نجم الحسن امروہوی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نجم الحسن امروہوی

معلومات شخصیت
تاریخ پیدائش 25 مئی 1863  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ پیدائش (P569) ویکی ڈیٹا پر
تاریخ وفات 18 اپریل 1938 (75 سال)  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں تاریخ وفات (P570) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
عملی زندگی
پیشہ فقیہ  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں پیشہ (P106) ویکی ڈیٹا پر

آیت اللہ العظمیٰ سید نجم الحسن تقوی، معروف بہ نجم الملة و الدین یا نجم العلماء ، برصغیر کے چند شیعہ مجتہدین اور مرجع تقلید میں سے ایک تھے ـ

ہندوستان کے شہر امروہہ کے رہنے والے تھے ـ

علامہ مفتی سید محمد عباس شوشتری کے شاگرد خاص اور داماد تھے ـ

ولادت[ترمیم]

آپ کی ولادت 6 ذی الحجہ سنہ 1279ھ کو امروہہ میں ہوئی ـ

آپ کے والد کا نام علی اکبر یا اکبر حسین تھا ـ

تعلیم[ترمیم]

آپ نے ابتدائی تعلیم خود امروہہ میں حاصل کی۔ اس کے بعد اعلیٰ دینی تعلیم کے لیے لکھنؤ چلے گئے۔ وہاں آپ نے ادبیات عرب کی تعلیم علامہ مفتی سید محمد عباس شوشتری سے حاصل کی اور فقہ کی تعلیم مولانا ابوالحسن ابن علی شاہ سے ـ

اس کے علاوہ علوم عقلیہ میں علامہ ابوالحسن ابن بندہ حسین سے کسب فیض کیا ـ

اس کے بعد خود مدرسہ مشارع الشرائع ( ناظمیہ ) میں تدریس میں مشغول ہو گئے ـ اور آخر حیات تک لکھنؤ میں ہی طلاب علوم دینیہ کی پرورش اور دین و مذہب کی خدمت سے وابستہ رہے ـ

اسی مقصد کی خاطر آپ نے لکھنؤ میں مدرسۃ الواعظین کی تاسیس کا فریضہ انجام دیا ـ

علامہ سید محسن امین عاملی نے لکھا ہے کہ آیت اللہ سید نجم الحسن، آیت اللہ سید محمد کاظم طباطبائی یزدی (صاحب کتاب عروۃ الوثقیآیۃ اللہ اسماعیل صدر، آیۃ اللہ عبداللہ مازندرانی اور آیۃ اللہ حسین ابن خلیل طبیب تہرانی جیسے متعدد فقہا کی جانب سے اجازہ روایت کے حامل تھے ـ [1]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی کی نگاہ میں[ترمیم]

علامہ شیخ آقا بزرگ تہرانی نے آپ کو عالم جلیل و کامل کہہ کر یاد کیا ہے نیز آپ کو لکھنؤ کے عظیم علما میں شمار کیا ہے :

”وھو من اعاظم العلماء بلکھنؤ“. [2]

تالیفات[ترمیم]

شیخ آقا بزرگ تہرانی کے بیان کے مطابق آپ کی مشہور تالیفات مندرجہ ذیل ہیں :

1: شریعة الاسلام : یہ کتاب اردو زبان میں آپ کے فتاوی کا مجموعہ اور رسالہ عملیہ تھی ـ [2]

2: سرادق عفت : شریعت اسلام میں حکم حجاب کے بارے میں اردو زبان میں ایک استدلالی کتاب ہے ـ [3]

3: نبوت و خلافت : نبوت و امامت کے بارے میں یہ کتاب بھی اردو زبان میں ہے اور انگریزی زبان میں بھی اس کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے ـ [4]

4: توحيد : اردو زبان میں اللہ کی توحید پر مشتمل ہے ـ اس کتاب کا تذکرہ آقا بزرگ تہرانی نے اپنی کتاب الذریعة میں دو مقام پر کیا ہے ـ نیز انگریزی اور گجراتی زبان میں بھی اس کتاب کا ترجمہ ہو چکا ہے ـ [5][6]

5: محاسن : داڑھی منڈانے کی حرمت پر مشتمل ہے ـ یہ کتاب بھی اردو زبان میں ہے ـ [7]

اولاد[ترمیم]

آقا بزرگ تہرانی نے آپ کے دو بیٹوں کا تذکرہ کیا ہے : علامہ سید محمد، جنھوں نے والد کے فتاوی کو کتابی شکل دے کر شریعۃ الاسلام کے نام سے موسوم کیا ـ

یہ کتاب اردو زبان میں طبع ہوئی ـ

دوسرے بیٹے علامہ سید محمد کاظم، جنھوں نے علامہ سید حسن صدر کی مشہور کتاب الشیعہ و فنون الاسلام کا اردو میں ترجمہ کیا ـ

آقا بزرگ تہرانی نے آپ کے دونوں بیٹوں کو فاضل کامل سے تعبیر کیا ہے ـ [2]

وفات اور مدفن[ترمیم]

17 صفر سنہ 1360ھ میں لکھنؤ میں ہی آپ کا انتقال ہوا ـ اور مدرسہ ناظمیہ لکھنؤ میں آپ کو دفن کیا گیا ـ

حوالہ جات[ترمیم]

  1. أعيان الشيعة (محسن امین عاملی)، ج: 10، صفحہ: 205
  2. ^ ا ب پ نقباء البشر فی القرن الرابع عشر، ج: 5، ص: 497
  3. الذريعة إلى تصانيف الشيعة (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 12، صفحہ: 164
  4. الذريعة إلى تصانيف الشيعة (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 24، صفحہ: 40
  5. الذريعة إلى تصانيف الشيعة (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 4، صفحہ: 483
  6. الذريعة إلى تصانيف الشيعة (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 23، صفحہ: 253
  7. الذريعة إلى تصانيف الشيعة (آقا بزرگ تہرانی)، ج: 20، صفحہ: 123