نافع بن ہلال جملی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نافع بن ہلال
ذاتی کوائف
نام کامل نافع بن ہلال بجلی
وجہ شہرت قاری قرآن کریم اور کاتبان حدیث
محل ولادت کوفہ
محل زندگی کوفہ
وفات/شہادت عاشورا سنہ ۶۱ ہجری قمری
مدفن کربلا
دیگر فعالیتیں
سیاسی صحابی امام علی اور امام حسینؑ
واقعہ کربلا میں حاضری


نافع بن ہلال جملی
معلومات شخصیت
تاریخ وفات 10 اکتوبر 680  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
عسکری خدمات
لڑائیاں اور جنگیں سانحۂ کربلا  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں لڑائی (P607) ویکی ڈیٹا پر

نافع بن ہلال جملی(عربی: نافع ابن هلال الجملی) امامٍٍ حسین ؓ کے صحابی تھے جو 10محرم 61ھ میں کربلا کی لڑائی میں امام کا ساتھ دیتے ہوئے شہید ہوئے ۔

آپ یمن کے باشندے تھے اور آپ کا شمار عرب کے بہادر لوگوں میں ہوتا تھا.

نافع بن ہلال بن جمیل امام علی اور امام حسین کے اصحاب اور شہدائے کربلا میں سے ہیں۔ تاریخی منابع میں انہیں جَمَلی، بَجَلی، مُرادی اور بَجَلی مرادی جیسے القاب سے یاد کیا گیا ہے۔ بعض جگہ آپ کا نام نافع بن ہلال بجلی بھی لکھا گیا اے ۔ آپ عرب کے اشراف اور بہادروں اور[1] قاری قرآن کریم اور کاتبان حدیث میں سے تھے۔

نام اور نسب[ترمیم]

بعض تاریخی منابع اور مقاتل میں نافع بن ہلال کا نام غلطی سے ہلال بن نافع ثبت ہوا ہے ۔[2] حالنکہ "ہلال بن نافع" نیز واقعہ کربلا میں حاضر تھا لیکن وہ عمر بن سعد کی فوج میں شامل تھا اور کربلا کے واقعے کے راوی ہیں۔[3]

نافع بن ہلال کا تعلق "قبیلہ جمل" جو "قبیلہ مذحج" کی ایک شاخ تھی، سے اور یمنی الاصل تھے۔

امام علیؑ کے صحابی[ترمیم]

نافع بن ہلال امیرالمؤمنین حضرت علی کے اصحاب میں سے تھے[4] اور آپؑ کے دور میں لڑی گئی تینوں جنگوں جنگ جمل، جنگ صفین اور جنگ نہروان میں آپؑ کے ساتھ شریک ہوئے۔[5] کہا جاتا ہے کہ نافع ایک دلیر اور ماہر تیر انداز تھے۔ ابومخنف سے منقول ہے کہ امیرالمؤمنین حضرت علیؑ نے انہیں جنگی فنون کی تعلیم دی تھی۔[6]

امام حسینؑ کے قافلے میں شامل ہونا[ترمیم]

نافع بن ہلال حضرت مسلم بن عقیل کی شہادت سے پہلے کوفہ سے خارج ہوئے اور راستے میں امام حسین کے قافلے میں شامل ہو گئے۔ [7] وہ عذیب الہجانات نامی جگہے پر امام حسینؑ کے ساتھ ملحق ہونے والے چار افراد میں سے ایک ہیں۔ حضرت امام حسینؑ نے ان سے اور ان کے ساتھیوں سے کوفہ کے حالات دریافت فرمائے تو انہوں نے جواب دیا: کوفہ کے اشراف اور بزرگان رشوت لے کر آپ کے خلاف ہو گئے ہیں جبکہ عوام الناس کے دل تو آپ کے ساتھ ہیں لیکن ان کی تلوار آپ کے خلاف ہیں۔[8]

نسب[ترمیم]

آپ کا نسب کچھ ایسے ہے: نافع بن هلال بن نافع بن جمل بن سعد العشيرة بن مذحج المذحجي الجملي.

