ناصر الدین للہی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

خواجہ حافظ ناصر الدین للہی سلسلہ چشتیہ کے والی کامل تھے۔ آپ خواجہ اللہ بخش تونسوی کے خلیفہ خاص تھے۔

حافظ ناصر الدین للہی
ذاتی
پیدائش(1270ھ بمطابق 1853ء)
وفات(1334ھ بمطابق 1915ء)
مذہباسلام
والدین
سلسلہچشتیہ
مرتبہ
مقام للہ شریف تحصیل پنڈ دادنخان جہلم
پیشروفیض بخش للہی ، خواجہ اللہ بخش تونسوی
جانشینفضل حسین للہی

ولادت[ترمیم]

خواجہ حافظ ناصر الدین للہی کی ولادت 1270ھ بمطابق 1853ء میں خواجہ فیض بخش للہی چشتی نظامی کے گھر للہ شریف تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں ہوئی۔ آپ کی ولادت کے فورا بعد آپ کے والد گرامی خواجہ فیض بخش للہی نے آپ کی ولایت کی بشارت دے دی گی۔

سلسلہ نسب[ترمیم]

خواجہ حافظ ناصر الدین للہی کا سلسلہ نسب حضرت تمیم انصاری تک کچھ یوں ہے۔

  • ناصر الدین [1] بن فیض بخش بن عبدالحفيظ بن محمد اعظم بن مولانا کلیم اللہ بن الله جوايا بن محمد اسماعیل بن محمد دین بن علاؤ الدین بن سانسرا بن سادا بن چیلا بن خضر بن مینو بن کالا بن شیہان جہجن بن محمد مقیم بن واگھر بن اللہ بزرگ بن ذوعلم بن طاقی بن عمر بن رطب بن عبد اللہ بن نذر بن طاقی بن رطب بن عبد اللہ بن نذر بن حارث بن عبدالرحمن بن کلیہ بن سامع بن عصمت بن محر بن نوفل بن محرم بن موسی بن حرب بن طاقی بن حضرت تمیم انصاری رضی الله تعالی عنہ [2]

تعلیم[ترمیم]

ناصر الدین للہی نے ابتدائی تعلیم اپنے گھر میں ہی حاصل کی۔ آپ نے قرآن مجید حفظ کرنے کے بعد کتب متداولہ اپنے ماموں خواجہ الہی بخش کنڈلوی اور مولوی شمس الدین کڈلوی کے سامنے زانوے تلمذ طے کر کے مکمل کی اور سند فراغت حاصل کی۔

بیعت و خلافت[ترمیم]

خواجہ ناصر الدین للہی نے بیعت کا شرف خواجہ اللہ بخش تونشوی سے حاصل کیا۔ آپ کو اللہ بخش تونسوی نے خرقہ خلافت عطا کر کے فیض بخش للہی کا جانشین نامزد کیا۔

سیرت و کردار[ترمیم]

خواجہ ناصر الدین للہی انتہائی حلیم الطبع، منکسر المزاج اور ہر دلعزیز بزرگ تھے۔ آپ اکثر اوقات مراقب رہتے تھے۔ آپ پر جب عشق الہی کا غلبہ ہوتا تو فقیر احمد بخش اور میاں ابراہیم سے مولانا جامی کی غزلیات سنتے تھے۔ اولیاء اللہ کے تذکروں کی کتاب نفات الانس تالیف علامہ عبد الرحمن جامی اکثر اوقات آپ کے مطالعہ میں رہتی تھی۔ آپ کو اپنے مرشد کامل خواجہ اللہ بخش تونسوی سے انتہائی درجہ کا عشق اور پیار تھا۔ آخر عمر تک ہر سال تونسہ شریف میں حاضر ہوتے رہتے تھے۔ آپ نماز پنجگانہ، تہجد اور دیگر نوافل کا خصوصیت سے اہتمام فرماتے تھے۔ آپ حسن اخلاق میں اپنی مثال آپ ہی تھے۔ سخاوت آپ کا شعارھا۔

معاصرین[ترمیم]

خواجہ حافظ ناصر الدین للہی کے اپنے معاصرین سے خصوصی تعلقات تھے۔ آپ کے ہمصر مشائخ عظام میں سے شیخ غلام حسین قادری بھلوالی، سید نواب شاہ قادری بھرتوی، سید حیات شاہ ساکن علاول خلیفہ خواجہ شمس الدین سیالوی کے ساتھ خصوصی تعلقات تھے۔

وصال[ترمیم]

خواجہ ناصر الدین للہی کا وصال 1334ھ بمطابق 1915ء کو للہ شریف میں ہوا۔ آپ کا مزار موضع للہ شریف تحصیل پنڈ دادنخان ضلع جہلم میں مرجع خاص و عام ہے۔

اولاد[ترمیم]

خواجہ حافظ ناصر الدین للہی کی اولاد میں دو صاحبزادے شامل تھے جن کے نام یہ ہیں۔

  1. مولانا فضل الدین للہی (سجادہ نشین)
  2. مولانا محمد عثمان للہی [3]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 598
  2. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 592
  3. تذکرہ اولیائے پوٹھوہار مولف مقصود احمد صابری صفحہ 597 تا 599