوری رسائی یا مخصوص خدمات چاہتے ہیں جو عوامی نظام میں شامل نہیں ہوتیں۔

تاہم ناروے کی اکثریت عوامی نظام کو ہی استعمال کرتی ہے۔

صحت کے نتائج اور معیار

[ترمیم]

ناروے عالمی صحت کے اشاریوں میں مسلسل بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرتا ہے، جیسے کہ:

  • اوسط عمر
  • کم بچوں کی اموات
  • اعلیٰ معیار کی طبی خدمات
  • ناروے کی مضبوط احتیاطی دیکھ بھال پر مبنی پالیسی،

ملک کی عمومی صحت کو بہتر بناتی ہے۔

چیلنجز

[ترمیم]

ناروے کے نظامِ صحت کو کچھ چیلنجز کا سامنا ہے، جیسے:

  • طویل انتظار کا وقت، خاص طور پر غیر ہنگامی علاج کے لیے
  • عمر رسیدہ آبادی کی وجہ سے نظام پر بڑھتا دباؤ
  • دور دراز علاقوں میں صحت کی خدمات تک رسائی کی کمی، کیونکہ آبادی کم اور پھیلی ہوئی ہے

خلاصہ

[ترمیم]

ناروے کا نظام صحت دنیا کے بہترین اور منظم نظاموں میں شمار ہوتا ہے، جو ٹیکسوں کے ذریعے فنڈ کیا جاتا ہے اور تمام رہائشیوں کو یونیورسل ہیلتھ کوریج فراہم کرتا ہے۔ عوامی نظام کے تحت زیادہ تر ہسپتال اور کلینک سرکاری ملکیت میں ہیں اور ناروے میں مقیم ہر فرد کو ایک جنرل پریکٹیشنر (GP) کے ساتھ رجسٹر ہونا لازم ہے، جو طبی نگہداشت کا پہلا ذریعہ ہوتا ہے۔ GP ریفرل کے ذریعے مریض کو ماہرین یا ہسپتالوں تک پہنچاتا ہے۔ سالانہ ایک مقررہ حد (تقریباً NOK 2500–3000) کے بعد باقی علاج مفت ہو جاتا ہے۔ ہنگامی خدمات، زچگی، کینسر کی دیکھ بھال اور ذہنی صحت کی سہولیات بھی وسیع پیمانے پر دستیاب ہیں، جبکہ دانتوں کی دیکھ بھال بالغوں کے لیے عموماً نجی سطح پر ہوتی ہے۔ نسخے کی ادویات پر جزوی سبسڈی دی جاتی ہے۔ اگرچہ عوامی نظام غالب ہے، کچھ نجی سہولیات بھی موجود ہیں۔ ناروے صحت کے عالمی اشاریوں میں اعلیٰ کارکردگی دکھاتا ہے، تاہم طویل انتظار، عمر رسیدہ آبادی اور دور دراز علاقوں میں رسائی جیسے کچھ حل طلب مسائل ہیں جن کی یکسوئی ناروے میں صحت کے نظام کو اور بھی فعال، اثر انگیز اور کمل طور پر عوام دوست بنا سکتے ہیں ۔

مزید دیکھیے

[ترمیم]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. https://www.jeevan-mantra.com/13801/[مردہ ربط]
  2. https://www.grannville.com/hi/post/%E0%A4%A8-%E0%A4%B0%E0%A5%8D%E0%A4%B5%E0%A5%87-%E0%A4%AE%E0%A5%87%E0%A4%82-%E0%A4%9A%E0%A4%BF%E0%A4%95%E0%A4%BF%E0%A4%A4%E0%A5%8D%E0%A4%B8%E0%A4%BE-%E0%A4%B8%E0%A4%B9%E0%A4%BE%E0%A4%AF%E0%A4%A4%E0%A4%BE-%E0%A4%B8%E0%A4%82%E0%A4%B8%E0%A5%8D%E0%A4%A5%E0%A4%BE%E0%A4%A8-%E0%A4%94%E0%A4%B0-%E0%A4%AA%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A4%95%E0%A5%8D%E0%A4%B0%E0%A4%BF%E0%A4%AF%E0%A4%BE%E0%A4%8F%E0%A4%82
  3. "آرکائیو کاپی"۔ 2025-04-11 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-13
  4. https://www.nicedays.in/2024/02/norway-contry-information-hindi.html[مردہ ربط]
  5. https://gypsywarrior.com/hi/%E0%A4%86%E0%A4%AA%E0%A4%BE%E0%A4%A4%E0%A4%95%E0%A4%BE%E0%A4%B2%E0%A5%80%E0%A4%A8-%E0%A4%B8%E0%A5%87%E0%A4%B5%E0%A4%BE%E0%A4%8F%E0%A4%82-%E0%A4%A8%E0%A5%89%E0%A4%B0%E0%A5%8D%E0%A4%B5%E0%A5%87-%E0%A4%AE%E0%A5%87%E0%A4%82-%E0%A4%B0%E0%A4%B9%E0%A4%A4%E0%A5%87-%E0%A4%B9%E0%A5%81%E0%A4%8F-%E0%A4%95%E0%A5%8D%E0%A4%AF%E0%A4%BE-%E0%A4%9C%E0%A4%BE%E0%A4%A8%E0%A4%A8%E0%A4%BE-%E0%A4%9A%E0%A4%BE%E0%A4%B9%E0%A4%BF%E0%A4%8F/[مردہ ربط]

مزید پڑھیے

[ترمیم]
  • Epidemiology of geriatric trauma patients in Norway: A nationwide analysis of * Norwegian Trauma Registry data, 2015- 2018. A retrospective cohort study. Cuevas-Østrem M, Røise O, Wisborg T, Jeppesen E. Injury. 2021;52(3):450-9. DOI:10.1016/j.injury.2020
  • Differences in time-critical interventions and radiological examinations between adult and older trauma patients. Cuevas-Østrem M, Wisborg T, Røise O, Jeppesen E. J Trauma Acute Care Surg. 2022;93(4):503-12. DOI: 10.1097/TA.0000000000003570
  • Care pathways and factors associated with interhospital transfer to neurotrauma centers for patients with isolated moderate-to-severe traumatic brain injury: a population-based study from the Norwegian Trauma Registry. Cuevas-Østrem M, Thorsen K, Wisborg T, Røise O, Helseth E, Jeppesen E. Scandinavian Journal of Trauma, Resuscitation and Emergency Medicine. 2023;31(1):34. DOI: 10.1186/s13049-023-01097-7
  • Decision-making in interhospital transfer of traumatic brain injury patients: exploring the perspectives of surgeons at general hospitals and neurosurgeons at neurotrauma centres Cuevas-Østrem M, Wisborg T, Røise O, Helseth E, Jeppesen E. Submitted 2023.