نانجنگ دہائی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نانجنگ دہائی

نانجنگ دہائی یا نانجنگ عشرہ (انگریزی: Nanjing decade) جسے (نانکنگ دہائی (Nanking decade)، چینی: 南京十年 Nánjīng shí nián، یا سنہری دہائی (Golden decade)، چینی: 黃金十年 Huángjīn shí nián) بھی کہا جاتا ہے جمہوریہ چین میں 1927ء (یا 1928ء) سے 1937ء تک کی دہائی کا غیر رسمی نام ہے۔ اس کا آغاز قوم پرست جرنیل چیانگ کائی شیک نے 1927ء کی شمالی مہم دوران جنگجوں سے نانجنگ کو حاصل کیا۔ چیانگ کائی شیک نے نانجنگ کو بائیں بازو کی ووہان قوم پرست حکومت کے ہوتے ہوئے قومی دار الحکومت قرار دیا۔ ووہان گروہ نے ہتھار ڈال دیے اور شمالی مہم جاری رہی یہاں تک کہ 1928ء میں بیجنگ میں قائم بئیانگ حکومت کا بھی تختہ پلٹ دیا گیا۔ اس دہائی کا اختتام 1937ء میں دوسری چین-جاپانی جنگ پع ہوا اور قومی حکومت ووہان میں سمٹ گئی۔ 1929ء سے 1941ء تک خام ملکی پیداوار میں فی سال 3.9 فی صد کا اضافہ ہوا، ور فی کس خام ملکی پیداوار 1.8 فی صد رہی۔ [1]

نانجنگ علامتی اور تزویراتی اہمیت کا حامل شہر تھا۔ منگ خاندان نے اسے اپنا دار الحکومت بنایا۔ 1912ء میں جمہوریہ کے قیام کے بعد سن یات سین نے اپنی عبوری حکومت یہاں قائم کی۔ چیانگ کائی شیک پڑوسی صوبے میں پیدا ہوا تھا اور عمومی طور پر اسے علاقے کی حمایت حاصل تھی۔

نانجنگ دہائی کو ترقی اور مایوسی دونوں کے لحاظ سے دیکھا جاتا ہے یہ دور اس سے قبل جنگجو دور سے کہیں زیادہ مستحکم تھا۔ اس میں اقتصادی ترقی اور امتیازی حکومتی منصوبوں کو شروع کرنے کے لئے کافی استحکام موجود تھا۔

ان میں سے کچھ منصوبوں کو 1949ء میں عوامی جمہوریہ چین کی نئی حکومت نے شروع یا جاری رکھا۔ قومی دفتر خارجہ کے افسروں نے مغربی حکومتوں سے سفارتی تسلیم شدگی کی بات کی اور غیر مساوی معاہدوں کو اجاگر کیا۔ کاروباری افراد، تعلیم یافتہ، وکلا، ڈاکٹر اور دیگر پیشہ ور افراد اس سے قبل کسی بھی وقت کے مقابلے میں جدید اداروں کو تخلیق کرنے کے لئے زیادہ آزاد تھے۔

اس کے باوجود حکومت کی کو ایسی جامع حکمت عملی موجود نہیں تھی جس سے کرپشن، اقربا پروری، کئی صوبوں کی بغاوت، حکومت کے اندر تنازعات، چینی کمیونسٹ پارٹی کے بقا اور ترقی، جاپانی جارحیت کو روکنے کے لئے حکومت کی ناکامی کے خلاف وسیع پیمانے پر مظاہروں سے نمٹا جا سکے۔


حوالہ جات[ترمیم]

  1. Maddison، A. (1998). Chinese Economic Performance in the Long Run. Paris: OECD Development Centre.