ناروے پر جرمنی کا قبضہ

دوسری جنگ عظیم کے دوران ناروے پر جرمنی نے قبضہ (انگریزی: German occupation of Norway) کر لیا تھا۔ جرمنی نے یہ قبضہ فوجی حملہ کر کے زبردستی ناروے کو شکست دیتے یوئے کیا تھا۔ یہ حملہ 9 اپریل 1940ء کو شروع ہوا تھا، جب نازی جرمنی کی فوج نے "آپریشن ویسر ایوبُنگ" (Operation Weserübung) کے تحت ناروے اور ڈنمارک پر ایک ساتھ حملہ کیا۔
جرمنوں نے فوجی نفطۂ نظر سے (حکمتِ عملی کی رو سے) ناروے کو خاص طور پر اہم سمجھا، کیونکہ ناروے کا جغرافیائی محلِ وقوع شمالی بحرِ اوقیانوس (North Atlantic Ocean) اور سویڈن سے لوہے کی معدنیات (Iron Ore) کی بر آمدی راہوں پر کنٹرول حاصل کرنے کے لیے بہت فائدہ مند تھا۔
ناروے کی فوج اور برطانوی اتحادیوں نے ابتدائی مراحل میں مزاحمت کرنے کی کوشش کی، لیکن جرمن فوج کی منظم منصوبہ بندی اور تکنیکی برتری کے سامنے وہ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکے۔ اس طرح صرف چند ہی ہفتوں میں ناروے کے زیادہ تر حصے پر جرمنوں کا قبضہ قائم ہو گیا۔
اس کے بعد ناروے میں ایک کٹھ پتلی حکومت (puppet government) قائم کی گئی، جس میں وڈکُن کوئسلنگ (Vidkun Quisling) کو ایک مرکزی کردار دیا گیا، جو جرمن حامی تھے۔
یہ جرمن قبضہ 8 مئی 1945ء تک جاری رہا، جب یورپ میں نازی جرمنی کو شکست ہوئی اور اس نے باقاعدہ طور پر ہتھیار ڈال دیے۔ اس دن کو ناروے میں "یومِ آزادی" (Freedom Day) کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
نازی حکومت کے دوران ناروے کے عوام کو سخت جبر، سنسرشپ اور یہودیوں و دیگر اقلیتوں پر مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ اس کے باوجود پورے قبضے کے دوران ناروے میں ایک مضبوط مزاحمتی تحریک (Resistance Movement) سرگرم رہی، جس نے جرمنوں کے خلاف خفیہ کارروائیوں اور توڑ پھوڑ یا تخریبی (Sabotage) مہمات کا ایک ان تھک اور بے روک ٹوک سلسلہ جاری رکھا۔
قبضہ اس قدر جبر اور انتہائ رتق و فتق پر مبنی پانچ سال تک جاری تھا کہ اس کی وجہ سے ظلم و ستم کے قبضے نے ناروے کی تاریخ میں گہرے نفسیاتی، سماجی زخم اور ذلت کے نقوش چھوڑے۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ثابت ہوا کہ ایک پُر عزم ملک کے باشندوں میں آزادی کے لیے لڑنے کا جذبہ کس قدر پختہ اور غیر متزلزل ہو سکتا ہے — اور آخرکار فتح اسی جذبے کی ہوتی ہے، جیسا کہ دنیا کے دیگر جدوجہد کرنے والے ممالک نے بھی وقتاً فوقتاً تجربہ کیا۔[1] [2] [3] [4] [5] [6]
حملہ — آپریشن ویسر ایوبُنگ (Operation Weserübung)
[ترمیم]جرمنی کی جانب سے ناروے اور ڈنمارک پر مشترکہ فوجی حملے کا آغاز 9 اپریل 1940 کو ہوا، جو عسکری تاریخ میں "آپریشن ویسر ایوبُنگ" (Operation Weserübung) کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یہ حملہ نازی جرمنی کی ایک انتہائی اہم اور دور اندیش حکمت عملی کا حصہ تھا، جس کا مقصد شمالی یورپ میں اپنا تسلط قائم کرنا اور برطانیہ کو سمندری راستوں سے الگ - تھلگ کرنا تھا تاکہ اس کی رسد اور حمل و نقل میں خلل ڈالا جا سکے۔
