مندرجات کا رخ کریں

نصیحت

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

نصیحت ایک ایسا عمل ہے جس میں ایک شخص دوسرے شخص یا کسی گروہ کو کسی مسئلے کے حل، فیصلہ کرنے یا کسی صورتِ حال کو بہتر طریقے سے سنبھالنے کے لیے رائے، رہنمائی یا سفارش دیتا ہے۔ آسان الفاظ میں نصیحت وہ بات ہے جو کسی کو درست سوچنے، صحیح بات کہنے یا اچھا عمل کرنے کی طرف رہنمائی دے۔

نصیحت کا مفہوم

[ترمیم]

لغوی معنی: لفظ نصیحت، نصح سے نکلا ہے۔ عربی زبان میں اس کا مطلب اخلاص، خلوص اور صفائی ہے۔ جیسے شہد کو صاف کرنا بھی نصح العسل کہا جاتا ہے۔ [1]اس لحاظ سے نصیحت کا مطلب ہے کسی کے لیے خیر خواہی اور بھلائی کی نیت رکھنا اور اسے درست راستہ بتانا۔ [2]

سماجی علوم میں نصیحت

[ترمیم]

سماجی علوم میں نصیحت اور مشورہ دینا ایک اہم موضوع ہے۔ ماہرینِ نفسیات، معیشت، انتظام، فیصلہ سازی، تنظیمی رویہ، انسانی وسائل اور انسانی رابطے کے میدانوں میں اس پر تحقیق کی جاتی ہے۔ تحقیق میں یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ لوگ کس طرح مشورہ دیتے اور قبول کرتے ہیں اور اس میں مردوں اور عورتوں کے رویوں میں کیا فرق ہوتا ہے۔ [3]

اسلام میں نصیحت

[ترمیم]

اسلام میں نصیحت کو بہت اہم مقام حاصل ہے۔ شریعت کے مطابق نصیحت کا مطلب ہے خلوص کے ساتھ کسی کے لیے خیر چاہنا اور اس کی بھلائی کے لیے رہنمائی کرنا۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “الدين النصيحة” یعنی دین سراسر نصیحت ہے۔ جب پوچھا گیا کہ کس کے لیے؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا: اللہ کے لیے، اس کے رسول کے لیے، اس کی کتاب کے لیے، مسلمانوں کے حکمرانوں کے لیے اور عام مسلمانوں کے لیے۔ [4][5] .[6]

اس کا مطلب یہ ہے کہ: اللہ پر ایمان اور اس کی اطاعت کی جائے۔ رسول ﷺ کی تعلیمات کو مانا جائے۔ قرآن کی پیروی کی جائے۔ مسلمانوں کے حکمرانوں کی حق بات میں مدد کی جائے۔ عام مسلمانوں کے ساتھ محبت، خیر خواہی اور رہنمائی کی جائے۔ اسی طرح ایک حدیث میں ہے: “جب تم سے کوئی نصیحت طلب کرے تو اسے نصیحت دو۔” (مسلم)

نصیحت اور طعنہ (تعییر) میں فرق

[ترمیم]

امام ابن رجبؒ کے مطابق نصیحت اور تعییر میں یہ بات مشترک ہے کہ دونوں میں کسی انسان کا ایسا ذکر کیا جاتا ہے جو اسے ناپسند ہو۔ اسی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان دونوں میں فرق سمجھنے میں مشکل ہوتی ہے۔ اصل فرق نیت اور مقصد میں ہوتا ہے۔ اگر کسی کا عیب اس لیے بیان کیا جائے کہ اس کی برائی، عیب یا کمی ظاہر کی جائے تو یہ حرام ہے اور اسے تعییر یا طعنہ کہا جاتا ہے۔ لیکن اگر کسی کا عیب اس لیے بیان کیا جائے کہ اس میں مسلمانوں کی مصلحت یا بھلائی ہو اور مقصد اصلاح ہو تو یہ منع نہیں بلکہ بعض اوقات پسندیدہ عمل ہوتا ہے۔ [7]

اسی طرح ناصح اور رسوا کرنے والے میں بھی فرق ہے: ناصح اپنے بھائی کی بھلائی چاہتا ہے اور اس کا مقصد اس کی غلطی کو دور کرنا اور اسے صحیح راستہ دکھانا ہوتا ہے۔ جبکہ رسوا کرنے والا شخص دوسروں میں برائی پھیلانا چاہتا ہے اور اپنے بھائی کو شرمندہ یا بدنام کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس طرح حقیقی نصیحت وہ ہے جس کا مقصد اصلاح اور خیر خواہی ہو، جبکہ تعییر کا مقصد عیب ظاہر کرنا اور تکلیف پہنچانا ہوتا ۔

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. كشاف اصطلاحات الفنون|1744
  2. تاج العروس من جواهر القاموس ، مرتضى الزبيدي ، مادة (نصح) ج 4 ص 230 .
  3. Bonaccio, S., & Dalal, R. S. (2006). Advice taking and decision-making: An integrative literature review, and implications for the organizational sciences. Organizational Behavior and Human Decision Processes, 101, 127-151.
  4. Burleson, B. R., & MacGeorge, E. L. (2002). Supportive communication. In M. L. Knapp & J. A. Daly (Eds.), Handbook of interpersonal communication (3rd ed., pp. 374-424). Thousand Oaks, CA: Sage.
  5. MacGeorge, E. L., Feng, B., & Thompson, E. R. (2008). "Good" and "bad" advice: How to advise more effectively. In M. T. Motley (Ed.), Studies in applied interpersonal communication (pp. 145-164). Thousand Oaks, CA: Sage.
  6. MacGeorge, E. L., Graves, A. R., Feng, B., Gillihan, S. J., & Burleson, B. R. (2004). The myth of gender cultures: Similarities outweigh differences in men’s and women’s provision of and responses to supportive communication. Sex Roles, 50, 144-175.
  7. الفرق بين النصيحة والتعيير ،ابن رجب ،1 / 7