آپ کا تعلق یمن کے قبیلہ مذحج کی شاخ جمل سے تھا ۔

حضرت علیؓ کے ساتھ شرکت[ترمیم]

نافع بن ہلال علیؓ ابن ابی طالب کے اصحاب میں سے تھے آپ علی ابن ابی طالب کے ساتھ جنگٍ صفین,جنگٍ نہروان اور جنگٍ جمل میں شریک تھے۔

واقعہ عاشورا میں حاضری[ترمیم]

امام حسینؑ کے ساتھ تجدید بیعت[ترمیم]

محرم کی دوسری تاریخ کو امام حسینؑ کربلا پہنچے۔ اس موقع پر آپؑ نے اپنی اہل بیتؑ اور اصحاب کو جمع کیا اور ابتدا میں اپنے اہل بیتؑ کی طرف نگاہ کرکے گریہ کرتے ہوئے فرمایا:

خدایا بتحقیق ہم تیرے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خاندان میں سے ہیں جنہیں اپنے وطن سے نکالا گیا اور پریشان و سرگرداں اپنے نانا رسول خداؑ کے روضہ اطہر سے ہمیں نکال باہر کیا گیا ہے۔ بنی امیہ نے ہم پر ظلم و ستم کی انتہا کر دی ہے پس اے خدا ہمارا حق ان ظالموں سے لے لیں اور ان کے مقابلے میں ہماری نصرت فرما۔

اس کے بعد امامؑ نے اصحاب کی طرف رخ کرکے فرمایا:

النَّاسُ‏ عَبِيدُ الدُّنْيَا وَ الدِّينُ لَعِقٌ عَلَى أَلْسِنَتِهمْ يَحُوطُونَه مَا دَرَّتْ مَعَايِشُهمْ فَإِذَا مُحِّصُوا بِالْبَلَاءِ قَلَّ الدَّيَّانُون‏.
لوگ دنیا کے غلام بن گئے ہیں اور دین ان کی زبان کی حد تک ہے، دین کی حمایت اور پیروی اس وقت تک کرتے ہیں جب تک ان کی زندگی آسائش میں گزرے اور جیسے ہی کوئی مصیبت آجائے اور کسی سختی کا شکار ہو تو دیندار کم ہی نظر آتے ہیں۔

امامؑ کی اس تقریر کے بعد آپؑ کے اصحاب نے ایک ایک کر کے اپنی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے آپؑ کے ساتھ تجدید بیعت کیا۔

نافع بن ہلال نے زُہیر بن قِین کے بعد کھڑے ہو کر امامؑ سے مخاطب ہو کر کہا:

آپ جانتے ہیں کہ آپ کے نانا رسول خداؐ اپنی محبت لوگوں کے دلوں میں موجزن نہ کرسکے یا لوگوں کو جس طرح خود چاہتے تھے بنانے میں کامیاب نہیں ہوئے۔ یہاں تک کہ ان کے بعض اصحاب منافقین میں سے تھے آپؐ کو مدد کا وعدہ دیتے تھے جبکہ پیٹھ پیچھے آپ کو دھوکا دیتے تھے، جب آپؐ سے ملتے تو شہد سے بھی میٹھے انداز اپناتے تھے لیکن پیٹھ پیچھے زہر سے بھی کڑوا ہوتے تھے یہاں تک کہ خدا نے انہیں اپنے پاس بلا لیا۔ آپ کے بابا علی کی حالت بھی کچھ ایسی ہی تھی، لوگوں نے سب سے پہلے حمایت کا وعدہ کرتے ہوئے ان کے گرد جمع ہو گئے جبکہ بعد میں ناکثین، قاسطین اور مارقین کی شکل میں آپ کے خلاف اٹھ کھڑے ہو گئے یہاں تک کہ خدا نے ان کو بھی شہادت کی عظیم نعمت سے مالا مال کیا۔ آج آپؑ ہمارے درمیان اسی طرح ہیں بعض نے اپنا عہد و پیمان توڑ کر آپ کی بیعت سے خارج ہو گئے ہیں جبکہ اس بیعت شکنی میں ان کا اپنا نقصان ہے کسی اور کا نہیں خدا ان سے بے نیاز ہے۔ پس ہمیں جب تک آپ سالم ہیں ہماری رہنمائی فرما کر ہمیں جہاں لے جانا چاہیں لے جائیں خدا کی قسم ہمیں خدا کی تقدیر پر کوئی گلہ شکوہ نہیں ہے اور اپنے پروردگار کے ساتھ ملاقات کرنے میں کسی قسم کی کوئی پریشانی نہیں ہے۔ ہم اپنی نیات اور سوچ کے بل بوتے پر عمل پیرا ہوں گے جو بھی آپ سے محبت کرے اور آپ کی حمایت کرے ہم بھی اس سے محبت کریں گے اور جو بھی آپ سے دشمنی اختیار کرتے ہم بھی اس کے دشمن بنیں گے۔[9]