اس آپریشن میں جرمنی نے بہ یک وقت ڈنمارک اور ناروے دونوں پر حملہ کیا، جس نے اتحادی افواج (مغربی طاقتوں) کو ایک دم حیران اور پریشان کر دیا۔
- ڈنمارک کی جانب سے فوری ہتھیار ڈال دیا جاتا: سب سے پہلے ڈنمارک جرمن فوجی دباؤ اور اپنے شہریوں کی جان و مال کی حفاظت کے پیشِ نظر محض چند گھنٹوں میں بغیر کسی بڑی مزاحمت کے ہتھیار ڈالنے پر مجبور ہو گیا۔ اس سے جرمن افواج کے حوصلے مزید بلند ہو گئے اور انھی حوصلوں کے بل بوتے پر وہ اور آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے۔
- ناروے کی دلیرانہ مزاحمت: ڈنمارک کی عدم مزاحمتی موقف اور چپ چاپ ہتھیار ڈال دیے جاتے کے بر عکس ناروے نے جرمنی کی توقعات پر پانی پھیرتے ہوئے انتہائی دلیرانہ مزاحمت کی اور تقریباً دو ماہ تک جرمن افواج کے خلاف لڑائی جاری رکھی۔ ناروے کی فوج نے کئی محاذوں پر بہادری سے جنگ لڑی اور انھیں برطانیہ اور فرانس جیسے اتحادی ممالک کی مدد بھی حاصل ہوئی۔ برطانوی اور فرانسیسی افواج نے فوجی امداد، ہتھیار اور دیگر وسائل فراہم کرنے کی بھرپور کوشش کی، جس کی وجہ سے جرمنی کو شدید مزاحمت اور اگلے چند برسوں میں زبردست عوامی جدوجہد (resistance) کا سامنا کرنا پڑا۔
- جرمن افواج کی کامیابی: اس سب کے باوجود جرمن فوج کی زبردست تنظیمی صلاحیت، فضائی طاقت (Air Power) اور پہلے سے کی گئی اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کے باعث ناروے کے بڑے شہروں اور بندرگاہوں پر بتدریج قبضہ ہوتا چلا گیا۔ اس کا منفی نتیجہ یہ نکلا کہ بالآخر تمام تر جدوجہد اور قربانیوں کے باوجود ناروے کو مئ 1940ء کے اواخر تک جرمن تسلط قبول کرنا پڑا۔
- نتیجہ اور اثرات: یہ حملہ نہ صرف نازی جرمنی کی ایک بڑی فوجی کامیابی کے طور پر دیکھا گیا، بلکہ اس نے یہ بھی ظاہر کر دیا کہ یورپ میں جنگ اب ایک شدید، منظم اور وسیع تر محاذ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ یہ واقعہ اس بات کی بھی علامت بنا کہ مختلف اقوام اب براہِ راست ایک دوسرے کے خلاف صف آرا ہو چکی تھیں اور عالمی سطح پر محاذ آرائی کے اثرات مزید گہرے ہوتے جا رہے تھے۔ یہ انتہائی نبرد آزمائی ہی دوسری جنگ عظیم کا سبب اور اس کی محرکات میں ایک اہم اور ناقابل انکار عُنصر رہی تھی۔[7] [8][9]
ناروے کا ردِ عمل
[ترمیم]جب جرمنی نے ناروے پر قبضہ جما کر اپنی حکمرانی قائم کرنے کی کوشش کی تو ناروے کے بادشاہ ہاکون ہفتم (Haakon VII) اور ان کے تخت کے نیچے قائم ہونے والی جمہوری حکومت نے واضح طور پر ہتھیار ڈالنے سے انکار کر دیا۔ انھوں نے نہ صرف نازی حکومت کو جائز تسلیم کرنے سے انکار کیا بلکہ خود کو قوم کے سامنے آزادی اور جمہوریت کے اصولوں کے محافظ کے طور پر پیش کیا۔[10]
