نسیم بانو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search
نسیم بانو

معلومات شخصیت
پیدائش 4 جولائی 1916(1916-07-04)
دہلی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام پیدائش (P19) ویکی ڈیٹا پر
وفات جون 18، 2002(2002-60-18) (عمر  85 سال)
ممبئی  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں مقام وفات (P20) ویکی ڈیٹا پر
شہریت British Raj Red Ensign.svg برطانوی ہند
Flag of India.svg بھارت  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں شہریت (P27) ویکی ڈیٹا پر
مذہب اسلام
شوہر Ehsan-ul-Haq
اولاد سائرہ بانو (بیٹی)
سلطان احمد (بیٹا)
عملی زندگی
پیشہ اداکارہ
دور فعالیت 1935–1957
IMDb logo.svg
IMDB پر صفحات  خاصیت کی حیثیت میں تبدیلی کریں آئی ایم ڈی بی - آئی ڈی (P345) ویکی ڈیٹا پر

نسیم بانو (1916-2002) ایک بھارتی فلمی اداکارہ تھی. یہ نسیم کے نام سے پہچانی گئی . اس کو ملکہ خوبصورتی اور بھارتی فلم گھر کی پہلی سپر اسٹار خاتون کہا جاتا تھا۔[1] 1930 کی دہائی کے وسط میں اپنا اداکاری کا کیرئیر شروع کیا اور 1950 تک دہائی کے وسط تک جاری رکھا.1935 میں اس کی پہلی فلم "خون کا خون " سوہراب مودی کے ساتھ منیروا موویٹون بینر کے تحت ریلیز ہوئی. ان کے ساتھ اس نے کئی سالوں تک کام کیا. اس کی شہرت عروج پر 1939 میں فلم" پکار " جس میں اس نے ملکہ نور جہاں کا کردار ادا کیا, سے ہوئی. موسیقیار نوشاد کے مطابق, اس نے اپنی فلموں کے اشتہارات کی تشہیر پر اس کو نسیم عرف پری چہرہ کہا جانے لگا. وہ مقبول اداکارہ سائرہ بانو کی ماں اور مشہور زمانہ اداکار دلیپ کمار کی ساس تھی. وہ دہلی کے معزز امیر کبیر خاندان میں پیدا ہوئی. نسیم کے والد نواب عبد الواحید خان آف حسان پور تھے. نسیم کا نام روشن آرا بیگم تھا. روشن آراء نے کوئین میری اسکول دہلی سے تعلیم حاصل کی. اس کی والدہ شمشاد بیگم کی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی ڈاکٹر بنے. شمشاد بیگم, چھمیان بائی کے نام سے بھی مشہور تھی. ان دنوں گلوکاری سے بہت زیادہ آمدنی ہوتی تھی. ایک بار نسیم نے کہا کہ اس کی ماں نے اس سے زیادہ کمایا , جب کہ نسیم ان دنوں 3,500 ماہانہ تنخواہ لیا کرتی تھی. نسیم نے اپنی دلچسپی فلموں کی طرف ظاہر کی تھی. وہ جب بھی سلو چنہ کی فلم دیکھتی تو بہت تعریف کرتی. مگر اس کی ماں کو یہ شعبہ پسند نہیں تھا. بمبئی کے دورہ کے دوران نسیم نے فلم کی عکس بندی دیکھنے میں دلچسپی لی اور ایک نشت لی جو سہراب مودی کی فلم میں عکس بندی کے دوران اوپینل کھیلنے کے لیے تھی, مگر اس کی ماں نے انکار کر دیا, نسیم نے بھوک ہڑتال کر دی اور تب تک جاری رکھی جب تک اس کی ماں نے اس کو اجازت نہ دے دی. یہ کردار ادا کرنے کے بعد نسیم اپنی تعلیم جاری نہ رکھ سکی. سکول اس کی اداکاری دیکھ کر حیران تھا اور اس کو ایک کم پیشہ قرار دیا.

حوالہ جات[ترمیم]

  1. Haresh Pandya (4 ستمبر 2002)۔ "Naseem Banu First female superstar of Indian Cinema"۔ Guardian News and Media Limited۔ مورخہ 26 دسمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو شدہ۔ اخذ شدہ بتاریخ 10 اکتوبر 2014۔

بیرونی روابط[ترمیم]