مندرجات کا رخ کریں

نخزمایہ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

تمام جانداروں کے اجسام خلیوں کے بنے ہیں جن میں جاندار کیمیائی ماده بھرا ہوتا ہے اسے نخزمایہ (انگریزی: Protoplasm پروٹوپلازم) کہتے ہیں۔ نخزمایہ حیات کا بنیادی ماده ہے اور عضویہ کے تمام افعال اسی کی بدولت ہوتے ہیں۔ اگرچہ خلیہ کافی عرصہ پہلے دریافت هو چکا تھا لیکن اس کے بعد بھی کچھ عرصہ تک کسی نے نخزمایہ پر غور نہیں کیا۔ نظریہ خلیہ پیش ہونے سے تقریباً تین سال قبل ڈجرڈن (Félix Dujardin) نامی ایک شخص نے چند سادہ جانداروں میں جیلی نما ماده دریافت کیا جسے اس نے سارکوڈ (Sarcode) کا نام دیا۔ اور اسی کو زندگی کا بنیادی ماده قرار دیا۔ 1846ء میں ایک ماہر نباتیات ہیوگو وان مول (Hugo Von Mohl) نے پودوں کے خلیوں میں ایک چکنے مادہ کا معائنہ کیا اور اسے نخزمایہ کا نام دیا۔ ١٨٦١ء میں میکس شلتسے (Max Schultze) نے اعلان کیا کہ سار کوڈ اعلیٰ حیوانات کی بافتوں میں بھی موجود ہوتا ہے۔ بعد کی تحقیقات سے یہ بات ظاهر ہو گئی کہ سارکوڈ اور نخزمایہ دراصل ایک ہی کیمیائی ماده ہے۔ تھامس ایچ ہکسلی (Thoms. H. Huxley) کے مطابق نخزمایہ حیات کی طبیعی بنیاد (Physical Basis of Life) ہے۔[1]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. معیاری حیوانیات ج١ ص٨