جب صورت حال انتہائی نازک ہو گئی اور دار الحکومت اوسلو پر جرمن افواج نے قبضہ کر لیا، تو بادشاہ ہاکون اور ان کی حکومت برطانیہ روانہ ہو گئے۔ وہاں لندن میں انھوں نے جلاوطنی کی حالت میں ایک متبادل ناروے کی حکومت قائم کی جسے دنیا بھر میں "حکومت برائے آزادی" کے طور پر تسلیم کیا گیا۔
یہ جلاوطن حکومت نہ صرف ایک علامتی قوت بنی، بلکہ عملی طور پر ناروے کے عوام کے لیے آزادی کی امید کا مرکز بھی بن گئی۔ برطانیہ اور اس کے اتحادیوں نے اس حکومت کو مکمل سیاسی اور سفارتی حمایت فراہم کی اور اسے ناروے کی جائز نمائندہ حکومت کے طور پر قبول کیا۔
اندرونِ ملک مزاحمتی تحریک (Resistance Movement)
[ترمیم]دوسری جانب، ناروے کے اندر بھی مزاحمتی تحریک نے آہستہ آہستہ زور پکڑنا شروع کیا۔ جرمن قبضے کے باوجود، فوج کے بچے کھچے اہلکار، عام شہری، طلبہ، اساتذہ، حتیٰ کہ کچھ سرکاری ملازمین بھی زیرِ زمین منظم ہو گئے اور خفیہ مزاحمتی تنظیموں (Underground Resistance Movements) کی بنیاد رکھی۔
ان تنظیموں نے نازی پروپیگنڈے کے خلاف سچائی پھیلانے کے لیے خفیہ اخبارات، پمفلٹس اور ریڈیو نشریات کا سہارا لیا۔ اس کے ساتھ ساتھ، ریلوے لائنوں کو نقصان پہنچانا، جرمن فوجی قافلوں پر حملے کرنا اور دیگر تخریبی سرگرمیاں (Sabotage) ان کی مزاحمت کا اہم حصہ تھیں۔[11] [12]
خواتین اور نوجوانوں کا کردار
[ترمیم]ان مزاحمتی تحریکوں میں خواتین اور نوجوانوں کی شرکت خاص طور پر قابلِ ذکر تھی۔ ان میں سے بہت سی خواتین نے خفیہ معلومات منتقل کرنے، زخمی فوجیوں کی دیکھ بھال کرنے اور پیغامات پہنچانے جیسے خطرناک کاموں میں حصہ لیا۔ ان کا کردار پسِ پردہ رہ کر بھی نہایت کلیدی رہا اور انھوں نے مزاحمت کے اس نیٹ ورک کو مضبوط رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔[13]
آزادی کی جدوجہد کا جذبہ
[ترمیم]اس عوامی سطح پر منظم اور پُرعزم مزاحمت نے نہ صرف جرمن قبضے کو چیلنج کیا، بلکہ یہ بھی ثابت کر دیا کہ ایک چھوٹا سا ملک بھی اگر اپنی آزادی کے لیے متحد ہو جائے تو وہ دنیا کی سب سے طاقت ور افواج کے خلاف بھی آواز بلند کر سکتا ہے۔[14]
یہ تحریک اس بات کی جیتی جاگتی مثال بنی کہ جب قوموں کے دلوں میں جمہوریت، آزادی اور خود مختاری کی سچی لگن ہو، تو کوئی ظلم انھیں دیرپا غلام نہیں رکھ سکتا۔
قبضہ اور مزاحمت
[ترمیم]- جیسا کہ اوپر بیان کیا گیا ہے، جرمنی نے ناروے پر قبضے کے بعد وڈکُن کوئسلنگ (Vidkun Quisling) کی قیادت میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم کی، جو مکمل طور پر نازی جرمنی کے زیرِ اثر تھی۔ وڈکُن کوئسلنگ کا نام بعد ازاں "غداری" اور "قوم فروشی" کی علامت بن گیا اور آج بھی دنیا بھر میں اس کا نام "قوم سے غداری" کے مترادف سمجھا جاتا ہے۔[15]
