نصیر سومرو

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
(نصیرسومرو سے رجوع مکرر)
Jump to navigation Jump to search
نصیر سومرو
نصیر سومرو.jpg
نصیر سومرو کتاب وصول کرتے ہوئے
پیدائش نصیر احمد سومرو
28 مارچ 1964(1964-03-28)ء

ہنگورجا، ضلع خیرپور، سندھ، پاکستان
قلمی نام نصیر سومرو
پیشہ مصنف، شاعر، صحافی
زبان اردو، سندھی، انگریزی
قومیت Flag of پاکستانپاکستان
نسل سندھی
تعلیم بیچلر آف انجینئرنگ
مادر علمی مہران یونیورسٹی آف انجینئری اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو، پاکستان
اصناف شاعری، نثر نگاری، کالم نگاری، تنقید، لسانیات
اولاد دو بیٹے اور ایک بیٹی

نصیرسومرو (پیدائش: 28 مارچ 1964ء) ہنگورجا، ضلع خیرپور سندھ، پاکستان میں پیدا ہونے والے انجینئر، صحافی، شاعر، نثر نگار، نقاد اور کالم نگار ہیں۔[1]

حالات زندگی[ترمیم]

نصیرسومرو 28 مارچ 1964ء میں مولانا اللہ بخش سومرو (1923ء - 2008ء) کے گھر ہنگورجا، ضلع خیرپور، سندھ، پاکستان میں پیدا ہوئے۔ ابتدائی تعلیم اپنے والد مولانا اللہ بخش سومرو سے حاصل کی۔ 1980ء میں میٹرک گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول ہنگورجا ضلع خیرپور سے پاس کیا۔ انٹرمیڈیٹ (پری انجینئری) گورنمنٹ ڈگری کالج كنڈيارو سے امتیازی نمبروں سے پاس کرنے کے بعد انہوں نے مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی، جامشورو میں داخلہ لیا اور بیچلر آف انجینئری (مٹلرجی) کی ڈگری سال 1989ء-1984ء میں امتیازی نمبروں سے حاصل کی۔[2]

ملازمت[ترمیم]

1990ء سے 2000ء تک پاکستان اسٹیل ملز میں خدمات انجام دیں۔[2]

ادبی خدمات[ترمیم]

نصیرسومرو بیک وقت سندھی اوراردو زبان میں شاعری کرتے ہیں۔ آپ کی اب تک پانچ کتابیں شائع ہو چکی ہیں جن میں تین شاعری، ایک تنقید، ایک شاعری و نثر میں ہے۔ اس کے علاوہ وہ کالم بھی لکھتے ہیں۔ آپ کے کالم روزنامہ جہان پاکستان، روزنامہ کاوش اور روزنامہ ہلال پاکستان (سندھی) میں شائع ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ نے اوکسفرڈ انگلش-سندھی ڈکشنری کے پروجیکٹ میں بطور نائب مدیر و پروف ریڈر کام کیا۔[2]

نمونۂ کلام[ترمیم]

غزل

کچھ کہیں کچھ سنیں آؤ بیٹھیں کہیں خواب پھر سے بُنیں آؤ بیٹھیں کہیں
منزلوں کے نشاں مٹ گئے گرد میں کیسے رستہ چنیں آؤ بیٹھیں کہیں
کچھ نہ تھے کچھ نہیں کچھہ نہ ہوں گے کبھی آس ہے کچھ بنیں آؤ بیٹھیں کہیں
ناچنا ہے اگر ایک دھن پر ہی کیوں اور بھی ہیں دھنیں آؤ بیٹھیں کہیں
کھو گئے تھے تلاشِ خودی میں نصیر اب نہیں الجھنیں آؤ بیٹھیں کہیں

شعر

کتابِ ذات ہو کہ لقائے ماہ و انجم نصیر سرِ ورق کوئی اور ہے پسِ ورق کوئی اور

غزل

اب خودی کو کیا ہوا ویسی نہیں سرخوشی کو کیا ہوا ویسی نہیں
شب وہی تاریک ہے ظلمات کی روشنی کو کیا ہوا ویسی نہیں
بے وفا بادل چلو اپنی جگہ تشنگی کو کیا ہوا ویسی نہیں
جی رہے ہیں کم نہیں یہ حوصلہ زندگی کو کیا ہوا ویسی نہیں

غزل

مکاں نے زماں سے کہا بھی نہیں تبدل کا طوفاں تھما بھی نہیں
یہ ادراک لولاک بے باک دیکھ سفر ارتقا کا رکا بھی نہیں
گھنی رات جگنو حسیں چاندنی سحر سے تقابل ذرا بھی نہیں
گذرتا ہے لمحہ یہ کہتا ہوا خودی گر نہیں پھر خدا بھی نہیں
جو دیکھیں تو بکھرے ہوئے سارے رنگ جو سوچیں تو کوئی جدا بھی نہیں
بدلتے رہے دہر کے ساتھ ہم کہا بھی نہیں کچھ سنا بھی نہیں
یہ کس طرز کی رہگذر ہے نصیر کہ منزل کہاں ہے پتا بھی نہیں

تخلیقات[ترمیم]

نصیر سومرو کی مندرجہ ذیل تصانیف شائع ہو چکی ہیں۔

  1. پرھ فٹی جا ماک فڑا
  2. ورکھا نین وسن
  3. جل تی کنول جیئن
  4. شاعراٹا ویچار
  5. پنو پنو پڑلاءُ
  6. ورھین جا ورلاپ

مزید دیکھیے[ترمیم]

  • سومرہ
  • ہنگورجا
  • انسائیکلوپیڈیا سندھیانا (سندھی) جلد ہشتم، سندھی لینگویج اتھارٹی، حیدرآباد
  • سندھی ادب کی تاریخ کا جدید مطالعہ (سندھی)، مختیار احمد ملاح، کاٹھیاواڑ اسٹور کراچی، 2014ء

حوالہ جات[ترمیم]

  1. انسائیکلوپیڈیا سندھیانا (سندھی) جلد ہشتم، ص 219،سندھی لینگویج اتھارٹی، حیدرآباد سندھ
  2. ^ ا ب پ نصیر سومرو بلاگ پوسٹ، کراچی