ناطق گلاؤٹھوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search


ناطق گلاؤٹھوی
معلومات شخصیت
پیدائش 11 نومبر 1886  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
کامٹی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات 27 مئی 1969 (83 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
ناگپور  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
پیشہ ورانہ زبان اردو  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں زبانیں (P1412) ویکی ڈیٹا پر

ناطق گلاؤٹھوی (پیدائش: 11 نومبر 1886ء — وفات: 27 مئی 1969ء) اردو زبان کے ایک شاعر اور مشہور اردو شاعر داغ دہلوی کے شاگرد تھے۔

سوانح[ترمیم]

ناطق 11 نومبر 1886ء کو کامٹی میں پیدا ہوئے۔ اصل نام سیدابوالحسن تھا مگر ناطق گلاؤٹھوی کے نام سے شہرت پائی۔ ناگپور شہر میں ناطق کے آباؤ اجداد آباد تھے۔ اِن کے بزرگ احمد شاہ ابدالی کے ساتھ ہندوستان آئے تھے۔ ناطق کے دادا سید غلام غوث وکالت کے پیشے سے وابستہ تھے اور اِسی سلسلے میں مدتوں میرٹھ میں مقیم رہے۔ پھر خانداان نے گلاؤٹھی، ضلع میرٹھ میں سکونت اِختیار کرلی اور یہاں اِس خاندان کی کافی بڑی جائداد اور زمینداری تھی۔ ناطق کے والد سید ظہورالدین نے تجارت کو بطور پیشے کے اپنایا۔ وہ وسیع پیمانے پر لکڑی کا کاروبار کرتے تھے۔ اِسی سلسلے میں وہ کامٹی میں سکونت پزیر تھے کہ ناطق کی پیدائش ہوئی۔ ناطق کے والد سید ظہورالدین کا انتقال 1905ء میں ہوا۔[1]

تعلیم[ترمیم]

ناطق کی تعلیم اُس زمانے کے مطابق گھر پر ہی ہوئی۔ قدرتاً فارسی زبان اور عربی زبان پر خاص توجہ رہی۔ اُنہوں نے دونوں زبانوں کی تکمیل دار العلوم دیوبند میں کی۔آخری دورۂ حدیث شیخ الہند مولانا محمودالحسن دہلوی سے پڑھا۔ وہیں طب بھی اُن کے برخوردار حکیم احمد حسن عرف حکیم بڈن سے حاصل کی۔ بعد ازاں ناطق روزمرہ کے کام کاج کے لیے انگریزی زبان سے بھی اپنے طور پر واقفیت حاصل کرتے رہے۔

سخن گوئی[ترمیم]

ناطق نے خالہ زاد بھائی سید معشوق حسین اطہرہاپوڑی کے مشورے سے سخن گوئی کا آغاز کیا مگر اُن سے صلاح و مشورہ نہیں لیا۔ شعرگوئی کے لیے ناطق نے بیان ویزدانی مرحوم (متوفی 1900ء) کی شاعری کا انتخاب کیا جو اُساتذہ وقت میں درجہ خاص کے استاد تھے، لیکن چند ماہ بعد ہی وہ انتقال کرگئے۔ اِسی زمانے میں امیر مینائی بھی فوت ہو گئے۔ اتفاق سے ناطق کو داغ دہلوی کے دو دِیوان گلزارِ داغ اور آفتابِ داغ ہاتھ لگے۔ اُنہیں دیکھا تو یہ داغ دہلوی کے ایسے گرویدہ ہوئے کہ تھوڑے ہی دِنوں میں داغ دہلوی سے خط کتابت کے ذریعہ سے تلمذ اختیار کر لیا۔ بعض اصحاب نے اُنہیں جلال لکھنوی کی شاگردی اختیار کرنے کا مشورہ دیا مگر وہ داغ دہلوی کی بجائے کسی کے شاگرد نہ ہوئے۔ناطق نے مشق سخن، غور و فکر سے خود درجہ اُستادی حاصل کر لیا۔

وفات[ترمیم]

ناطق کی اواخر عمر کسمپرسی میں گزری۔ اولاد میں چھ بچے ہوئے، تین بیٹیاں اور تین بیٹے مگر سب ناطق کی زندگی میں ہی چل بسے۔ چار بچے تو کمسنی میں ہی فوت ہو گئے تھے۔ ایک لڑکا اور ایک بیٹی گھربار والے ہوکر دنیا سے رخصت ہوئے۔ صدمات ذہنی و جسمانی نے اُنہیں کہیں کا نہ چھوڑا، چھ مہینے تک بستر پر پڑے پڑے ہڈیوں کا ڈھانچہ بن گئے تھے۔ اعضا بیکار ہو گئے اور حافظہ رخصت ہو گیا۔ نقل و حرکت تک معذور ہوچکے تھے۔ سلسل البول کا مرض لاحق ہوا اور حبس بول کے مرض کی شکایت پیدا ہو گئی۔ علاج کے لیے اسپتال داخل کروایا گیا۔ جب افاقہ ہوا تو گھر پر آگئے۔ گھر پر علاج جاری رہا مگر کمزور ہو گئے تھے ۔26 مئی 1969ء کی شام حالت تشویشناک ہو گئی اور زبان بند ہو گئی۔ نصف شب کے وقت آخری ہچکی لی اور دنیا سے رخصت ہو گئے۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 117/118۔ مطبوعہ دہلی
  2. مالک رام: تذکرہ معاصرین، جلد 1، صفحہ 120۔ مطبوعہ دہلی