نذر محمد

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نذر محمد
کرکٹ کی معلومات
بلے بازیRight-hand bat
گیند بازیRight-arm off-spin
بین الاقوامی کرکٹ
قومی ٹیم
کیریئر اعداد و شمار
مقابلہ ٹیسٹ کرکٹ فرسٹ کلاس کرکٹ
میچ 5 45
رنز بنائے 277 2739
بیٹنگ اوسط 39.57 41.50
100s/50s 1/1 8/9
ٹاپ اسکور 124* 175
گیندیں کرائیں 12 486
وکٹ 5
بولنگ اوسط 51.00
اننگز میں 5 وکٹ
میچ میں 10 وکٹ
بہترین بولنگ
کیچ/سٹمپ 7/- 40/-
ماخذ: Cricinfo.com

نذر محمد (انگریزی: 5 مارچ 1929ء تا 12 جولای 1996) ایک پاکستانی کرکٹر ہے۔[1] 1947 میں برصغیر کی تقسیم سے پہلے ہی نذر محمد کی بیٹنگ کا شہرہ ہو گیا تھا۔اسلامیہ ہائی سکول بھاٹی گیٹ میں تعلیم کے دوران وہ لاہور کے مشہور ممدوٹ کرکٹ کلب سے وابستہ ہو گئے۔ اسلامیہ کالج ریلوے روڈ میں داخلے کے بعد ان کی صلاحیتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ یہ تعلیمی ادارہ کرکٹ کا گڑھ تھا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کے پہلے کپتان عبدالحفیظ کارداراور وکٹ کیپر امتیاز احمد بھی اسلامیہ کالج کے طالب علم تھے۔سنہ 1945 میں اسلامیہ کالج میں نذر محمد کو قائد اعظم محمد علی جناح سے ملنے کا شرف حاصل ہوا، وہ واحد پاکستانی ٹیسٹ کرکٹ کھلاڑی ہیں جن کی بانیِ پاکستان کے ساتھ تصویر موجود ہے۔ تقسیم سے قبل گورنمنٹ کالج اور اسلامیہ کالج کے درمیان انٹرکالجیٹ مقابلوں کا کانٹے دار فائنل لاہور کی سماجی زندگی کا اہم واقعہ تھا۔ عوام اسے بڑے جوش وخروش سے دیکھنے آتے۔کالج اور یونیورسٹی کرکٹ سے باہر بھی نذر محمد کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار کا بھرپور موقع ملا اور انھوں نے برصغیر کے اہم کرکٹ مراکز، بمبئی، دہلی، کراچی اور پٹیالہ میں اپنی بیٹنگ کے جوہر دکھائے۔

ناردن انڈیا کرکٹ ایسوسی ایشن کی طرف سے رانجی ٹرافی کھیلے۔ مشہور کرکٹ ٹورنامنٹ پینٹینگولر میں مسلمان کرکٹ ٹیم کی نمائندگی کی۔ نذر محمد کا شمار ان سٹائلش بیٹسمینوں میں ہوتا جو بولر کو خاطر میں نہ لاتے اور اپنے نیچرل انداز میں کھیلتے۔ مایہ ناز فاسٹ بولر فضل محمود نے اپنی آپ بیتی فرام ڈسک ٹو ڈان میں دو واقعا ت کا ذکر کیا ہے جن سے نذر محمد کی دلاوری کا خوب اندازہ ہوتا ہے۔انھوں نے لکھا ہے کہ سنہ 1946 میں آسٹریلین سروسز الیون کے خلاف میچ میں نذر محمد نے نارتھ زون کی طرف سے کھیلتے ہوئے لاہور جم خانہ کرکٹ گرانڈ میں معروف آسٹریلیوی فاسٹ بولر کیتھ ملر کے بانسر پر شاندار ہک شاٹ کھیلا تو گیند پویلین کے کلاک سے لگا اور اس کا شیشہ ریزہ ریزہ ہو گیا۔ ملر اس شاٹ پر بیٹسمین کو داد دیے بغیر نہ رہ سکے۔فضل محمود نے تقسیم سے پہلے ایک انٹر یونیورسٹی ٹاکرے کا حوالہ بھی دیا ہے۔ ڈرنگ سٹیڈیم بہاولپور میں فاسٹ بولر دتو پھڈکر کا بانسر ان کے ماتھے پر لگا اور انھیں میدان سے باہر جانا پڑا، طبی امداد ملنے کے بعد وہ دوبارہ کھیلنے کے لیے بیتاب ہو گئے۔غصے میں خود کو برا بھلا کہتے رہے کہ معمولی سے بولر کے ہاتھوں وہ زخمی ہو گئے۔ وکٹ گری تو میدان میں دوبارہ اترے اور پھڈکرکو اینٹ کا جواب پتھر سے دیا، مراد یہ کہ اس کے بانسروں کو بانڈری لائن کی راہ دکھائی۔

