ناروے میں 2011ء کا دہشت گرد حملہ

ناروے میں 2011ء کا دہشت گرد حملہ (انگریزی: 2011 Norway attacks) ملک کی تاریخ میں دوسری جنگ عظیم کے بعد سب سے بڑی انسانیت سوز کارروائی کے طور پر یاد رکھا جاتا ہے۔ یہ دل خراش واقعہ 22 جولائی 2011ء کو پیش آیا، جب دہشت گرد اینڈرس بیرنگ بریوِیک (Anders Behring Breivik) نے انتہائی منظم انداز میں دو الگ الگ مقامات پر حملے کیے۔ پہلا حملہ ناروے کے دار الحکومت اوسلو میں وزیر اعظم کے دفتر کے قریب ایک بم دھماکے کی صورت میں ہوا، جس میں 8 سے 11 افراد ہلاک ہوئے اور متعدد زخمی ہوئے۔ اس کے کچھ ہی گھنٹوں بعد بریوِیک نے اوسلو سے کچھ فاصلے پر واقع یوٹویا (Utøya) جزیرے پر لیبر پارٹی کی یوتھ ونگ کیمپ پر فائرنگ کر دی، جہاں نوجوان سیاسی کارکن اور طلبہ موجود تھے۔ اس خوفناک حملے میں 69 معصوم نوجوان مارے گئے، جن میں سے بیشتر کی عمریں 14 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔ مجموعی طور پر 77 سے 80 افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ بریوِیک کا تعلق دائیں بازو کی انتہا پسند سوچ سے تھا اور وہ تارکینِ وطن، خاص طور پر مسلمانوں کے خلاف شدید نفرت رکھتا تھا۔ اس واقعے نے نہ صرف ناروے بلکہ پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ ناروے جیسے پرامن اور کھلے معاشرے کے لیے مشہور ہے، یہ ایک بہت بڑا صدمہ تھا۔ اس کے بعد قوم نے یکجہتی، برداشت اور جمہوری اقدار کے دفاع کے عزم کا اظہار کیا۔ یہ حملہ آج بھی ناروے میں نفرت، شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اجتماعی جدوجہد کی علامت کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
حملے کی تاریخ
[ترمیم]یہ حملے 22 جولائی 2011 کو پیش آئے۔ یہ دو بڑے دہشت گرد حملے تھے، جنھیں اینڈرس بیرنگ بریوِیک (Anders Behring Breivik) نامی ایک دائیں بازو کے انتہا پسند نے انجام دیا اور ان حملوں نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا کیوں کہ لوگ ناروے کو ایک پر امن ملک تصور کرتے ہیں۔ [1] [2] [3] [4] [5] [6] [7]
پہلا حملہ: اوسلو بم دھماکا
[ترمیم]پہلا حملہ تقریباً دوپہر 3:25 بجے ہوا۔ یہ حملہ دوپہر کے تقریباً 3 بج کر 25 منٹ پر ہوا۔ اس وقت ناروے ایک عام دن کی آمد و رفت میں مصروف تھا۔ دفاتر کھلے ہوئے تھے، لوگ اپنے کاموں میں مشغول تھے اور دار الحکومت اوسلو میں کوئی غیر معمولی صورت حال نہیں تھی۔ ایسے میں اچانک ایک زور دار دھماکے نے پورے شہر کو دہلا دیا۔ یہ مقام ناروے کے دار الحکومت اوسلو میں سرکاری دفاتر کے قریب تھا۔ اور یہ دھماکا ناروے کے دار الحکومت اوسلو میں واقع وزیر اعظم کے دفتر اور دیگر سرکاری عمارتوں کے قریب ہوا۔ یہ علاقہ حکومت کا اہم مرکز سمجھا جاتا ہے۔ وہاں پارلیمان، وزارتیں اور دوسرے اہم ادارے موجود ہیں۔ یہ جگہ عمومی طور پر سخت سیکیورٹی میں رہتی ہے، اس لیے اس مقام پر حملہ ہونا سیکیورٹی کے لیے بھی ایک بڑا دھچکا تھا۔ یہ ایک کار بم کے ذریعے دھماکا کیا گیا، جو ناروے کے وزیر اعظم کے دفتر اور دیگر اہم سرکاری عمارتوں کے بالکل قریب کھڑی کی گئی تھی۔حملہ آور نے ایک گاڑی میں دھماکا خیز مواد چھپا کر وزیر اعظم کے دفتر کے باہر پارک کر دیا۔ جب دھماکا ہوا تو اس کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ قریبی عمارتوں کے شیشے ٹوٹ گئے، دیواریں گر گئیں اور لوگ کئی میٹر دور جا گرے۔ فضا میں دھواں اور ملبہ پھیل گیا اور ہر طرف افراتفری مچ گئی۔ اس کے نتیجے میں 11 افراد جاں بحق ہوئے متعدد زخمی ہوئے۔ ہلاک ہونے والوں میں سرکاری ملازمین، راہ گیر اور کچھ سیاح شامل تھے۔ زخمیوں میں کچھ کی حالت انتہائی تشویشناک تھی۔ اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی اور پورے ملک میں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی۔ سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔دھماکے سے وزیر اعظم کی رہائش سمیت متعدد سرکاری عمارتوں کو شدید نقصان پہنچا۔ کئی عمارتوں کی دیواریں تباہ ہو گئیں، کھڑکیاں چکناچور ہو گئیں اور اندرونی دفاتر خاکستر ہو گئے۔ یہ نہ صرف جانی نقصان تھا، بلکہ ناروے کے حکومتی ڈھانچے اور قومی وقار پر بھی کاری ضرب تھی۔[8] [9] [10] [11]
دوسرا حملہ: یوٹویا جزیرے پر فائرنگ (Utøya Island Shooting)
[ترمیم]دوسرا حملہ تقریباً شام 5:30 بجے ہوا۔ جب اوسلو میں بم دھماکے کی خبر سے ملک ابھی سنبھلنے کی کوشش ہی کر رہا تھا، تبھی ایک اور جان لیوا حملہ شروع ہو چکا تھا۔ حملہ آور نے وقت کا ایسا انتخاب کیا جب نوجوان کیمپ میں سرگرمیوں میں مصروف تھے اور سیکیورٹی نسبتاً کمزور تھی۔ یہ مقام یوٹویا جزیرہ تھا جہاں لیبر پارٹی کی نوجوان شاخ کا تربیتی کیمپ جاری تھا۔ یہاں گولی باری اچانک ہوتی ہے۔ یہ جزیرہ اوسلو سے کچھ فاصلے پر واقع ایک خوبصورت اور پر سکون جگہ ہے، جہاں ہر سال نوجوان سیاسی کارکن تربیت، مباحثے اور سماجی سرگرمیوں کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اس روز بھی تقریباً 600 نوجوان وہاں موجود تھے، جنھیں اندازہ بھی نہ تھا کہ موت ان کے اتنے قریب آ چکی ہے۔ حملہ ور بریوِیک پولیس کی وردی میں آیا اور نوجوانوں پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔تاکہ لوگ اسے محافظ سمجھیں اور اسی مغالطے کا فائدہ اٹھاکر پھر سے بریویک نے کیمپ میں موجود نوجوانوں پر فائرنگ شروع کر دی اور بار پھر خوں ریزی انجام پائی۔اس دوسرے حملے سے 69 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں اکثریت نوجوانوں کی تھی۔ اس کے علاوہ 100 سے زائد زخمی بھی ہوئے۔ مارے جانے والوں میں بیشتر کی عمریں 14 سے 19 سال کے درمیان تھیں۔ یہ ناروے کی تاریخ کی سب سے خوفناک اجتماعی ہلاکت تھی۔ اس واقعے نے نہ صرف متاثرہ خاندانوں کو غم میں ڈبایا بلکہ پوری قوم کو سوگوار کر دیا۔ کئی زخمیوں کی حالت نازک تھی اور بہت سے زندہ بچ جانے والے ذہنی صدمے کا شکار ہو گئے۔ یہ حملہ پولیس کے پہنچنے تک ایک گھنٹے سے زائد جاری رہا۔ جزیرے تک پہنچنا آسان نہیں تھا، کیونکہ وہ پانی سے گھرا ہوا ہے۔ اس وجہ سے پولیس کو کافی وقت لگا۔ اس دوران بریوِیک کو آزادانہ قتل عام کا موقع مل گیا۔ پولیس کے پہنچنے پر بالآخر وہ ہتھیار ڈال کر گرفتار ہو گیا، مگر اس وقت تک وہ بہت بڑا نقصان کر چکا تھا۔[12] [13] [14]
حملہ آور: اینڈرس بیرنگ بریوِک (Anders Behring Breivik)
[ترمیم]حملہ آور اینڈرس بیرنگ بریوِیک ایک دائیں بازو کی انتہا پسند سوچ رکھنے والا شخص تھا۔ بریوِیک ایک ایسا شخص تھا جو سیاست، ثقافت اور مذہب کے مخصوص شدت پسند نظریات رکھتا تھا۔ وہ خود کو مغربی تہذیب کا "محافظ" سمجھتا تھا اور اُس نے یہ حملے ایک "سیاسی پیغام" کے طور پر کیے، جس کا مقصد اپنی نفرت انگیز سوچ کو دنیا کے سامنے رکھنا تھا۔ اس کا دعوٰی یہ حملہ جسے وہ خود انجام دے رہا ہے، محض ایک جھلک ہے اور اسلام کے پیروکار اس سے بھی کئی گنا شدید خوں ریزی کافی منظم انداز میں کر سکتے ہیں۔ اس لیے وہ اسلام ہی کا نہیں بلکہ کثرتِ ثقافت (Multiculturalism) اور مارکسزم کا بھی مخالف تھا اور ان سب بھی ملک اور دنیا کے لیے بے امنی کا سبب تصور کرتا تھا۔ اس کے نزدیک مسلمان یورپ میں "غیر ملکی اثرات" کا سبب تھے اور کثیرالثقافتی معاشرے یورپی شناخت کو "خطرے میں" ڈال رہے تھے۔ اس نے مارکسزم اور بائیں بازو کی سیاست کو بھی یورپ کے زوال کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ اس کا کہنا تھا کہ نفرت پر مبنی اس سوچ نے اسے انتہائی قدم اٹھانے پر آمادہ کیا۔ حملے سے قبل اس نے 1,500 صفحات پر مشتمل منشور (Manifesto) آن لائن پوسٹ کیا۔ جس میں اس نے اپنے نظریات، مقاصد اور منصوبہ بندی کی تفصیلات بیان کیں۔یہ منشور نہ صرف نفرت آمیز خیالات سے بھرپور تھا بلکہ اس میں نوجوانوں کو انتہا پسند بننے کی ترغیب بھی دی گئی۔ اس نے یورپ کو "اسلام سے بچانے" کا دعویٰ کیا اور خود کو "یورپی شہسوار" کہا۔ اس کی تحریر ایک نفسیاتی اور نظریاتی شدت پسندی کی غماز تھی، جسے دنیا بھر میں خطرناک مواد تصور کیا گیا۔ گرفتاری اور عدالتی سماعت کے بعد 2012ء میں اسے مجرم قرار دے کر 21 سال قید کی سزا دی گئی، جو ناروے کے قانون کے مطابق زیادہ سے زیادہ سزا ہے — تاہم اسے بعد میں بڑھایا جا سکتا ہے۔ یعنی ناروے کے قانون میں ایسی گنجائش ہے کہ اگرچہ یہ سزا 21 سال ہے، قوانین میں ایک شق موجود ہے جس کے تحت اگر مجرم معاشرے کے لیے مستقل خطرہ ہو، تو سزا کو غیر معینہ مدت تک بڑھایا جا سکتا ہے۔ عدالت نے اسے ایک بے رحم، سنگ دل اور شعوری طور پر منصوبہ بند قاتل قرار دیا۔ اس وقت بھی بریوِیک قید میں ہے اور اسے مسلسل نگرانی میں رکھا گیا ہے۔[15] [16] [17] [18] [19] [20]
'
نتائج اور اثرات
