نریش مہتا

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نریش مہتا
معلومات شخصیت
پیدائش 15 فروری 1922  ویکی ڈیٹا پر (P569) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شاجا پور ضلع  ویکی ڈیٹا پر (P19) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
تاریخ وفات 22 نومبر 2000 (78 سال)  ویکی ڈیٹا پر (P570) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
شہریت Flag of India.svg بھارت (26 جنوری 1950–)
British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند (–14 اگست 1947)
Flag of India.svg ڈومنین بھارت (15 اگست 1947–26 جنوری 1950)  ویکی ڈیٹا پر (P27) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
عملی زندگی
پیشہ مصنف  ویکی ڈیٹا پر (P106) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
پیشہ ورانہ زبان کھڑی بولی،  ہندی  ویکی ڈیٹا پر (P1412) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
کارہائے نمایاں ارنیہ  ویکی ڈیٹا پر (P800) کی خاصیت میں تبدیلی کریں
اعزازات
P literature.svg باب ادب

نریش مہتا (15 فروری 1922ء – 22 نومبر 2000ء) ہندوستانی ادیب، نئی کویتا تحریک کے اہم شاعر اور ہندی زبان کے جدید ناول نگار تھے۔

سوانح[ترمیم]

مہتا کی پیدائش 15 فروری 1922ء کو شاجاپور میں ہوئی۔ شپر، نرمدا اور گنگا کی گود میں ان کی پرورش ہوئی۔ ان کی نظموں میں ان جگہوں کی یادوں کی جھلک صاف دکھائی دیتی ہے۔ نریش مہتا اگے کی مرت کردہ ہندی کے جدید شاعروں کے دوسرے انتخاب "تار سپتک" 1951ء کے اہم شاعر ہیں۔ معاصر زندگی کو جدید حسیت کے ساتھ پیش کرنا ان کا امتیاز ہے۔ شعری مجموعہ "ارنیہ" پر 1988ء میں ساہتیہ اکادی انعام اور مجموعہ "جیتیا" پر 1992ء میں گیان پیٹھ اعزاز سے سرفراز ہوئے۔ نریش مہتا کی طویل نظم "وقت دیوتا" میں وقت کو پارکھ اور ظالب و جابر کی حیثیت سے پیش کیا گیا ہے۔ 1958ء میں انھوں نے شری کانت ورما کے ساتھ "کری" کے نام سے ایک رسالہ جاری کیا جس کا مقصد نئی کویتا تحریک کو مضبوط کرنا تھا۔ نریش مہتا اپنی نظموں میں ایک صوفی کی دردمندی کے ساتھ زمین اور انسان کی بھلائی اور سکھ کی دعا کرتے ہیں۔ ان کی کویتاؤں میں انسانی عظمت اور فطرت سے گہرا لگاؤ زرعی معاشرے کی طرف مراجعت کی خواہش اور عالمگیر انسانیت سے بے پناہ عقیدت کا اظہار ملتا ہے۔

نریش مہتا کو فطری مناظر سے بے پناہ دلچسپی ہے۔ نریش مہتا جدید ہندی کے اہم ناول نگار بھی ہیں، "دوبتے مستول" عورت کی ایک خاص نفسیات پر مبنی ہے۔ ایک عورت کئی مردوں سے محبت کا کھیل کھیلتی ہے۔ ناول میں سب کچھ کھول کھول کر بیان کر دیا ہے اس لیے اس کی ادبی قدر کم ہو گئی ہے۔ نریش مہتا کی پہچان "یہ پتھ بندھو تھا" جیسے ناول سے بنی جس میں جدید انسان کے داخلی تجربوں اور احساسات کی ترجمانی کی گئی ہے۔ یہ فنی اعتبار سے نہایت پختہ ناول ہے۔ "ندی لیشوی ہی" تخلیقی اعتبار سے تو جدید ہے لیکن اس میں رومانیت کا بھی اثر ہے۔

تصنیفات[ترمیم]

  • بولنے دو چیڑ کو، شعری مجموعہ
  • مہاپرستھان، شعری مجموعہ
  • سنشے کی ایک رات، شعری مجموعہ
  • بن پاکھی سنو، شعری مجموعہ
  • میرا سمریت اکانت، شعری مجموعہ
  • اتسوا، شعری مجموعہ
  • تم میرا مون ہو، شعری مجموعہ
  • ارنیہ، شعری مجموعہ
  • پچھلے دونوں ننگے پیر، شعری مجموعہ
  • آخر سمندر سے تاتپریہ، شعری مجموعہ
  • دیکھنا ایک دن، شعری مجموعہ
  • دھوم کیتو ایک شروتی، ناول
  • ندی لیشوی ہی، ناول
  • پرتھم پھاگن، ناول

حوالہ جات[ترمیم]

  • "नरेश मेहता (भारतीय साहित्य के निर्माता) نریش مہتا (بھارتی ادب کے نرماتا)".