ناقۃ اللہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

ناقۃ اللہ کا معنی ہے اللہ کی اونٹنی یہ حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی کو کہا گیا۔ اس کا ذکر قرآن پاک کی سورۃ ہود کی آیت 64 میں کیا گیا ہے۔ ناقۃُ اللہ کی اضافت سے مرادشرف وعزت ہے۔ جیسا کہ مسجد کو " بیت اللہ " کہا جاتا ہے کہ وہ اونٹنی بھی معجزہ و نشانی کے طور پر مقرر کی گئی تھی۔ تفسیری روایات میں ہے کہ وہ سب کے سامنے ایک پہاڑی سے برآمد ہوئی تھی۔ (جامع البیان وغیرہ)۔ اور اسی بنا پر اس کو "ناقۃ اللہ" اللہ کی اونٹنی " کہا گیا۔ کیونکہ اس کی پیدائش عام معروف طریقے پر نہیں ہوئی۔ اسی لیے وہ اللہ کی نشانی قرار پائی۔ (المراغی، المنار المحاسن وغیرہ) - اور علامہ ابن کثیر جیسے بعض بڑے اور ثقہ مفسرین کرام نے اس بارے روایات کو تفصیل سے بیان فرمایا ہے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت صالح کی قوم نے آپ سے مطالبہ کیا کہ اگر آپ فلاں پہاڑی سے دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکال دکھائیں تو ہم آپ پر ایمان لے آئیں گے۔ حضرت صالح نے ان سے اس کا پختہ عہد لیا کہ اگر اللہ ایسے کر دے تو وہ ضرور ان پر ایمان لے آئیں گے۔ تو جب انہوں نے اس کا پختہ قول و قرار کر لیا تو حضرت صالح نے نماز پڑھ کر اللہ کے حضور دعا کی۔ تو اس پہاڑی سے دیکھتے ہی دیکھتے دس ماہ کی گابھن اونٹنی نکل آئی جس پر اس قوم کے سردار جندع ابن عمرو اور ان کے ساتھی ایمان لے آئے، دوسرے نہ لائے۔ (ابن کثیر، ابن جریر اور قرطبی وغیرہ)۔[1] قوم ثمود نے صالح علیہ السلام سے کہا کہ اپنی نبوت کی صداقت پر کوئی حسی معجزہ ہمیں دکھلا دو تب ہم تمہاری بات تسلیم کر لیں گے آپ نے پوچھا کیسا معجزہ چاہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ اس پہاڑ سے ایک حاملہ اونٹنی برآمد ہو پھر وہ ہمارے سامنے بچہ جنے تو ہم سمجھیں گے کہ واقعی تم اللہ کے رسول ہو اور تم پر ایمان لے آئیں گے۔ سیدنا صالح (علیہ السلام) نے اللہ سے دعا کی تو پہاڑ پھٹا جس سے ایک بہت بڑے قد و قامت کی اونٹنی برآمد ہوئی جس نے ان کے سامنے بچہ جنا اس وقت صالح (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اس اونٹنی کو آزادانہ چلنے پھرنے دو کیونکہ یہ تمہارا مطلوبہ معجزہ اور اللہ کی نشانی ہے جہاں سے چاہے چرتی پھرے اور جہاں سے چاہے پانی پئے اب صورت حال یہ تھی کہ ایک تو اس علاقہ میں پہلے ہی پانی کی قلت تھی دوسرے یہ قد آور اور بہت بڑے ڈیل ڈول کی اونٹنی ایک دن میں اتنا پانی پی جاتی تھی جتنا ان کے سارے جانور پیتے تھے۔ اس لیے سیدنا صالح (علیہ السلام) نے کہا کہ باری مقرر کرلو اس کنوئیں سے ایک دن تمہارے جانور پانی پیا کریں اور ایک دن یہ اونٹنی (جسے اللہ نے دوسرے مقام پر ناقتہ اللہ یعنی اللہ کی اونٹنی کہا ہے) پانی پیا کرے گی اور ساتھ ہی یہ بھی تنبیہ کردی کہ اگر تم نے اس اونٹنی سے کوئی برا سلوک کیا تو اللہ تعالیٰ کا سخت عذاب تم پر ٹوٹ پڑے گا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. تفسیر مدنی کبیرمولانااسحاق مدنی
  2. تفسیر تیسیر القرآن، عبد الرحمن کیلانی