ناک کے امراض

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نظام تنفس کے ذرائع میں ناک‘ نرخرہ (Larynx)حلق (Pharynx)ہوا کی نالی (Trachea)سینہ کی جھلی (Pleura)اور پھیپھڑے (Lungs)اہمیت کے حامل ہیں اور ان میں ہوا کے آنے جانے کا راستہ سب سے اہم ہے۔ ناک کی تعریف میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ وہ قوت حس ہے جس کے ذریعہ ہم سونگھتے اور سانس لیتے ہیں۔ درحقیقت ناک کو ایک نالی سمجھا جاتا ہے مگر یہ دو نالیوں میں منقسم ہے۔ یعنی داہنا اور بایاں نتھنا جن میں ایک طرح کی رطوبتی جھلی کا استش ہوتا ہے اس میں بال بھی ہوتے ہیں جو مضر ذرات کو اندر جانے سے روکتے ہیں۔ تالو کے اوپر ناک کا پیچیدہ نظام ہے جہاں غار نما علاقے میں اردگرد آٹھ جگہوں پر اندر سے کھوکھلی مخصوص ہڈیاں ہیں جو آنکھوں کے اوپر و درمیان دونوں رخساروں میں اور عقبی حصے میں و اقع ہیں۔ چار جوڑیوں میں یہ آٹھ خم دار حصے جوف یا Sinusesکہلاتے ہیں۔ ان میں ورم آجائے تو Sinusکی بیماری کہلاتی ہے۔ کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ استر کی جھلی میں ورم آجاتا ہے جس کی وجہ سے بدبو یا خوشبو کے ذرات قوت شامہ کی جھلی تک نہیں پہنچ پاتے اور بو ہونے کے باوجود اس کا ادراک نہیں ہوتا۔ کبھی جوف دماغ سے شامہ کی جھلی مل جائے تو بدبو دار مادہ پیدا ہوجاتا ہے جس کی وجہ سے بدبو دار چیز موجود نہ ہوتے ہوئے بھی اس کی بو محسوس ہوتی ہے۔ یہ قوت شامہ کا اہم ترین حصہ ہے جو دماغ کے سامنے والے حصے سے شروع ہوکر بیس باریک شاخوں کے ساتھ ناک کی اندرونی جھلی پر ختم ہوجاتا ہے۔ اس میں خرابی پیدا ہو جائے تو قوت شامہ ختم ہوجاتی ہے۔ ناک دور جدید کی زبان میں ایک ایئرکنڈیشنگ پلانٹ کی حیثیت رکھتی ہے جس کا بنیادی کام یہ بھی ہے کہ وہ پھیپھڑوں کو گرم‘ مرطوب اور صاف ستھری ہوا فراہم کرتی رہے۔ پیدا ہوتے ہی بچہ جب پہلی چیخ مارتا ہے تو اس پلازمہ کی کارکردگی شروع ہوجاتی ہے۔ ناک جہاں ایئرکنڈیشنگ پلانٹ ہے تو یہ کھانے پینے کی چیزوں میں اچھائی‘ برائی‘ خوشبو بدبو میں حد امتیاز کھینچ دیتا ہے۔ گویا ایک چیک پوسٹ بھی ہے۔ اس اہم حصے کی بیماریاں

نکسیر پھوٹنا

گرمی کے موسم میں جوان افراد کو یہ شکایت بدن میں خون کی زیادتی کی وجہ سے اکثر ہوجاتی ہے۔ اس مرض میں ناک کی رگیں خون سے پر ہوکر پھٹ جاتی ہیں اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔ بعض دفعہ حرارت جگر اور وبائی بخار اور بچوں میں پیٹ کے کیڑے بھی اس کے اسباب ہوتے ہیں۔ جب نکسیر آنے والی ہوتی ہے تو سر میں گرمی اور خشکی معلوم ہوتی ہے۔ ناک کے نتھنوں میں حلق اور سوزش اور بعض دفعہ خارش محسوس ہوتی ہے۔ کمزور بچوں میں پیٹ میں کیڑے پڑ جانے کی وجہ سے ہوتو بچہ بار بار ناک نوچتا ہے۔ بعض دفعہ دھوپ میں چلنے‘ پان چبانے‘ ناک کو کھجانے‘ چھینک لینے یا زور سے کھنکھارنے سے فوراً نکسیر پھوٹ جاتی ہے۔ بعض دفعہ بغیر کسی حرکت کے ناک میں سوزش ہوکر نکسیر جاری ہوجاتی ہے اور ناک سے خون بہنے لگتا ہے۔اور بعض دفعہ بلد شوگر ہونےکی وجہ سے بھی نکسیر پھوٹ پرتی ہے۔

اگر خون جاری ہو جائے تو ابتدائی طبی امداد کے طور پر مریض کے سر پر ٹھنڈا پانی ڈالیں اس سے نکسیر بند ہوجاتی ہے اگر اس عمل سے نکسیر بند نہ ہو تو جن خاتون کی گود میں لڑکی ہو ان کا دودھ پانچ قطرے ناک میں ٹپکانے سے بھی خون بند ہوجاتا ہے۔