خیموں میں پانی لانا[ترمیم]

عمر بن سعد کے حکم پر جب یزیدی فوج نے امام حسین کے خیموں میں پانی بند کر دیا اور اصحاب پر پیاس کی شدت بڑھ گئی تو امام حسینؑ نے حضرت ابوالفضل العباسؑ کو بلایا اور انہیں راتوں رات 30 سپاہیوں منجملہ نافع بن ہلال کے ساتھ پانی لانے کے لیے فرات کی طرف روانہ فرمایا۔

جب حضرت عباسؑ اور آپ کے ساتھی جن میں نافع بن ہلال سب سے آگے حرکت کر رہے تھے، فرات کے کنارے پہنچے تو عمرو بن حجاج زبیدی جو فرات پر مامور سپاہیوں کا کمانڈر تھا نے کہا: تم لوگ کون ہو؟

نافع نے جواب دیا: "ہم تمہارے چچازاد بھائیوں میں سے ہیں ہم اس پانی سے سیراب ہونے آئے ہیں جسے تم لوگوں نے بند کیا ہوا ہے۔"

عمرو نے کہا: "جتنا پی سکتے ہو پیں لیکن حسینؑ کے لیے اس سے پانی مت لے جاؤ"

نافع نے کہا: "خدا کی قسم ایک قطرہ پانی بھی نہیں پیوں گا جبکہ حسینؑ اور ان کے اہل و عیال پیاسے ہوں۔"

دوسرے ساتھیوں کے پہنچنے پر نافع نے پکارا: "اپنے مشکیزوں اور برتنوں کو پانی سے بھر دو"

عمرو بن حجاج کے ساتھی حضرت قمر بنی ہاشمؑ اور نافع بن ہلال کے ساتھیوں کے ساتھ مقابلے کے لیے آئے اور ایک سخت لڑائی ہوئی۔

امامؑ کے بعض اصحاب مشکیزوں میں پانی بھرنے میں کامیاب ہو گئے یوں خیموں میں پانی لانے میں کامیاب ہو گئے اس واقعے میں دشمن کے کئی سپاہی ہلاک یا زخمی ہوئے۔[10]

شب عاشورا[ترمیم]

شب عاشورا آدھی رات کو امام حسین خیموں کے اطراف کو دئکھنے کے لیے تنہا خیمے سے باہر تشریف لے گئے تو نافع چپکے سے آپ کے پیچھے آ گئے۔

واپسی پر امام حسینؑ نے نافع سے پوچھا: "کیا رات کی تاریکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ان دو پہاڑوں کے درمیان سے گزر کر اپنی جان بچانا نہیں چاہتے ہو؟"

نافع نے اپنے آپ کو امام کے قدموں پر گرایا اور کہا: "میں نے ہزار درہم میں ایک تلوار خریدی ہے اور ایک گھوڑا ہے اس کی قیمت بھی تقریبا اتنی ہی ہے، پس اس خدا کی قسم جس نے مجھے آپ کے رکاب میں شہید ہونے کا موقع فراہم کرکے میرے اوپر احسان کیا ہے، جب تک میری یہ تلوار جنگ میں میرے کام آئیگی ہر گز آپ سے جدا نہیں ہونگا۔"[11]