1952 ء میں پاکستان کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس ملا تو امید تھی کہ اسے نذر محمد کے تجربے اور صلاحیت سے فائدہ پہنچے گا۔ حنیف محمد کی دریافت سے انھیں ایک اچھا اوپننگ پارٹنر بھی مل گیا۔ 1950 کی دہائی کا پاکستانی کرکٹ سکواڈحنیف محمد نے سنہ 2015 میں ایکسپریس اخبار کو انٹرویو میں بتایا:نذر محمد میری بڑی ہمت بندھاتے۔ میں سکول بوائے تھا، اس لیے بڑا بن کر حوصلہ بڑھاتے۔ پنجابی میں کہتے گھبرانا نئیں، مینوں ویکھیں ، میں کس طراں کھیڈنا واں۔

سنہ 1952 ء میں پاکستان ٹیم دورہ ہندوستان پر روانہ ہوئی۔ دہلی کے فیروز شاہ کوٹلہ سٹیڈیم میں پاکستان ٹیم نے اپنا پہلا ٹیسٹ کھیلا۔ اپنے ملک کی طرف سے نذر محمد نے پہلی گیند کھیلی۔ پہلا رن بنایا۔ میچ پاکستان ہار گیا لیکن ہمت نہ ہاری۔دوسرا ٹیسٹ لکھنئو میں تھا۔ پاکستان نے یہ میچ ایک اننگز سے جیت کر ٹیسٹ میں اپنی پہلی کامیابی حاصل کرلی۔ نذر محمد نے پاکستان کی طرف سے پہلی ٹیسٹ سنچری بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔ اس پر بس نہ ہوئے اور بیٹ کیری کیا۔ ایک اور منفرد ریکارڈ یہ بنایا کہ میچ میں تمام وقت گرانڈ میں موجود رہنے والے دنیا کے پہلے کھلاڑی بنے۔ نذر محمد کے بیٹ کیری کرنے کے 30 برس بعد ان کے فرزند مدثر نذر نے ہندوستان کے خلاف سنچری بنائی اور باپ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے بیٹ کیری بھی کیا۔ ٹیسٹ کرکٹ میں کسی اور باپ بیٹے نے یہ اعزاز حاصل نہیں کیا۔

نذر محمد کی ایک خوبی جو پاکستانی کھلاڑی ہونے کے ناتے اور بھی زیادہ اہمیت اختیار کرجاتی ہے، وہ ان کا عمدہ فیلڈر ہونا تھا۔ وہ گلی پوزیشن کے بہت اچھے فیلڈر تھے۔ ہندوستان کے خلاف سیریز کا آخری ٹیسٹ کلکتہ میں ہوا جس کی پہلی اننگز میں نذر محمد نے 55 اور دوسری اننگز میں 47 رنز بنائے۔ اس وقت کون سوچ سکتا تھا کہ یہ ان کا آخری ٹیسٹ ثابت ہوگا۔ اس وقت یہی نظر آرہا تھا کہ ٹیم کو ایک لمبا عرصہ ان کا ساتھ میسر رہے گا لیکن ایک حادثے نے ان کا سفر کھوٹا کر دیا۔ وہ صرف پانچ ٹیسٹ میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرسکے۔