[ترمیم]- ناروے اور پوری دنیا میں اس واقعے نے گہرے غم اور صدمے کو جنم دیا۔ یہ حملہ ناروے جیسے پُرامن، خوش حال اور کھلے معاشرے میں ناقابلِ تصور سانحہ سمجھا گیا۔ دنیا بھر میں سیاسی و سماجی حلقوں نے اس دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا۔
- ناروے نے انتہا پسندی اور سیکیورٹی نظام سے متعلق اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی۔ اس واقعے کے بعد ناروے نے اپنی خفیہ ایجنسیوں، پولیس نظام اور دہشت گردی سے نمٹنے کی حکمت عملی کا ازسرِ نو جائزہ لیا، تاکہ مستقبل میں اس نوعیت کے خطرات سے بہتر طور پر نمٹا جا سکے۔
- متاثرین کے اہلِ خانہ اور زندہ بچ جانے والے افراد نے جمہوریت، رواداری اور کھلے پن کی حمایت میں آواز بلند کی۔ حملے کے بعد، بہت سے زندہ بچ جانے والے نوجوان اور متاثرہ خاندان انتقام یا نفرت کی بجائے امن، مساوات اور آزادی کے اصولوں کے علَم بردار بن کر سامنے آئے، جو ناروے کے جمہوری مزاج کی عکاسی کرتا ہے۔[21]
متنازع نظریاتی تعلق
[ترمیم]- ناروے کے نسل کُش اینڈرس بیرنگ بریوِیک نے بھارت کی ہندو قوم پرست تحریک (ہندوتوا) کی تعریف کی اور اسے دنیا بھر میں جمہوری نظام کو گرانے کی عالمی جدوجہد میں ایک اہم اتحادی قرار دیا۔ بریوِک نے اپنے منشور میں بھارت میں ہندو قوم پرست تحریک کو ایک مثال کے طور پر پیش کیا، جو اس کے بقول "اسلام کے خلاف کھڑی ہوئی ہے"۔ اس نظریاتی تعلق نے بین الاقوامی سطح پر نئی بحث چھیڑ دی کہ کس طرح انتہا پسندی سرحدوں سے بالاتر ہو کر ایک دوسرے سے متاثر ہو سکتی ہے۔[22]
- نیوزی لینڈ کے کرائسٹ چرچ علاقے میں واقع مسجد ہر 2019ء کے حملے کے مجرم برینٹن ٹارنٹ نے ناروے میں 2011ء کے حملے کے دہشت گرد کے منشور کو پڑھ کر کہا:
I have read the writings of Dylan Roof and many others, but only really took true inspiration from Knight Justiciar Breivik
یعنی یہ بنان کہ میں نے ڈائلان روف اور کئی دیگر کو پڑھا تھا، مگر حقیقی نصیحت تو میں شاہی محافظ بریویک سے لی ہے۔[23]
یہ نائٹس ٹیمپلر کا لفظ کا پس منظر در حقیقت برینٹن ٹارنٹ کی جانب سے بریویک کے 22 جولائی 2011 کو آن لائن پوسٹ کیے گئے دستاویز، جسے وہ "مینی فیسٹو" یا منشور کہتا ہے، کا حوالہ ہے، جو اگر چیکہ کئی بالکلیہ غلط اور مفروضہ باتوں کا مجموعہ ہے، تاہم اس دستاویز میں بریویک نے شدت پسند گروہ، دائیں بازو کے بلاگرز، کارل مارکس، ٹونی بلیئر، اسامہ بن لادن اور جارج بش کے خیالات، تحریروں اور تقریروں میں ترمیم کرکے خود سے منسوب کیا تھا۔ دستاویز میں وہ نہ صرف کثیر الثقافتی معاشروں، اسلام اور مارکسزم کے بارے میں اپنے انتہا پسند خیالات پیش کرتا ہے، بلکہ اپنی زندگی کی ایک ایڈیٹ شدہ (ترمیم شدہ) کہانی بھی سناتا ہے جس میں وہ ایک عسکری اور محافظ پہلو بھی بیان کرتا ہے۔ جس پر کئی ماہرین سماجیات و نفسیات دوسروں سے حاصل شدہ معلومات اس کی بیان کردہ کہانی پر شدید شکوک و شبہات ڈالتے ہیں۔ اسی طرح "نائٹس ٹیمپلر" (Knights Templars) نامی تنظیم کی موجودگی پر بھی شدید شبہات ہیں، جس کا بریوِیک بار بار ذکر کرتا ہے کہ یہ تنظیم اس کے حملوں کی محرک تھی اور وہ اس کا ایک فعال اور با اثر رکن ہے۔ دیگر دائیں بازو کے گروہوں نے اس تنظیم کے وجود ہی سے لاعلمی ظاہر کی ہے اور نارویجین و بین الاقوامی پولیس تحقیقات میں اس تنظیم کے زمین پر کہیں بھی ہونے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔[24] پھر بھی تعجب ہے کہ برینٹن ٹارنٹ جیسا پڑھا لکھا شخص کیسے متاثر ہوا اور بریویک جیسی ہی خوں ریز غلطی کا دوبارہ ارتکاب کیا۔
- بریویک کے منشور کو بھارت کی بی جے پی اور آر ایس ایس قائدین نے خارج کر دیا جس میں اس نے آر ایس ایس کی تعریف کی۔ تاہم بی جے پی کے ایک سینیئر قائد بی پی سنگھ نے کہا:
The killer's ideas were not wrong but his methods were
یعنی قاتل کے خیالات نہیں اس کے طریقے غلط تھے۔[25]
مقبول عام میڈیا
[ترمیم]- امریکی مصنف اور فلم ہدایت کار پال گرین گراس نے 22 جولائی کے عنوان فلم بنوائی۔ یہ فلم آندرس بریوک کے دہشت گرد حملوں اور ان کے بعد کے اثرات پر مبنی ہے۔ اس فلم کی کہانی دو اہم واقعات پر مرکوز ہے: اوسلو میں ہونے والا بم دھماکا اور اس کے بعد یوٹویا جزیرے پر ورکرز یوتھ لیگ کے کیمپ پر ہونے والا فائرنگ کا واقعہ، جس میں درجنوں بے گناہ جان سے گئے۔ بریوک، جو سفید فام قوم پرستی کے شدت پسند نظریات رکھتا تھا، نے پولیس کی وردی میں ان حملوں کو انجام دیا۔ فلم میں ولیار ہانسن جیسے متاثرین کی کہانی بھی شامل ہے، جنھوں نے حملے میں زندہ بچنے کے بعد عدالت میں گواہی دی۔ اس کے علاوہ، بریوک کے قانونی دفاع اور ذہنی بیماری کے حوالے سے بھی اس فلم میں تفصیل سے دکھایا گیا ہے۔ اس فلم کا مقصد دہشت گردی کے اثرات اور اس کے بعد کی سیاست کو حقیقت پسندی کے ساتھ پیش کرنا ہے۔ فلم کو 2018 میں نیٹ فلکس جیسے آن لائن او ٹی ٹی پلیٹ فارم پر اور دنیا کے مختلف فلم فیسٹیولوں میں ریلیز کیا گیا۔ ان فیسٹیولوں میں فلم کی نمائش جہاں انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف لڑنے کے جذبے کو اجاگر کیا گیا، فلم کو باکمال پیش کرنے پر سراہا گیا، وہیں اس کو چند فلم سازی سے جڑے پہلوؤں کی بنا پر کہیں کہیں پر تنقید کا نشانہ بھی بنایا گیا۔کچھ ناقدین نے ایسے پہلوؤں کا بھی حوالہ دیا جیسے کہ یکے بعد دیگرے دو بڑے دہشت گرد حملے دو اچھے خاصے فاصلے کے مقامات پر ایک شخص ایک ہی دن انجام دے چکا ہے اور اس دوران ناروے کی پولیس عملًا غیر کار گرد ثابت ہوئی۔ فلم میں اس پہلو کو نہیں دکھایا گیا۔ [26]