روز عاشورا[ترمیم]

بعض منابع کے مطابق نافع بن ہلال نے انہی دنوں شادی کی تھی اور جب روز عاشورا میدان میں جانے کا ارادہ کیا تو ان کی نئی نویلی دلہن نے منع کیا لیکن وہ امام کی نصرت کے لیے اصرار کر رہا تھے۔ جب امام کو اس بات کا پتہ چلا تو آپ ؑ نے نافع سے فرمایا: تمہاری دلہن پریشان ہے اور مجھے یہ پسند نہیں ہے کہ تم دونوں جوانی میں ایک دوسرے کے فراق میں مبتلا ہو جائوں اگر یہ راضی نہیں ہے تو اپنی دلہن کا ہاتھ پکڑ کر یہاں سے چلے جاؤ۔"

نافع نے کہا:‌ "یابن رسول اللہؐ اگر سختی اور مصیبت میں آپ کو تنہا چھوڑ کر اپنی آسائش کے پیچھے چلا جاوں تو کل قیامت کے دن آپ کے نانا رسول خدا کو کیا جواب دوں۔" [12]

میدانٍ کربلاء اور شہادت[ترمیم]

آپ مسلم بن عقیل کی کوفہ میں شہادت سے پہلے ، امام حسین ؓ کے قافلے میں شریک ہو کر کربلا پہنچے۔

کربلا کی لڑائی میں نافع نے تیروں کی نوک پر زہر لگا کر دشمن کے لشکر کی طرف پھنکے اور 12 فوجی مار گرائے۔دشمن کے لشکر کی طرف سے کیے گئے پتھراو کی وجہ سے آپ کے بازو شدید زخمی ہوئے اور پھر دشمنوں نے آپ کو پکڑ لیا۔ شمر ملعون اور اس کے ساتھی آپ کو پکڑ کر عمرو ابن سعد کے پاس لے گئے ۔ کچھ بات چیت کے بعد اس نے شمر کو حکم کیا کہ انہیں قتل کر دو۔ جس پر اس نے آپ کا سر قلم کر دیا۔

جنگ کے وقت نافع کا رجز پڑھنا[ترمیم]

جنگ کے دوران نافع درج ذیل اشعار پڑھ رہے تھے:

ان تنکرونی فانا ابن الجملی دینی علی دین حسین بن علیؑ

"اگر مجھے نہیں پہچانتے ہو تو میں اپنا تعارف کروں گا، "قبیلہ جَمَلی" سے میرا تعلق ہے اور میرا دین وہی دین ہے جس پر حسین ابن علیؑ ہیں"۔[13] دشمن کے لشکر سے مزاحم بن حریث نامی ایک شخص نے اس کے جواب میں کہا: "ہم عثمان کے پیروکار ہیں" نافع بن ہلال نے کہا: "تم شیطان کے پیروکار ہو" اس کے بعد تلوار سے اس پر وار کیا۔ مزاحم نے بھاگنا چاہا لیکن نافع کے وار نے اسے یہ اجازت نہیں دی اور وہ ہلاک ہو گیا۔" [14] نافع بن ہلال روز عاشورا تیروں پر اپنا نام لکھ کر انہیں زہر سے آلودہ کر کے دشمن کی طرف پھینکتے تھے۔ اور تیر چلاتے وقت یہ اشعار پڑھتا تھے:

ارمی بها معلمۃ افواقهاوالنّفس لا ینفعها اشفاقها
مسمومۃ تجری بها اخفاقهالیملانّ ارضها رشاقها

"ایسا تیر چلا رہا ہوں جس کے نوک پر لکھا ہے کہ جان کا خوف اسے کوئی فائدہ نہیں دے گا، یہ تیر زہر سے آلودہ اور مست حالت میں آگے جا رہا ہے یہاں تک کہ میدان جنگ کو لطیف تیروں سے پر کریگا۔" [15] جب نافع کے پاس تیر ختم ہوئے تو انہوں نے تلوار اٹھا لی[16] اور دشمن کے صفوف پر حملہ آور ہوئے اور یہ اشعار پڑھ رہے تھے:

انا الغلام الیمنی الجملیدینی علی دین حسین و علی
ان اقتل الیوم فهذا املیفذاک رایی و الاقی عملی

«من ایک یمنی اور جملی جوان ہوں میں اس دین کا پیروکار ہوں جس پر حسین ابن علیؑ ہیں؛ آج میری آرزو یہ ہے کہ شہید ہو جاؤں۔ پس میری یہ آرزو ہے اور میں اپنے عمل سے خود ملاقات کروگا۔"[17]

شہادت[ترمیم]

دشمن کے سپاہیوں نے ایک ساتھ ان کا محاصرہ کیا اور اپنے تیروں اور پتھروں کا نشانہ بنایا اس طرح ان کے بازوں کو توڑ کر انہیں گرفتار کر کے عمر بن سعد کی پاس لے جایا گیا۔

عمر بن سعد نے کہا: "اے نافع! افسوس ہے تم پر! کیوں اپنے ساتھ ایسا کیا؟"

نافع جبکہ خون اس کے محاسن سے جاری تھا، کہنے لگے: " میرا پروردگار میری نیت سے آگاہ ہے۔ خدا کی قسم میں نے تمہارے 12 آدمیوں کو ہلاک کیا ہے جس پر اپنے آپ کو ملامت نہیں کروں گا اگر میرے بازوں سالم ہوتے تو مجھے گرفتار نہیں کر سکتے تھے."

عمر بن سعد نے شمر کو اسے قتل کرنے کا حکم دیا تو ناقع نے شمر سے کہا: " خدا کی قسم اے شمر! اگر تم مسلمان ہو تو تم یر یہ گراں گزرے گا کہ تم خدا سے اس حالت میں ملاقات کروں کہ ہمارا خون تمہاری گردن پر ہو۔ میں خدا کی حمد و ثنا بجا لاتا ہوں کہ دنیا کے سب سے پست اور حقیر قوم کے ہاتھوں ہماری موت واقع ہوئی۔" اس کے بعد شمر نے نافع کو شہید کر دیا.[18]

نافع بن ہلال کا نام زیارت رجبیہ امام حسینؑ اور زیارت ناحیہ مقدسہ میں آیا ہے۔ زیارت ناحیہ مقدسہ میں نافع کو یوں مورد خطاب قرار دیا ہے:

"السّلام علی نافع بن ہلال البجلی المرادی"

متعلقہ صفحات[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. خیرالدین زرکلی، الأعلام، ج8، ص6.
  2. ابصارالعین، ص50-150؛ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص31.
  3. الملہوف، ص177.
  4. الامالی للشجری، ج1، ص172
  5. محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسین ؑ، ص147.
  6. وقار شیرازی، عشرہ کاملہ، ص402.
  7. محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسینؑ، ص147.
  8. ابن نما حلی، مثیر الاحزان، ص31.
  9. ابن اعثم الکوفی، الفتوح، ج 5، ص83 ؛ الملہوف، ص138
  10. احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، ج 3، ص181؛ و محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، ج 5، صص 412 - 413؛ ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، ص117.مقتل الحسین خوارزمی ج1، ص346-347. طبری، تاریخ، ج4، ص312
  11. بہبہانی، الدمعۃ الساکبۃ ج4، ص273. المقرم،مقتل الحسینؑ، ص219.
  12. روضۃ الشہداء، ص298. ناسخ التواریخ ج2، ص277.
  13. الطبری، تاریخ، ص435 و شیخ مفید؛ الارشاد،ج 2، ص103 و الموفق بن احمدالخوارزمی، مقتل الحسینؑ، ج 2، ص14 - 15 و طبرسی؛ اعلام الوری بأعلام الہدی،ج 1، ص462.
  14. الطبری، تاریخ، ص435 و شیخ مفید، الارشاد، ج 2، ص103.
  15. الکوفی، الفتوح، ص110 و البحرانی، العوالم، ص271.
  16. البلاذری، انساب الاشراف، ص197؛ الطبری، تاریخ، ص441 - 442 و ابن اثیر، الکامل، ج 4، ص71 - 72.
  17. ابن شہرآشوب؛ مناقب آل ابیطالب، ج 4، ص104.
  18. ناسخ التواریخ ج2، ص277-279. البلاذری، انساب الاشراف، ص197 و الطبری، تاریخ، ص441 - 442 و ابن اثیر، الکامل، ج 4، ص71 - 72.

