نجاست

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نجاست: کے معنی پلیدی کے ہیں

لغوی معنی[ترمیم]

لغت میں گندگی کو نجاست ناپاک اور آلودہ ہونے کو نجاست کہا جاتا ہے

اصطلاحی معنی[ترمیم]

ایسی حکمی صفت جو نماز یا عبادات کرنے میں رکاوٹ ڈالتی ہو

نجاست کی اقسام[ترمیم]

اس کی دو اقسام ہیں

نجاست خفیفہ[ترمیم]

حلال جانوروں کے پیشاب اور پرندوں کی بیٹ وغیرہ نجاست خفیفہ ہیں

نجاست غلیظہ[ترمیم]

انسان کے بدن سے نکلنے والی ہر چیز جس سے وضو یا غسل واجب ہوتا ہے نجاست غلیظہ کہلاتی ہے

شرعی صورت[ترمیم]

شریعت میں نجاست کی دو صورتیں ہیں

نجاست عینی[ترمیم]

عینی نجاست یعنی ایسی نجاست جس کا تعلق ان چیزوں سے ہو جن کا مشاہدہ کیا جاسکتا یا انہیں محسوس کیا جاسکتا ہو

نجاست حکمی[ترمیم]

دوم گناہوں کی نجاست اسی طرح رجس اور رجز کو بھی ان ہی دو صورتوں پر محمول کیا جاتا ہے
نجاست معنوی کے لحاظ سے اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے متعلق فرمایا :۔ [ التوبہ/ 28] مشرک تو پلید ہیں۔ نجس کے معنی کسی چیز کو نجس کردینا کے ہیں۔ نیز اس کے معنی ازالہ نجاست بھی آتے ہیں۔ اور اسی سے تنجیس العرب ہے یعنی تعویذ گنڈا۔ جو شیطانی نجاست کو دور کرنے کے لیے بچے کے گلہ میں لٹکاتے تھے۔ نا جس ونجیس۔ ایک بری اور لاعلاج بیماری [1]
چنانچہ ارشاد باری ہے (انما الخمر والمیسر والانصاب والازلام رجس من عمل الشیطان۔ بیشک شراب جوا، آستانے اور پانسے یہ سب کے سب گندے شیطانی عمل ہیں) منافقین کے متعلق فرمایا (سیحلفون باللہ لکم اذا انقلبتم الیھم لتعرضوا عنہم فاعرضوا عنہم انھم رجس۔ تمہاری واپسی پر تمہارے سامنے قسمیں کھائی گے تاکہ تم ان سے صرف نظر کرو، تو بیشک تم ان سے صرف نظر ہی کرلو کیونکہ یہ ایک گندگی ہیں) اللہ تعالیٰ نے منافقین کو رجس کہہ کر پکارا جس طرح مشرکین کو نجس کا نام دیا۔[2]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. مفردات القرآن، امام راغب اصفہانی
  2. احکام القرآن الجصاص ابو احمد بن علی رازی