نور جہاں کے ساتھ، نذر محمد کے مراسم شاہ نور سٹوڈیو میں پنجابی فلم چن وے کی فلم بندی کے دوران استوار ہوئینذر محمد کے ساتھ جو حادثہ ہوا اس کا تعلق کرکٹ سے نہیں عشق کے میدان سے تھا۔ وہ کوئی یوں ہی سی تو نہ تھی جس نے نذر محمد کو مٹا ڈالا تھا بلکہ ملکہ ترنم نور جہاں تھیں۔ اس معرکہ عشق میں دونوں طرف تھی آگ برابر لگی ہوئی۔کرکٹ میں نذر محمد کے کمالات اپنی جگہ لیکن ان کی آواز بھی سریلی تھی۔ دورہ ہندوستان میں انھوں نے ایک محفل میں آواز کا جادو جگایا تو معروف گلوکار طلعت محمود نے بھی ان کی آواز کو سراہا۔ نورجہاں کے ان کی طرف التفات کی ایک وجہ ان کی آواز بھی تھی۔ممتاز موسیقار فیروز نظامی ان کے بھائی تھے، اس لیے فلم نگری کی فضا ان کے واسطے اجنبی نہ تھی۔ نور جہاں کے ساتھ، نذر محمد کے مراسم شاہ نور اسٹوڈیو میں پنجابی فلم چن وے کی فلم بندی کے دوران استوار ہوئے، جہاں ان کا آنا جانا رہتا ۔ یہ فلم نور جہاں کے شوہر شوکت حسین رضوی بنا رہے تھے۔یہ 1953 ء  کا سال تھا۔ اس فلم کے مکمل ہونے کے بعد بھی دونوں پیار کی پینگیں بڑھاتے رہے۔کچھ عرصے بعد لاہور میں ہنگامے شروع ہو گئے۔ حالات اتنے بے قابو ہوئے کہ مارشل لا لگانا پڑا۔ شہر میں کرفیو بھی لگ گیا۔شیخ سعدی نے تو کہا ہے کہ دمشق میں ایک دفعہ ایسا قحط پڑا کہ لوگوں نے عشق کرنا چھوڑ دیا، لیکن لاہور میں کرفیو میں بھی کاروبارِعشق چلتا رہا، اسی لیے راجندر سنگھ بیدی نے کہا تھا: عشق کے لیے لاہور سے بہتر دنیا میں کوئی اور جگہ نہیں۔نور جہاں نے وہ پاس حاصل کر لیا، جو اگر کسی کے پاس ہوتا تو اسے دورانِ کرفیو نقل وحرکت کی اجازت ہوتی۔ لیکن برا ہو عشق کا جو چھپائے نہیں چھپتا۔

پاکستان کی کرکٹ ٹیم ہندوستان کا پہلا دورہ کر کے واپس آئی تو اس میں اوپننگ بیٹسمین نذر محمد کی بہت واہ واہ ہو رہی تھی۔ نذر محمد نے ٹیسٹ میچ میں اوپننگ کرنے کے بعد آخری کھلاڑی تک کے ساتھ کھیلنے کا ریکارڈ قائم کیا تھا اور پھر بھی آٹ نہیں ہوئے تھے۔ ہر طرف ان کے کھیل کی دھوم تھی۔ وہ فضل محمود کی طرح قومی ہیرو بن گئے تھے۔ خوش شکل اور مردانہ شخصیت کے مالک تھے۔ باتیں بہت دلچسپ کرتے تھے اور سب سے بڑھ کر یہ کہ موسیقی کے دلدادہ تھے اور خود بھی بہت سریلے تھے۔ سننے میں آیا کہ میڈم نور جہاں کی ان سے ملاقات ہوئی تو یہ سلسلہ باقاعدہ ملاقاتوں تک پہنچ گیا یہاں تک کہ دوسری جگہوں پر بھی ملاقاتیں ہونے لگیں۔ایک روز میڈم نور جہاں ان سے ملاقات کے لیے گئی ہوئی تھیں کہ کسی کھوجی نے شوکت صاحب کو خبر دے دی۔ شوکت صاحب آگ بگولا ہو کر مخبر کے ہمراہ گئے۔ اس گھر پر پہنچے تو میڈم نور جہاں وہاں موجود تھیں مگر نذر محمد کا نام و نشان تک نہ تھا۔

بعد میں معلوم ہوا کہ شوکت صاحب کے گرجنے کی آواز سنی تو نذر محمد نے مکان کی دوسری منزل سے چھلانگ لگا دی اور اپنا ایک بازو تڑوا بیٹھے۔ اس طرح پاکستان کی کرکٹ ٹیم ایک مایہ ناز کھلاڑی سے محروم ہو گئی۔نذر محمد ڈاکٹروں کے پاس جانے کی بجائے جراحوں اور پہلوانوں کے چکر میں رہے جس کی وجہ سے بازو کی ہڈی ہمیشہ کے لیے خراب ہو گئی اور وہ پھر کرکٹ نہ کھیل سکے(نذر محمد نے انگلینڈ میں سپیشلشٹ ڈاکٹر سے بھی علاج کرایا لیکن بازو اس قابل نہ ہو سکا کہ وہ کرکٹ جاری رکھ سکیں) البتہ انھوں نے اپنے فرزند مدثر نذر کی صورت میں پاکستانی کرکٹ ٹیم کو ایک نامور کھلاڑی کا تحفہ ضرور پیش کر دیا۔ ممتاز صحافی خالد حسن کے بقول نذر محمد پھر کبھی کرکٹ کا بلا نہ تھام سکا اور شاید پاکستان کی کرکٹ کے لیے یہ سب سے بڑا المیہ تھا۔

مزید دیکھیے[ترمیم]

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انگریزی ویکیپیڈیا کے مشارکین. "Nazar Mohammad".