مآخذ[ترمیم]

سانچہ:مآخذ

  • محمد السماوی، ابصار العین فی انصار الحسینؑ، تحقیق محمد جعفر الطبسی، مرکز الدرسات الاسلامیہ لممثلی الولی الفقیہ فی حرس الثورۃ الاسلامیہ، چاپ اول.
  • علی النمازی الشاہرودی، مستدرکات علم رجال الحدیث، تہران، ابن المؤلف، چاپ اول، ج 8.
  • الموسوی المقرم، عبد الرزاق؛ مقتل الحسینؑ، بیروت، دارالکتاب الاسلامیہ، چاپ پنجم، 1979.
  • ابن اعثم الکوفی، الفتوح، تحقیق علی شیری، بیروت، دارالأضواء، چاپ اول، 1991، ج 5.
  • عبد اللہ البحرانی، العوالم الامام الحسینؑ، تحقیق مدرسہ الامام المہدی(عج)، قم، مدرسہ الامام المہدی(عج). چاپ اول، 1407.
  • احمد بن یحیی البلاذری، انساب الاشراف، تحقیق محمد باقر محمودی، بیروت، دارالتعارف، چاپ اول، 1977، ج 3.
  • محمد بن جریر الطبری، تاریخ الأمم و الملوک (تاریخ الطبری)، تحقیق محمد ابوالفضل ابراہیم، بیروت، دارالتراث، چاپ دوم، 1967، ج 5.
  • ابن اثیر، علی بن ابی الکرم؛ الکامل فی التاریخ، بیروت، دارصادر - داربیروت، 1965، ج 4.
  • شیخ مفید؛ الارشاد، قم، کنگرہ شیخ مفید، 1413، ج 2.
  • الموفق بن احمد الخوارزمی، مقتل الحسینؑ، تحقیق و تعلیق محمد السماوی، قم، مکتبۃ المفید، بی‌تا، ج 2.
  • طبرسی، اعلام الوری بأعلام الہدی، تہران، اسلامیہ، چاپ سوم، 1390ق، ج 1.
  • ابوالفرج الاصفہانی، مقاتل الطالبیین، تحقیق احمد صقر، بیروت، دارالمعرفہ، بی تا.
  • ابوالفداء اسماعیل بن عمر ابن کثیر، البدایہ و النہایہ، بیروت، دارالفکر، 1986، ج 8.
  • السید ابراہیم موسوی زنجانی، وسیلۃ الدارین فی انصار الحسینؑ، بی‎جا، چاپ سوم، 1410.
  • علامہ محمدباقر مجلسی، بحارالانوار، ج45، بیروت، موسسہ وفا، داراحیا التراث العربی، چ3، 1403.
  • ابی حنیفہ احمد بن داود الدینوری، الاخبار الطوال، تحقیق عبدالمنعم عامر، ایران، قم، شریف رضی، 1370.
  • محمدباقر دہدشتی بہبہانی، الدمعۃ الساکبۃ فی احوال النبی و العترۃ الطاہرۃ، بیروت، مؤسسۃ الاعلمی
  • وقار شیرازی، عشرہ کاملہ،‌ شیراز، نشر فروزنگہ، 1390
  • ابن نما حلی، مثیر الاحزان و منیر سبل الاشجان، المطبعۃ الحیدریہ، نجف، 1369ق