</ref>
- تاہم جس طرح ہر نام بہاد کٹھ پتلی حکومت کے ساتھ ہوتا ہے، اصل اقتدار جرمن نمائندے "یوزف ٹیر بوؤن" (Josef Terboven) کے ہاتھ میں تھا، جو نازی حکومت کا براہِ راست نمائندہ تھا اور ناروے میں نازی پالیسیوں کو سختی سے نافذ کر رہا تھا۔ ایسے میں وڈکُن کوئسلنگ کوئی رفاہی یا عوام میں مقبولیت والا کوئی کام کر ہی نہیں سکتے تھے۔ یوزف نے نہ صرف تمام اہم اداروں کو کنٹرول کیا بلکہ ناپسندیدہ عناصر کو ظلم و ستم کا نشانہ بنایا، جس سے مزاحمتی تحریک کو اور ہوا ملی اور کئی اور لوگ اس میں شامل ہوئے۔[16]
ناروے کی مزاحمتی تحریک
[ترمیم]ناروے کی عوام نے جرمن قبضے کے خلاف منظم مزاحمت (Resistance Movement) شروع کی، جو آہستہ آہستہ ایک طاقتور زیرِ زمین تحریک بن گئی۔ یہ مزاحمت کئی محاذوں پر جاری رہی، جن میں حسب ذیل شامل تھے:
- تخریب کاری (Sabotage): جرمن تنصیبات، ریل نیٹ ورک اور سپلائی لائنوں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس طرح آنے جانے اور اشیا کے حمل و نقل بری طرح متاثر ہوتے رہے۔ [17]
- خفیہ اطلاعات کا تبادلہ: جرمن افواج کی نقل و حرکت اور دیگر اہم معلومات اتحادی افواج تک پہنچائی جاتیں تھیں اور اس کام میں عام شہری حتی کہ خواتین اور کم عمر بچے بھی شامل ہوتے۔
- خفیہ اخبارات کی اشاعت: عوام کو سچائی سے باخبر رکھنے کے لیے جرمن سنسرشپ کے باوجود خفیہ رسائل، ورقیے اور خبریں شائع کی گئیں۔[18]
سب سے مشہور مزاحمتی کارروائی
[ترمیم]- ان میں سب سے مشہور اور انتہائی اہم کارروائی "ویمورک ہیوی واٹر پلانٹ" (Vemork Heavy Water Plant) پر حملہ تھی۔ اس پلانٹ کو نازی جرمنی کے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام کے لیے کلیدی حیثیت حاصل تھی۔[19]
- ناروے کے بہادر مزاحمت کاروں نے بے مثال جرأت، چالاکی اور جذبہ حب الوطنی کے ساتھ اس تنصیب پر کامیاب حملہ کر کے نازیوں کے ایٹمی عزائم کو زبردست دھچکا پہنچایا۔ یہ کارروائی بعد میں یہ جگہ نہ صرف جنگ کی تاریخ میں یادگار بنی بلکہ کئی فلموں اور ڈاکیومنٹریز میں بھی پیش کی گئی۔
- اتحادی افواج اور ناروے کی جلاوطن حکومت کی کوششیں: ناروے کی بحریہ، فضائیہ اور تجارتی جہازوں کا بیڑا، جو جلاوطنی کے دوران برطانیہ پہنچ چکا تھا، اتحادی افواج کے ساتھ شامل ہو گیا۔ یہ افواج نہ صرف فوجی کارروائیوں میں حصہ لے رہی تھیں بلکہ خفیہ مشنز میں بھی بھرپور مدد فراہم کرتی رہیں۔[20]
ناروے کا تجارتی جہاز رانی کا بیڑا — جو اُس وقت دنیا کے سب سے بڑے بحری بیڑوں میں شمار ہوتا تھا — اتحادی ممالک کے لیے رسد، ایندھن اور اسلحہ کی فراہمی میں نہایت اہم کردار ادا کرتا رہا۔ اس بیڑے نے نازیوں کے خلاف جاری جنگ میں پسِ پردہ ایک ریڑھ کی ہڈی کا کردار ادا کیا۔
قبضے کا خاتمہ
