نظام الدین اسیر ادروی

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
Jump to navigation Jump to search

نظام الدین اسیر ادروی
ذاتی
پیدائش1926 (عمر 93–94 سال)
مذہباسلام
فرقہسنی
فقہی مسلکحنفی
تحریکدیوبندی
بنیادی دلچسپیتاریخ
قابل ذکر کامتاریخ جمعیت علمائے ہند, تحریک آزادی اور مسلمان, کاروان رفتہ
مادر علمیمدرسہ شاہی، مرادآباد
بانئمدرسہ دار السلام ادری
مرتبہ

نظام الدین اسیر ادروی بھارتی ادیب، مصنف ، مؤرخ اور دیوبندی مکتبہ فکر کے عالم ہیں. تاریخ جمعیت علمائے ہند، مآثر شیخ الاسلام، شیخ الھند حیات اور کارنامے، آپ کی مشہور تصانیف ہیں.[1][2]

پیدائش اور تعلیم[ترمیم]

اسیر ادروی 1926 میں مئو کے علاقہ ادری میں پیدا ہوئے. ابتدائی تعلیم کے لیے مدرسہ فیض الغرباء ادری میں داخل ہوئے اور پھر مفتاح العلوم کا رخ کیا اور حبیب الرحمن اعظمی، ظاہر الحق نشاط سیمابی اور مولانا عبد اللطیف نعمانی کی نگرانی میں تعلیم حاصل کی [3][4] پھر مولانا اسیر ادروی احیاء العلوم مبارکپور گئے اور وہاں شکر اللہ مبارکپوری بشیر احمد مظاہری، محمد عمر مظاہری اور مفتی محمد یاسین سے کسب فیض کیا، آپ نے مشکات مولانا عبدالرشید الحسینی اور جلالین قاری ریاست علی سے پڑھی[3] اسیر ادروی دارالعلوم دیوبند میں داخلہ نہیں لے پائے جس کی وجہ سے ان کو مدرسہ شاہی مرادآباد کا رخ کرنا پڑا اور وہیں سے 1942 دورہ حدیث کی تکمیل کی، آپ نے صحیح بخاری مولانا سید فخرالدین احمد، صحیح مسلم مولانا اسماعیل سنبھلی اور ترمذی مولانا میاں دیوبندی سے پڑھی[3]

درس و تدریس[ترمیم]

آپ نے اپنی زندگی کا بڑا عرصہ مدرسہ اسلامیہ بنارس میں تدریسی خدمات انجام دینے میں گزارا.

تصانیف[ترمیم]

نظام الدین اسیر ادروی کی نمایاں کتابیں:

  • حجتہ اسلام مولانا محمد قاسم نانوتوی: حیات اور کارنامے
  • مولانا رشید احمد گنگوہی: حیات اور کارنامے
  • شیخ الھند: حیات اور کارنامے
  • مآثر شیخ الاسلام
  • تاریخ جمعیت علماء ہند
  • فن اسماء الرجال
  • کاروان رفتہ
  • تحریک آزادی اور مسلمان

حوالہ جات[ترمیم]

  1. فکرِ انقلاب. اردو کے فروغ میں علمائے دیوبند کا 150 سالہ کردار (بزبان Urdu). Volume 5 (ایڈیشن Shumara 112(16 to 31January 2017)). آل انڈیا تنظیم علمائے حق. صفحہ 533. 
  2. عافی، عاقب انجم. "مولانا نظام الدین اسیر ادروی: حیات اور کارنامے". HindustanUrduTimes.com (بزبان Urdu). اخذ شدہ بتاریخ 20 ستمبر 2019. 
  3. ^ ا ب پ
  4. Dastan Na'tamam (ایڈیشن November, 2009). Kutub Khana Husainia, Deoband. صفحہ 13,21-28,331.