- ہم میں سے ایک آسنے سیئرسٹاد کی تحریر کردہ غیر افسانوی کتاب ہے جو ناروے کے دہشت گردانہ حملے سانحہ کا احاطہ کرتا ہے جو 22 جولائی 2011 کو اس وقت انجام پایا تھا، جب آندرس بریوک نے اوسلو اور یوتویا جزیرے پر دہشت گرد حملے کیے، جن میں درجنوں نوجوان جان سے گئے۔ کتاب ان متاثرہ افراد—خصوصاً بانو رشید، سائمن سیبو اور ولیار ہانسن—کی زندگیوں پر روشنی ڈالتی ہے اور بتاتی ہے کہ ان کا خواب ناروے کی "ہم" کا حصہ بننا تھا۔ سیئرسٹاد نے مقدمے کی تفصیلات، بریوک کی تحریروں، سرکاری رپورٹس اور متاثرین کے انٹرویوز کی مدد سے یہ کتاب لکھی۔ کتاب کا عنوان معاشرے میں شمولیت اور تعلق کی انسانی خواہش کی عکاسی کرتا ہے، جب کہ حملہ آور اس تعلق سے خود کو الگ کر کے بربریت پر اتر آیا۔ "ہم میں سے ایک" کو عالمی سطح پر سراہا گیا اور یہ مختلف زبانوں میں ترجمہ ہو کر کئی ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی۔
- ہیلگے جورڈ ہیم کا مضمون THE MANIFESTO, THE TIMELINE, AND THE MEMORY SITE: THE 22 JULY 2011 ATTACKS IN NORWAY AND THE CHRONOPOLITICS OF GENRE ناروے میں 22 جولائی 2011 کے دہشت گرد حملوں کو تین اصناف — منشور، خط زمانی اور یاد گار مقام — کے ذریعے سمجھنے کی کوشش کرتا ہے، تاکہ وقت اور یادداشت کے سیاسی پہلو ("chronopolitics") کو اجاگر کیا جا سکے۔ حملہ آور انڈرس بریویک کے منشور کو ایک نظریاتی وقت کا بیان قرار دیا گیا ہے جب کہ اس کے شدت پسند خیالات اور کارروائی کو ایک تاریخی جدوجہد میں شامل کرتا ہے۔ حملے کے خط زمانی ان واقعات کی ترتیب کو واضح کرتی ہے، جب کہ 22 جولائی سینٹر جیسے یادگاری مقامات ان واقعات کو اجتماعی یادداشت میں محفوظ کرنے اور سماجی مکالمے کو فروغ دینے کا ذریعہ بنتے ہیں۔ یوں یہ تینوں اصناف دہشت گردی جیسے سانحات کے بعد وقت اور معنی کو ترتیب دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔[27]
خلاصہ
[ترمیم]22 جولائی 2011 کو ناروے میں دہشت گرد اینڈرس بیرنگ بریوِیک نے ملک کی تاریخ کا بد ترین دہشت گردانہ حملہ کیا۔ یہ اپنے آپ میں ایک نظیر ہے، کیوں کہ اس حملے تک یہاں عوام کسی خوں ریزی کے خدشے کے بغیر گھومنے پھرنے کی عادی تھی۔ اس حملے نے یہاں کے لوگوں میں دہشت گردی متعارف کی اور نفرت کی انتہا پسندی کی اپنی جیتی جاگتی مثال پیش کی۔ اس منصوبہ بند اور منظم حملے میں سب سے پہلے اوسلو میں وزیر اعظم کے دفتر کے قریب بم دھماکے سے 8 یا 11 افراد مارے گئے اور پھر یوٹویا جزیرے پر لیبر پارٹی کے یوتھ (نوجوانوں) کے کیمپ پر فائرنگ کر کے 69 نوجوانوں کو قتل کر دیا۔ مجموعی طور پر 77 افراد ہلاک ہوئے۔ کچھ خبروں کے مطابق مہلوکین کی تعداد 80 یا اس سے زیادہ ہی رہ رہی ہے۔ مرنے والوں بڑے، بوڑھے، بچے، مرد اور خواتین، سب شامل تھے۔ عہدے کے لحاظ سے سرکاری افسر، سیاست دان اور عام لوگ بھی زد میں آ گئے تھے۔ بریوِیک دائیں بازو کا انتہا پسند تھا، جو اسلام، کثیرالثقافت اور مارکسزم کا شدید مخالف تھا اور اس نے حملے سے قبل ایک 1,500 صفحات پر مبنی منشور شائع کیا۔ اس واقعے نے دنیا کو ہلا کر رکھ دیا اور ناروے جیسے پُرامن ملک میں شدت پسندی کے خطرے کو بے نقاب کیا۔ بعد ازاں بریوِیک کو 21 سال قید کی سزا سنائی گئی، جس میں توسیع ممکن ہے۔ اس سانحے نے ناروے کو برداشت، جمہوریت اور امن کے اصولوں پر قائم رہنے کا عزم دلایا اور یہ واقعہ آج بھی حیوانیت کے خلاف عالمی جدوجہد کی علامت ہے۔ یہ ایک دوسری بات ہے کہ اس واقعے نے کم از کم اایک اور دہشت گرد حملے کو نیوزی لینڈ میں حوصلہ افزائی کی اور اس کی کچھ دائیں محاذ کے لوگوں نے کھل کر یا در پردہ حمایت کی۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://edition.cnn.com/2021/07/22/europe/anders-breivik-july-22-attacks-norway-anniversary-cmd-intl/index.html
- ↑ https://www.netflix.com/title/80210932
- ↑ https://www.imdb.com/title/tt7280898/
- ↑ https://pmc.ncbi.nlm.nih.gov/articles/PMC3619172/
- ↑ https://www.bbc.com/news/world-europe-14259989
- ↑ https://fas.org/publication/norways-anders-breivik-weapons-of-mass-destruction-and-politics-of-cultural-despair/
- ↑ https://philpapers.org/rec/NALROA
- ↑ https://www.bbc.co.uk/news/world-europe-14260297
- ↑ https://www.nytimes.com/2011/07/23/world/europe/23oslo.html
- ↑ https://apnews.com/article/europe-norway-bd6c9d2efd6ce2148c3d85cb79d73af9
- ↑ https://www.lifeinnorway.net/utoya-tragedy-remembered/
- ↑ https://www.independent.co.uk/news/norways-july-22-2011-terror-attack-a-timeline-norway-utoya-stavanger-oslo-european-court-of-human-rights-b1886395.html
- ↑ https://theconversation.com/utoya-massacre-10-years-on-what-has-changed-in-norway-164819
- ↑ https://www.bbc.com/news/world-europe-60219876
- ↑ https://www.bbc.com/news/world-europe-68310127
- ↑ https://edition.cnn.com/2021/07/22/europe/anders-breivik-july-22-attacks-norway-anniversary-cmd-intl/index.html
- ↑ https://snl.no/Brevik
- ↑ https://www.capradio.org/news/npr/story?storyid=159978667
- ↑ https://www.aljazeera.com/news/2024/2/15/norway-court-says-mass-killer-breiviks-prison-isolation-not-inhumane
- ↑ https://www.reuters.com/world/europe/mass-killer-breivik-loses-norway-human-rights-case-2024-02-15/
- ↑ https://www.jstor.org/stable/27030880
- ↑ https://www.thehindu.com/news/national/norwegian-mass-killers-manifesto-hails-hindutva/article2293829.ece
- ↑ https://countercurrents.org/2019/04/from-christchurch-to-india-how-indias-rss-inspires-white-nationalist-violence/
- ↑ Ingrid Melle۔ "The Breivik case and what psychiatrists can learn from it"۔ PubMed Central۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-16
