مندرجات کا رخ کریں

نشر الطيب فى ذكر النبى الحبيب

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب
اردو ایڈیشن کا سرورق
مصنفاشرف علی تھانوی
اصل عنواننشر الطيب فى ذكر النبى الحبيب
ملکبرطانوی ہند
زباناردو
موضوعسیرت نبوی
صنفکلاسیکی
تاریخ اشاعت
1912
تاریخ اشاعت انگریری
2015
طرز طباعتطباعت
او سی ایل سی974511045
297.63 B

نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب اشرف علی تھانوی کی کلاسیکی اردو میں سیرت نبوی پر لکھی ہوئی کتاب ہے، جو 1911ء اور 1912ء کے دوران برصغیر میں وبا کے زمانے میں لکھی گئی۔[1] یہ کتاب 41 ابواب پر مشتمل ہے، جس میں محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو تمام جہانوں کے لیے رحمت قرار دیتے ہوئے ان کی سیرت، تعلیمات اور اخلاق کے مختلف پہلوؤں کو بیان کیا گیا ہے اور انسانیت پر آپ کے اثرات کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔[2]

مآخذ

[ترمیم]

مصنف نے خود بیان کیا ہے کہ نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب کی تالیف کے دوران انھوں نے صحاح ستہ اور شمائل ترمذی جیسی بنیادی کتب سے استفادہ کیا۔ اس کے علاوہ زاد المعاد، المواہب اللدنیہ اور سیرت کی معروف کتابوں، خصوصاً سیرت ابن ہشام سے بھی مواد اخذ کیا۔ مزید برآں مصنف نے عربی رسالہ شمیم الحبیب سے بھی وسیع پیمانے پر استفادہ کیا، یہاں تک کہ نشر الطیب کو بعض اعتبار سے اس کے مضامین کا ترجمہ قرار دیا جا سکتا ہے۔[3]

پس منظر

[ترمیم]

اشرف علی تھانوی، جو ایک معروف دیوبندی عالم اور مصنف تھے، نے یہ کتاب سیرت النبی پر اپنی محبت اور عقیدت کے اظہار کے لیے لکھی۔ اس میں انھوں نے پیغمبر اسلام حضرت محمد ﷺ کی حیات مبارکہ کے مختلف پہلوؤں کو نہایت ہی جامع اور منفرد انداز میں پیش کیا۔[4]

مواد

[ترمیم]

کتاب میں رسول اللہ ﷺ کی سیرت، اخلاق، عادات اور دیگر پہلوؤں کا ذکر موجود ہے۔ اشرف علی تھانوی نے قرآن و حدیث کی روشنی میں نبی اکرم ﷺ کی صفات اور ان کی زندگی کے مختلف واقعات کو بیان کیا ہے۔ کتاب کے موضوعات درج ذیل ہیں:

  • نبی اکرم ﷺ کی ولادت
  • اخلاق و عادات
  • تبلیغ اسلام کی جدوجہد
  • معجزات
  • وفات

یہ تمام موضوعات قارئین کے لیے نبی اکرم ﷺ کی حیات طیبہ کو بہتر طور پر سمجھنے میں مدد فراہم کرتے ہیں۔[5]

اہمیت

[ترمیم]

نشر الطیب فی ذکر النبی الحبیب کو اردو زبان میں سیرت نگاری کی کلاسک کتابوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ یہ کتاب نہ صرف علمی بلکہ روحانی نقطہ نظر سے بھی اہمیت کی حامل ہے اور مسلمانوں میں نبی اکرم ﷺ کی محبت کو بڑھانے کا ذریعہ بنتی ہے۔[6]

اشاعت اور ترجمے

[ترمیم]

یہ کتاب پہلی بار 1911ء میں شائع ہوئی اور اس کے بعد کئییی بار دوبارہ شائع کی گئی۔ اسے اردو کے علاوہ دیگر زبانوں میں بھی ترجمہ کیا گیا تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔[7]

دسمبر 1980ء میں اسلامی فاؤنڈیشن بنگلہ دیش نے اس کتاب کا پہلا بنگالی ترجمہ جے پھولیر خوشبوتے سارا جہان ماتوارا (যে ফুলের খোশবুতে সারা জাহান মাতোয়ারা؛ وہ پھول جس کی خوشبو نے پوری دنیا کو مسحور کر دیا) کے عنوان سے شائع کیا۔ یہ ترجمہ لال باغ شاہی مسجد کے محمد امین الاسلام نے کیا۔ کتاب کا انگریزی ترجمہ محمد سجاد یونس نے Remembering the Beloved Prophet (S) کے عنوان سے کیا۔

پزیرائی

[ترمیم]

محمد میاں صدیق کے مطابق یہ کتاب رسول اللہ محمد کی حیاتِ مبارکہ کے تمام اہم پہلوؤں کو نہایت مختصر، سادہ اور رواں انداز میں پیش کرتی ہے۔ اس کی زبان پیچیدگی سے پاک ہے، جبکہ ہر عنوان کے اختتام پر بیان کیے گئے اخلاقی نتائج کتاب کی افادیت میں مزید اضافہ کرتے ہیں۔[8]

ابوالخیر کشفی کے مطابق اس کتاب میں ایسی جامع اور اہم احادیث شامل کی گئی ہیں جو رسول اللہ محمد کے فضائل، معاشرتی آداب اور روزمرہ معمولات پر روشنی ڈالتی ہیں۔[9]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ Muhammad Ismail Siddiqui۔ Talifat-e Ashrafiyyah (PDF)۔ India۔ ص 14
  2. ↑ Muhammad Fakharuddin (30 Jun 2020). "An Analytical Study of the Nashr al-Tīb fi Zikr-un-Nabi Al-Habib". Al-Amīr (بزبان انگریزی). 1 (1): 56–68. ISSN:2790-9328.
  3. ↑ Khanam 2018, p. 80
  4. ↑ https://www.rekhta.org/ebooks/nashr-at-teeb-ashraf-ali-thanvi-ebooks
  5. ↑ https://www.worldcat.org/title/nashr-at-teeb-fi-zikr-an-nabi-al-habib/oclc/63908627
  6. ↑ https://archive.org/details/nashr-altib
  7. ↑ https://catalogue.nla.gov.au/Record/3330456[مردہ ربط]
  8. ↑ Kehkashan Khanam (2018)۔ Research Study of the Urdu Books on Seerah in Twentieth Century (PhD)۔ India: Department Of Sunni Theology, علی گڑھ مسلم یونیورسٹی۔ ص 80۔ hdl:10603/247655
  9. ↑ Ishtiaque Ahmad (2020)۔ Ulama E Deoband Ki Swaneh Umriyon Ka Tanqeedi Tajziya Azadi Se Qabl (PhD)۔ India: Department of Urdu, مولانا آزاد نیشنل اردو یونیورسٹی۔ ص 58۔ hdl:10603/338413