نافع بن کاؤس

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نافع بن کاؤس
(عربی میں: نافع مولى ابن عمر ویکی ڈیٹا پر (P1559) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
 

معلومات شخصیت
مقام پیدائش مدینہ منورہ   ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
وفات سنہ 736ء [1]  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
مدینہ منورہ   ویکی ڈیٹا پر (P20) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت سلطنت امویہ   ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
استاد عبد اللہ بن عمر   ویکی ڈیٹا پر (P1066) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
نمایاں شاگرد مالک بن انس [1][2]،  ایوب سختیانی ،  مالک بن مغول   ویکی ڈیٹا پر (P802) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ فقیہ ،  محدث   ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شعبۂ عمل فقہ ،  علم حدیث   ویکی ڈیٹا پر (P101) کی خاصیت میں تبدیلی کریں


نافع بن کاؤسؒ مشہور تابعین میں سے ہیں۔آپ نے 117ھ میں وفات پائی ۔

نام ونسب[ترمیم]

نافع نام، ابو عبد اللہ کنیت والد کا نام کاؤس یا ہرمز تھا،جیسا کہ ان کے نام سے ظاہر ہے کہ وہ عجمی النسل تھے، لیکن بعض روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ عرب تھے۔ جو صحیح نہیں ہے،ان کے عجمی ہونے پر قریب قریب سب کا اتفاق ہے، وطن بعض خراسان بعض ویلم، بعض جبال طالقان اور بعض کابل بتاتے ہیں، اس کا صحیح پتہ نہیں چلتاکہ نافع کس طرح ابن عمر کے پاس پہنچے، قیاس یہ ہے کہ کسی جنگ میں گرفتار ہوکر ان کے حصہ میں پڑے ہوں گے۔ یا ابن عمر نے ان کو خریدا ہوگا۔ مسلمانوں کی غلام نوازی کے طفیل میں ان کے غلام کمالات کے جن مدارج پر پہنچے نافع بھی ا س کی روشن ترین مثال تھے، مسلمانوں کے موالی کی علمی تاریخ میں نافع نہایت ممتاز درجہ رکھتے ہیں،اس دور میں کوئی غلام ان کے رتبہ کا نہ تھا، ابن عباس کے غلام عکرمہ بھی بڑے صاحب علم تھے؛لیکن ان کو بھی اہل مدینہ میں یہ درجہ حاصل نہ تھا، نافع ان سے زیادہ بلند مرتبت سمجھے جاتے تھے [3]اس لحاظ سے کہا جا سکتا ہے کہ اسلام میں غلاموں کی حقیقی تاریخ نافع ہی سے شروع ہوتی ہے۔

تعلیم[ترمیم]

خوش قسمتی سے نافع کو آغاز عمر ہی سے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ جیسے صاحب کمال بزرگ کی تربیت میسر آگئی تھی،انہی کے دامن میں ان کی نشو و نما ہوئی، نافع نے کامل تیس سال تک ابن عمرؓ کی خدمت کی۔ [4]

ان میں تحصیل علم کی فطری صلاحیت واستعداد تھی، شفیق آقا کی صحبت اور تربیت نے ان کے جوہر کو چمکا کر اقلیم علم کا تاج دار بنا دیا،ان کی علمی جلالت پر تمام علما اور اربابِ سیر کا اتفاق ہے،امام نووی لکھتے ہیں کہ وہ جلیل القدر تابعی تھے، ان کی توثیق وجلالت پر سب کا اتفاق ہے [5]خلیلی کا بیان ہے کہ نافع مدینہ کے ائمہ تابعین میں اور امام فی العلم تھے خود ابن عمرؓ کو اپنے اس نامور غلام کی ذات پر فخر تھا؛چنانچہ فرمایا کرتے تھے کہ خدا نے نافع کے ذریعہ سے ہم پر احسان کیا ہے۔ [6]

حدیث[ترمیم]

عبد اللہ بن عمرؓ حدیث کا بحر بے کراں تھے،نافع اسی بحر سے سیراب ہوتے تھے انھوں نے ان کی احادیث کا بڑا حصہ محفوظ کر لیا تھا [7]حافظ حدیث بنانے کے لیے تنہا ابن عمر رضی اللہ عنہ کی روایات کافی ہیں،نافع کی علمی تشنگی نے اس بحر بے کراں کے علاوہ دوسرے سرچشموں سے بھی اپنی پیاس بجھائی تھی،چنانچہ ابن عمرؓ کے علاوہ صحابہ میں ابوہریرہؓ، ابوسعید خدریؓ ، ابولبابہ بن منذر، رافع ابن خدیجؓ، ام المومنین عائشہ صدیقہؓ ، ام سلمہؓ اور ربیع بنت مسعودؓ سے اور تابعین میں اپنے آقا زادوں عبد اللہ، عبید اللہ، سالم اور زید اور قاسم بن محمد بن ابی بکر، منبہ بن وہب عدی، عبد اللہ بن محمد بن ابی بکر، عبد الرحمن بن حسین اور سعید بن ابی ہند وغیرہ سے استفادہ کیا تھا۔ [8]

ان بزرگوں کے فیض نے ان کو جماعت تابعین میں نہایت ممتاز حافظ حدیث بنادیا تھا،علامہ ابن سعد لکھتے ہیں کہ وہ ثقہ اورکثیر الحدیث تھے [9]حافظ ذہبی ان کو امام العلم لکھتے ہیں اوران کا شمار حفاظ کے طبقہ اول میں کرتے ہیں۔ [10] کیفیت کے اعتبار سے نافع کی روایات طلائے خالص کا حکم رکھتی ہیں، خلیلی کابیان ہے کہ نافع پر تمام اربابِ فن کا اتفاق ہے، وہ صحیح الروایہ ہیں بعض لوگ انھیں سالم پر بھی جن سے انھوں نے سماع حدیث کیا تھا،ترجیح دیتے تھے، بعض ان کے ہم پایہ سمجھتے تھے ان کی تمام روایات غلطیوں سے پاک ہیں۔ [11]