- ↑ https://timesofindia.indiatimes.com/india/norway-killers-pro-hindutva-rant-has-sangh-squirming/articleshow/9376574.cms
- ↑ https://www.imdb.com/title/tt7280898/reviews/
- ↑ https://onlinelibrary.wiley.com/doi/10.1111/hith.12329
مزید پڑھیے
[ترمیم]- Borchgrevink, Aage Storm, and Guy Puzey. A Norwegian Tragedy: Anders Behring Breivik and the Massacre on Utøya. 2013. ISBN 978-0745672205 (translated from the Norwegian)
- Seierstad, Åsne, and Sarah Death. One of us: the story of Anders Breivik and the massacre in Norway. New York: Farrar, Straus & Giroux, 2015. ISBN 978-0374277895 (translated from the Norwegian)
- Turrettini, Unni, and Kathleen M. Puckett. The Mystery of the Lone Wolf Killer: Anders Behring Breivik and the Threat of Terror in Plain Sight. New York: Pegasus Crime, 2015. ISBN 978-1605989105
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ذخائر پر 2011 Norway attacks سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |
- Stor eksplosjon i Oslo sentrum, Aftenposten, News report in Norwegian, with pictures.
- Allvarligt bombattentat skakar Oslo, Sveriges Radio, News report in Swedish, with pictures.
- Norway – Breivik Attacks, July 2011 collected news and commentary at نیو یارک ٹائمز
- Victims from the attacks in Oslo and at Utøya (Norwegian Broadcasting Corporation)
- Oslo Terrorist Attacks – Terrorism with a different face, in a different place
- Rapport fra 22. juli-kommisjonen (Official report)
- Kjetil Alstadheim. https://www.aftenposten.no/meninger/kommentar/i/V9yBAl/noe-gikk-galt-paa-stortinget-etter-22-juli [Something went wrong in Parliament, after the 22 July (attack)]. 27 August 2022. Aftenposten.no
تصاویر / سلائڈ شو
[ترمیم]- Deadly Attacks In Norway – slideshow by این پی آر
- 2011ء میں خون ریزیاں
- 2011ء میں یورپ میں دہشت گرد واقعات
- اوسلو میں 2010ء کی دہائی
- اوسلو میں جرم
- لیبر پارٹی (ناروے)
- ناروے میں آتشیں اسلحہ سے اموات
- ناروے میں خون ریزیاں
- ناروے میں کار اور ٹرک دھماکے
- دھماکے
- ناروے میں دھماکے
- یورپ میں 2011ء کے قتل
- ناروے میں دہشت گردی کے واقعات
- بمباری
- کار اور ٹرک دھماکے
- فلم شدہ وفیات
- 2011ء میں ناروے
- اسلاموفوبیا
- مسلمانوں پر مظالم
- 2011ء میں دہشت گردی
- ناروے میں دہشت گردی
- بوسکرود
- نو فسطائی دہشت گرد واقعات
- ضد اسلام
- 2011ء کے تنازعات
- 2011ء کے جرائم
- قتل
- ناروے میں اکیسویں صدی
- 2011ء میں سیاست
- یورپ میں 2011ء
- جولائی 2011ء کی سرگرمیاں
- 2010ء کی دہائی میں قتل عام
- 2011ء میں قتل