[ترمیم]8 مئی 1945ء کو جرمنی کے ہتھیار ڈالنے کے ساتھ ہی ناروے پر قبضہ ختم ہو گیا۔ بادشاہ ہاکون 7 جون 1945 کو ناروے واپس لوٹے — بالکل پانچ سال کی تکمیل کے بعد اُسی دن جب وہ ملک چھوڑ کر جلاوطن ہوئے تھے۔ [21][22]
خلاصہ
[ترمیم]دوسری جنگ عظیم کے دوران جرمنی نے 9 اپریل 1940 کو "آپریشن ویسر ایوبُنگ" کے تحت ناروے پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا۔ یہ حملہ اس لیے کیا گیا تاکہ جرمنی شمالی بحرِ اوقیانوس کے راستوں اور سویڈن سے آنے والی لوہے کی برآمدات پر کنٹرول حاصل کر سکے۔ اگرچہ ناروے نے برطانیہ اور فرانس کی مدد سے مزاحمت کی، مگر جرمن فوج کی بہتر منصوبہ بندی اور فضائی طاقت کے باعث جلد ہی بیشتر علاقہ ان کے قبضے میں آ گیا۔ اس دوران وڈکن کوئسلنگ کی قیادت میں ایک کٹھ پتلی حکومت قائم ہوئی، جبکہ بادشاہ ہاکون ہفتم اور ان کی حکومت برطانیہ منتقل ہو گئی اور جلاوطنی میں "حکومتِ آزادی" قائم کی۔ ناروے میں زیرِ زمین مزاحمتی تحریک سرگرم رہی، جس نے خفیہ کارروائیوں، تخریب کاری اور ویمورک ہیوی واٹر پلانٹ جیسے اہم حملوں سے جرمنوں کو نقصان پہنچایا۔ خواتین اور نوجوانوں نے بھی اس تحریک میں اہم کردار ادا کیا۔ بالآخر 8 مئی 1945 کو جرمنی کی شکست کے ساتھ ناروے آزاد ہوا اور بادشاہ ہاکون 7 جون کو وطن واپس لوٹے۔ یہ دور ناروے کی تاریخ میں ایک کربناک مگر عزم سے بھرپور باب کے طور پر یاد کیا جاتا ہے۔
مزید دیکھیے
[ترمیم]
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ https://knowledgesthali.com/द्वितीय-विश्व-युद्ध-second-world-war/
- ↑ "آرکائیو کاپی"۔ 2025-04-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-14
- ↑ "آرکائیو کاپی"۔ 2017-07-02 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-14
- ↑ https://www.history.com/this-day-in-history/april-9/germany-invades-norway-and-denmark
- ↑ https://www.usni.org/magazines/proceedings/1952/april/invasion-norway
- ↑ https://www.iwm.org.uk/history/how-neutral-norway-fell-to-the-german-blitzkrieg-in-1940
- ↑ https://warfarehistorynetwork.com/article/operation-weseruebung-the-german-invasion-of-norway-denmark/
- ↑ https://danmarkshistorien.lex.dk/Operation_Weser%C3%BCbung,_april_1940
- ↑ https://news-pravda.com/world/2025/04/09/1224140.html
- ↑ https://www.britannica.com/place/Norway/World-War-II
- ↑ https://www.britannica.com/event/World-War-II/The-invasion-of-Norway
- ↑ https://encyclopedia.ushmm.org/content/en/article/norway
- ↑ https://kjonnsforskning.no/en/2015/08/punished-without-trial-sleeping-germans-during-war
- ↑ https://www.pbs.org/wgbh/nova/hydro/resistance.html
- ↑ <ref>https://hi.celeb-true.com/vidkun-quisling-norwegian-army-official-politician-supported-hitler
