نجم آفندی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
Najm Afandi
Najm-Afandi-Portrait.jpg
Najm-Afandi-Portrait
پیدائش Mirza Tajammul Hussain
1893ء 19 ستمبر 1923(1923-09-19)
آگرہ، برطانوی ہندوستان
وفات اگست 19، 2007(2007-80-19) (عمر  83 سال)
کراچی
رہائش Sakhi Hassan-GraveYard
قومیت بھارتی, پاکستانی
نسل ہندوستانی
پیشہ اردو شاعر, اردو مصنف, شاعر اہل بیت
مذہب اسلام
شعبۂ عمل مذہبی شاعری (مرثیہ, نوحہ)، مرثیے اور جدید اصناف شاعری میں نئے تجربے
کارہائے نماياں

نوحۃ: 'اے وائے نہر القاما' 'راج دلارا زہرہ کا'

Books: Kainat-e-Najm, Khosha e Anjum, Huan Najm, Rubaiyat Najam Afandi، کلیات کائنات نجم (دو جلدوں پر مشتمل کلیات)
نجم آفندی
Najm-Afandi-Portrait.jpg 

Fleche-defaut-droite-gris-32.png بزم آفندی
سہیل آفندی (مذہبی مقرر اور عالم) Fleche-defaut-gauche-gris-32.png
معلومات شخصیت
پیدائش سنہ 1893[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
آگرہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات سنہ 1975 (81–82 سال)[1]  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
کراچی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت Flag of India.svg بھارت
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ مصنف،  شاعر  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر
دستخط
Signature-Najm-Afandi.jpg 
دستخط Signature-Najm-Afandi.jpg

نجم آفندی اردو کے نامور مرثیہ گو شاعر تھے۔ وہ اردو شاعری کے جدید اصناف شاعری میں نئے تجربوں کے لیے بھی شہرت رکھتے تھے۔

نام اور خاندان[ترمیم]

نجم آفندی کا اصل نام میرزا تجمل حسین تھا۔ وہ 1893ء میں آگرہ کے ایک گھرانے میں پیدا ہوئے تھے[2]۔ ان کے والد بزم آفندی، دادا مرزا عباس علی ملیح، پردادا مرزا نجف علی بلیغ اور پردادا کے بھائی مرزا جعفر علی فصیح، سب شاعر تھے۔ مرزا جعفر علی فصیح کو حاجیوں کی خدمت کرنے پر سلطنت عثمانیہ کی جانب سے آفندی کا خطاب ملا اور یہی اس خاندان کے ناموں کا حصہ بن گیا تھا۔[3]

کلام کی قدر دانی[ترمیم]

خاندانی احوال کے زیر اثر نجم کم عمری سے شاعری کرنے لگے۔ انہوں نے اپنی مشہور نظم در یتیم لکھنؤ میں سنائی تھی۔ اس نظم پر بولی لگائی گئی تھی اور سب سے زیادہ بولی لگانے والے راجا راولپنڈی نے اسے 5,600 روپیوں میں خریدا تھا (جو 1910ء میں ایک چونکانے والی قیمت تھی)۔ رقم کی وصولی کے بعد نجم نے اسے یتیم خانے کے حوالے کر دیا تھا۔[4]

نئے اور ابھرتے ہوئے اصناف سخن کے تجربے[ترمیم]

ترقی پسند تحریک کے وجود میں آنے سے پہلے ہی نجم "کسان"، "مزدور کی آواز"، "ہماری عید" جیسے موضوعات کو اپنے شاعرانہ کلام کا حصہ بنا چکے تھے۔[4]

مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کرنا[ترمیم]

نجم اپنی زندگی کے بعد کے ایام میں خالصتًا مذہبی شاعری اور مرثیہ نگاری کے لیے خود کو وقف کر دیا تھا۔[4]

مجموعہ کلام[ترمیم]

نجم نے کئی مرثیے، نوحے، قصائد اور رباعیات لکھے تھے، جنہیں بعد میں کلیات کائنات نجم کے نام سے دو جلدوں میں شائع کیا گیا تھا۔[3]

نمونہ کلام[ترمیم]

شاعر ہوں جن کا نجم وہ ہیں وجہ کائنات
ممکن ہے تا ابد میرا نام و نشان رہے۔

ہجرت اور انتقال[ترمیم]

اپریل 1971ء میں نجم آفندی بھارت سے ہجرت کرکے پاکستان آ گئے۔ وہ کراچی میں بس گئے۔ تاہم 21 دسمبر 1975ء کو کراچی ہی میں ان کا انتقال ہو گیا۔ وہ سخی حسن کے قبرستان میں سپرد خاک ہوئے۔[2][3]

حوالہ جات[ترمیم]