خصوصاً ابن عمر رضی اللہ عنہ سے ان کی روایات میں کسی شک وشبہ کا احتمال ہی نہیں تھا، امام مالک فرماتے تھے کہ جب میں ابن عمر کی حدیث نافع کی زبان سے سن لیتا ہوں تو پھر اس کی پروا نہیں کرتا کہ دوسرے کے بیان سے اس کی تصدیق ہوتی ہے یا نہیں [12] محدثین کے نزدیک مالک عن نافع ابن عمر کا سلسلۂ روایت سلسلۃ الذہب سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ [13]

تلامذہ[ترمیم]

حدیث میں نافع کے تلامذہ کا دائرہ نہایت وسیع تھا جس میں بڑے بڑے تابعی اور تبع تابعی ائمہ تھے،بعض ممتاز تلامذہ کے نام یہ ہیں، ابواسحٰق سبیعی ، حکیم بن عینیہ، محمد بن عجلان ، بکیر بن عبد اللہ بن اشج، یحییٰ انصاری، امام زہری، صالح بن کیسان، ایوب سختیانی، عبیداللہ بن عمر، حمید الطویل، میمون بن مہران، موسیٰ بن عقبہ، ابن عون اعمش، ابن جریج ، اوزاعی، لیث، یونس ابن عبید، ابن ابی ذیب، ابن ابی لیلی، ضحاک بن عثمان اور امام مالک وغیرہ۔ [14]

امام مالک ان کے خاص تلامذہ میں تھے،انھوں نے زیادہ فیض ان ہی سے پایا تھا بچپن سے نافع کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے،ان کا خود بیان ہے کہ میں بچپن میں جب بہت کم سن تھا، نافع کی خدمت میں جاتا تھا،میرے ساتھ ایک غلام ہوتا تھا،نافع اتر کر مجھ سے حدیثیں بیان کرتے تھے [15]نافع کی زندگی بھر امام مالک کے استفادہ کا سلسلہ قائم رہا،جب تک نافع زندہ رہے،امام مالک برابر ان کے حلقہ درس میں جاتے تھے،ان سے پوچھتے تھے کہ ان مسائل میں ابن عمر رضی اللہ عنہ نے کیا فرمایا ہے۔ [16]

فقہ[ترمیم]

اپنے آقائے نامدار کے فیض سے فقہ میں بھی کامل تھے، حافظ ابن حجر عسقلانی ان کو نافع الفقیہ لکھتے ہیں [17]صحابہ کے بعد مدینہ کی صاحب علم وافتا جماعت کے رکن رکین تھے [18] لیکن اپنے آقا زادہ سالم بن عبداللہ کی زندگی بھر جو مدینہ کے فقہائے سبعہ میں تھے اور نافع کے استاد تھے، پاس ادب سے فتوی نہیں دیا۔ [19]

عمر بن عبد العزیزؓ اورنافع[ترمیم]

حضرت عمر بن عبدالعزیز ان کے علم کے اتنے قائل تھے کہ انھیں مصر کے مسلمانوں کو سنت کی تعلیم دینے کے لیے بھیجا تھا۔ [20]

حضرت ابن عمرؓ کی محبت[ترمیم]

ان کے کمالات کی وجہ سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ ان کو بہت محبوب رکھتے تھے،بعض شائقین نے نافع کی غلامی کے زمانہ میں ان کی بڑی قیمت پیش کی،لیکن ابن عمرؓ علاحدہ کرنے پر آمادہ نہ ہوئے، عبد اللہ بن جعفر نے بارہ ہزار کی خطیر رقم پیش کی، ابن عامر نے تیس ہزار قیمت لگائی،لیکن ابن عمرؓ نے سب کو نا منظور کر دیا اور اسی وقت یہ کہہ کر کہ مجھے خوف ہے کہ ابن عامر کے روپئے مجھے فریفتہ کر لیں گے نافع کو آزاد کر دیا۔ [21]

وفات[ترمیم]

آپ نے 117ھ میں وفات پائی۔ [22]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. ^ ا ب عنوان : Нафи ибн Хурмуз
  2. عنوان : Малик ибн Анас
  3. (تہذیب التہذیب:10/414)
  4. (تذکرۃ الحفاظ:1/80)
  5. (تہذیب الاسماء:1/124)
  6. (تہذیب التہذیب:10/414)
  7. (تہذیب التہذیب ایضاً:313)
  8. (تہذیب التہذیب ایضاً:313)
  9. (ابن خلکان :2/151)
  10. (تہذیب التہذیب:10/412)
  11. (تہذیب التہذیب:10/414)
  12. (تہذیب التہذیب ایضاً)
  13. (تہذیب التہذیب ایضاً)
  14. (ابن خلکان :2/151)
  15. (تہذیب الذہب:10/413)
  16. (تذکرۃ الحفاظ:1/88)
  17. (ابن سعد:6 ترجمہ امام مالک)
  18. (ابن سعد،ج 6،ترجمہ امام مالک)
  19. (تذکرۃ الحفاظ:1/88)
  20. (شذرات الذہب:1/152)
  21. (تذکرۃ الحفاظ:1/88)
  22. (تذکرۃ الحفاظ ایضاً)