- ↑ https://www.iwm.org.uk/collections/item/object/205043689
- ↑ "آرکائیو کاپی"۔ 2025-04-14 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2025-04-14
- ↑ https://www.jstor.org/stable/j.ctt1w6tc4r
- ↑ https://www.nia.no/en/vemork/experiences/the-heavy-water-cellar/
- ↑ https://www.tandfonline.com/doi/pdf/10.1080/03468758708579124
- ↑ https://www.samanyagyan.com/hindi/year-1945-in-history
- ↑ https://philoid.com/ncert/chapter/lhps101
کتابیات
[ترمیم]- Boyne, Walter J. The Aircraft Treasures of Silver Hill: The Behind-The-Scenes Workshop of Our Nation's Air Museums. New York: Rawson Associates, 1982. ISBN 978-0-89256-216-9.
- Hein A. M. Klemann & Sergei Kudryashov (2011)۔ Occupied Economies: An Economic History of Nazi-Occupied Europe, 1939–1945۔ London: Berg۔ ص 403۔ ISBN:978-1-84520-482-2
مزید پڑھیے
[ترمیم]- Johs Andenaes؛ O. Riste؛ M. Skodvin (1966)۔ Norway and the Second World War۔ Oslo: Grundt Tanum
{{حوالہ کتاب}}: نامعلوم پیرامیٹر|مصنفین کی نماش=رد کیا گیا (معاونت) - Hans Fredrik Dahl (1999)۔ Quisling: A Study in Treachery۔ New York: Cambridge University Press۔ ISBN:0-521-49697-7
- Erik J. Friis (1965)۔ "The Norwegian Government-In-Exile, 1940–45"۔ Scandinavian Studies. Essays Presented to Dr. Henry Goddard Leach on the Occasion of his Eighty-fifth Birthday۔ Seattle: University of Washington Press۔ ص 422–444
- Ian Herrington (2004)۔ The Special Operations Executive in Norway 1940–1945: Policy and Operations in the Strategid and Political Context (PhD thesis)۔ De Montfort University, Leicester۔ hdl:2086/2421
- Francois Kersaudy (1998)۔ Norway 1940۔ Lincoln: University of Nebraska Press۔ ISBN:0-8032-7787-3
- Chris Mann (2012)۔ British Policy and Strategy Towards Norway, 1941–45۔ Basingstoke: Palgrave Macmillan۔ ISBN:978-0-230-21022-6
- Olav Riste & Berit Nøkleby (1970)۔ Norway 1940–45: The Resistance Movement۔ Oslo: Grundt Tanum
- Paul Gerhardt Vigness (1970)۔ The German Occupation of Norway۔ New York: Vantage Press
- Earl F. Ziemke (2000) [1960]۔ "The German Decision to Invade Norway and Denmark"۔ در Kent Roberts Greenfield (مرتب)۔ Command Decisions۔ United States Army Center of Military History۔ CMH Pub 70-7۔ 2007-12-30 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2010-06-18
بیرونی روابط
[ترمیم]| ویکی ماخذ میں ناروے پر جرمنی کا قبضہ سے متعلق وسیط موجود ہے۔ |
| ویکی ذخائر پر ناروے پر جرمنی کا قبضہ سے متعلق سمعی و بصری مواد ملاحظہ کریں۔ |