بعد میں اگر یہ محسوس کریں کہ نکسیر خشکی کی وجہ سے آتی ہے تو روغن کدو سر پر لگائیں اور ناک میں بھی ٹپکائیں اور دماغ کی تقویت کے لیے صبح کو مربا آملہ ایک عدد دھوکر چاندی کے ورق میں لپیٹ کر کھانا بھی مفید ہے۔ دھوپ میں زیادہ چلنے پھرنے اور آگ کے پاس بیٹھنے اور لکھنے پڑھنے کے کام سے پرہیز کریں۔

علاج: ٹھنڈی ترکاریاں مثلاً کدو‘ ترئی‘ قرفہ‘ پالک‘ ٹنڈا وغیرہ تنہا یا گوشت کے ساتھ پکا کر دیں۔

سونگھنے کی طاقت جاتی رہنا

مریض اس مرض میں خوشبو اور بدبو میں تمیز نہیں کر سکتا۔ بعض دفعہ یہ مرض پیدائشی ہوتا ہے جس میں علاج معالجہ سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ کبھی نزلہ‘ زکام‘ میں عرصہ تک مبتلا رہنے سے غلیظ بلغم ناک کی انتہائی گہرائی یعنی قوت شامہ کے عصب کے قریب جمع ہوکر قوت شامہ کو زائل کردیتا ہے اس مرض میں پہلے نزلہ اور زکام کا ہونا۔ سر کی گرانی اور بوجھ معلوم ہونا۔ بولنے میں گنگناہٹ کی آواز معلوم ہونا۔ کبھی ناک سے غلیظ رطوبت کا خارج ہونا۔ آنکھوں کے پپٹوں پر پھڑپھڑاہٹ معلوم ہونا اور مریض کی کسی چیز کو سونگھ کر اس کی خوشبو اور بدبو معلوم نہ کرسکنا۔

علاج: ایک اینٹ سرخ پکی ہوئی کو گرم کرکے اس پر سرکہ ڈال کر اس کے بخارات کو سونگیں ۔

ناک سے بدبو آنا

اکثر نزلہ اور زکام کے علاج کی بے ترتیبی اس کے بگڑنے کا سبب بنتی ہے اور ناک بند ہوجاتی ہے۔ عورتیں اور بچے اور سرد مزاج والے اشخاص بہ نسبت گرم مزاجوں کے اس بیماری میں زیادہ متبلا ہوتے ہیں۔ پرانے نزلہ یا زکام کی وجہ سے غلیظ رطوبات ناک کے اندر اکھٹے ہوکر سڑجاتی ہیں اور جو چیز سونگھی جاتی ہے اس کے ساتھ یہ بدبو مل کر اسے خراب کردیتی ہے بعض دفعہ ناک پر چوٹ لگنے یا زخم ہوجانے اور بعض دفعہ چیچک اور خسرہ کی وجہ سے بھی یہ شکایت پیدا ہوجاتی ہے۔ یہ مرض پرانا ہو جائے تو بعض دفعہ ناک میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔

علاج: کبھی ناک سے چھچھڑے نکلتے ہیں اور کبھی خون آمیز بدبو دار رطوبت خارج ہوتی ہے۔ ناک کو صاف رکھیں دن میں کئی بار ناک میں پانی ڈال کر ناک کو دھویا کریں اور روغن کدو یا روغن گل کے چند قطرے ناک میں ٹپکا دیا کریں۔ یا آب برگ تلسی سبز میں نمک ملاکر چند قطرے ناک میں ٹپکانے سے بھی مریض ٹھیک ہوجاتا ہے۔

چھینکیں زیادہ آنا

اگرچہ کبھی کبھی چھینک آنا صحت کی علامت سمجھی جاتی ہے مگر یہ شکایت جب حد سے زیادہ ہوجاتی ہے تو انسان کو بجائے فائدے کے طرح طرح کے مصائب میں مبتلا کردیتی ہیں۔ بعض دفعہ دھوپ میں چلنے یا گرد غبار یا تیز تمباکو یا مرچ وغیرہ کی دھانس ناک میں چلی جانے سے بار بار چھینکیں آتی ہیں اور بعض دفعہ تیز قسم کی رطوبات کی وجہ سے اندرونی جھلی میں خراش پیدا ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے بے اختیار چھینکیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ جب چھینکیں بار بار آئیں اور ناک میں سوزش ہو اور تکلیف معلوم ہو تو ناک کو اچھی طرح سے صاف کرکے روغن گل کے چند قطرے ناک میں ٹپکائیں اور اگر دھوپ میں چلنے کی وجہ سے ہو تو آپ سرد غسل کریں۔

علاج: گردو غبار اور دھوپ میں چلنے پھرنے سے اور تیز چیزوں مثلاً مرچ‘ تمباکو وغیرہ کی دھانس سے بچے ں نزلہ ہو تو سردپانی سے غسل نہ کریں۔